تازہ ترین  

شہباز شریف کی گرفتاری کے خلاف اپوزیشن کا قومی اسمبلی کے کے باہر احتجاج
    |     2 months ago     |    اداریہ
اسمبلی کے باہر اپوزیش کے ارکان جمع ہوئے جنہوں نے حکومت مخالف بینرز بھی اٹھا رکھے تھے۔ اپوزیشن ارکان نے شہباز شریف کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کیا ۔ واضح رہے کہ ادارہ نیب کی جانب سے 6 اکتوبر کو شہباز شریف کو لاہور کی احتساب عدالت میں پیش کیا اور عدالت نے 10 روزہ ریمانڈ منظور کرتے ہوئے شہباز شریف کو نیب کے حوالے کردیا تھا۔

اپوزیشن کی طرف سے پارلیمنٹ کے باہر فرضی ایوان میں پیش کردہ قرارداد میں 54 دنوں میں 28 سو ارب روپے کا نقصان پہنچانے، حکومت کی طرف سے پاک چین اقتصادی راہداری کو متنازع بنانے، عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی کڑی شرط مان کر قرض لینے سمیت دیگر امور پر مذمت کی گئی۔ اسی حوالے سے پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ یہ ایوان تاریخی اہمیت کا حامل ہے، سب کو معلوم ہے کہ اداروں نے فیصلہ کیا کہ صدر،وزیر اعظم ارکان پارلیمنٹ اور سینیٹر کون ہوں گے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہمارے صوبے میں ‘باپ’ پارٹی بنا کر بعض پارٹیوں کو توڑنے کا آغاز ہوا اور نواز شریف اور مریم کے خلاف فیصلہ دیا گیا۔ان کا کہناتھا کہ ’وہ‘ اس عمل میں مصروف ہیں کہ ڈرا دھمکا کر فارورڈ بلاک بنایا جائے -انہوں نے کہا کہ غیر جمہوری قوتوں نے انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن اور نگران حکومت کے اختیار اپنے ہاتھ میں لیے تھے۔

پختونخوا ملی عوامی پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر اور چیئرمین نیب سے استعفی کا مطالبہ کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناءاللہ نے نیب کا شہباز شریف کے خلاف کیس بے بنیاد قرار دیا اور کہاکہ شہباز شریف پر رقم لینے کا الزام غلط ہے ۔انہوں نے عندیہ دیا کہ احتجاج کی شنوائی نہ ہوئی تو احتجاج کو آگے بڑھائیں گے- رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بابر اعوان کے خلاف بھی انکوائری چل رہی ہے اسے گرفتار کیوں نہیں کیا- سینیٹر مشاہد حسین سید کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ کے قائد نواز شریف اوران کی صاحبزادی مریم نواز کو جنرل الیکشن کیلئے کال کوٹھڑی میں ڈالا گیا۔ مشاہد حسین کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت نے پارلیمنٹ پر حملے کی بھی لائیو کوریج کی اجازت دی مگر تحریک انصاف کی حکومت نے پارلیمنٹ ہاؤس جانے سے روک دیا جس کی ہم بھرپور مزمت کرنے پر مجبور ہیں۔ کچھ دن پہلے نیب لاہور نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو 5 اکتوبر کو صاف پانی اسکینڈل کے حوالے سے بیان کے لیے طلب کیا گیا تھا جہاں انہیں آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم اسکینڈل میں باضابطہ طور پر گرفتار کرلیا تھا۔





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved