تازہ ترین  

لمحہِ فکریہ
    |     2 months ago     |    کالم / بلاگ


اس جہاں میں ظلمات کے لامتناہی حد تک پھیلے ہوئے سلسلے میں  روشنی کی کمک پہنچانے والا چراغ کهیں جلتا ہوا دکھائی نہیں دیتا. سوچ و افکار میں ابھرتے ہوۓ شکوک و شبہات اور بے چینی کا سبب بننے والے سوالات کا جواب دینے والا کوئی صاحب علم کہیں بولتا ہوا سنائی نہیں دیتا .ٹھاٹھیں مارتے ہوئے اس انسانیت کے سمندر میں انسانیت کی صفات سے متصف کوئی صاحب اور فرد میسر نہیں. ایسے حالات پیدا ہوچکے ہیں کہ اگر حالات کی طرف نظر کی جائے تو ہم زندہ رہنے کے قابل نہیں ہیں. یہ سب آخر کیوں ہے؟کیا ہمارے پاس وہ مواد اور صراط نہیں؟ جس کے اختیار کرنے سے جنگل کے درندے بھی سر جھکائے اپنے پیٹھ کو سواری بنانے کے لیے بیتاب ہوتے ہیں. کیا وہ صلاحیتیں چھن گئیں ؟جن سے بحروں اور سمندروں پر حکم چلتا تھا. جن سے سوئے جہاں میں ایسا امن اور عدل قائم کیا کہ آج بھی ان کی مثالیں دے کرعالم کفر  اپنی اقوام میں امن و عدل کی جستجو پیدا کرنے کی تگ و دو میں ہے.وہ ایمان کی حرارت کہاں کھو گئی؟جس کی وجہ سے ساٹھ مجاھدین اسلام ساٹھ ہزار کے لشکر کو پیٹھ دیکھانے پر مجبور کرتے ہیں. وہ قوت اور طاقت کس زندان میں چلی گئی. جس کی وجہ سے قیصروکسریٰ میں ایک خوف اور دہشت پیدا ہوگئی تھی. یہ چند سوالات یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں. آخر کیا وجہ اور سبب ہے کہ نام تو وہی ہمارا ہے لیکن فعل اور ثمره فعل وه نہیں جو اولین میں تھا. یہی سوالات اگر کسی راہگیر سے اس کی توجہ دلانے کے لیے پوچھے جائیں تو وہ یقینا یہی کہے گا کہ حضرت انسان کی اپنی ذات اس کی اولین ترجیح ہے. مفاد دوسروں کی ہرزہ رسائی کا سبب ہے.دوسروں کی گردنوں پر چھری رکھ کر اپنا مطلب نکالنا اور مقصود تک پہنچنا اس کا جزو لاینفک بن چکا ہے.وہ اپنی سوچ اور فکر میں محور میں فقط "میں" کو ڈھونڈتا ہے.اسی کے گرد تانے بانے بنتا ہے اور نظر زاویہ کو اسی پر لگائے رکھتا ہے. وہ اپنے امتیازی وصف کو بھول کر حیوانیت کی طرف لوٹ آتا ہے اور ہر وہ فعل کر گزرتا ہے جو انسانیت کے منافی اور متضاد ہے.اس سچے اور ستھرے سچ کو اگر حضرت انسان تسلیم کرنے کے بعد اس کو جھوٹا ثابت کرنے کی سعی شروع کردے. تو یقینا وہ وقت دور نہیں جب یہ کہا جائے گا کہ کبھی اپنی فکر بھی کر لیا کریں. یہ بات اپنی جگہ بجا ہے کہ انسان پر سب سے پہلے اپنی ذات کی دیکھ بھال اور اس کے حقوق کی ادائیگی واجب اور لازم ہے. کیونکہ اگر یہ ذات ہی نہ رہی تو دوسرے حقوق کیا معنی رکھتے ہیں؟ مگر حضرت انسان نے اسے اپنی جگہ سے کھینچ کر مفاد کے معنیٰ میں رکھ دیا ہے اور اپنی جناب سے تصرف کرکے وہ ہیئت عطا کردی جو کسی طرح اس کے لائق نہ تھی.
مفاد اور مطلب کے بھنور سے نکل کر اسلحے اور تصویر اختیار کرکے اگر دنیا میں جلوہ گر ہوگے تو مثل شمس کہلاؤگے لیکن وہ شمش تو غروب ہو�





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved