تازہ ترین  

مراد رسول ﷺ فاتح روم و فارس سیدناعمربن خطابؓ
    |     1 month ago     |    اسلامی و سبق آموز

عظیم خلیفہ دوئم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کا واقعہ :​

۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ظلم و طغیان کے سیاہ بادلوں کی اس گھمبیر فضا میں ایک اور برق تاباں کا جلوہ نمودار ہوا جس کی چمک پہلے سے زیادہ خیرہ کن تھی، یعنی حضرت عمر رضی اللہ عنی مسلمان ہو گئے۔ انکے اسلام لانے کا واقعہ 6 سن نبوی کا ہے۔(63) وہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے صرف تین دن بعد مسلمان ہوئے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انکے اسلام لانے کے لئے دعا کی تھی۔ چنانچہ امام ترمذی نے ابن عمر سے روایت کیا ہے اور اسے صحیح بھی قرار دیا ہے۔ اسی طرح طبرانی نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اَ لّٰھُمَّ اَعِزَّ الاِسلاَمِ بِاَحَبِّ الَّجُلَینِ اِلَیکَ بعمر بن الخطاب اَو بِاَبِی جہل بن ہشام۔
ترجمہ: اے اللہ! عمر بن الخطاب اور ابو جہل بن ہشام میں سے جو شخص تیرے نزدیک زیادہ محبوب ہے اسکے ذریعے سے اسلام کو قوّت پہنچا۔
اللہ نے یہ دعا قبول فرمائی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسلمان ہو گئے۔اللہ کے نزدیک ان دونوں میں زیادہ محبوب حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے۔(64)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے سے متعلق جملہ روایات پر نظر ڈالنے سے واضح ہوتا ہے کے انکے دل میں اسلام رفتہ رفتہ جاگزیں ہوا۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان روایات کا خلاصہ پیش کرنے سے پہلے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مزج اور جذبات و احساسات کی طرف بھی مختصرا" اشارہ کر دیا جائے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنی تند مزاجی اور سخت خوئی کے لئے ،مشہور تھے۔مسلمانوں نے ایک طویل عرصے تک انکے ہاتھوں طرح طرح کی سختیاں جھیلی تھیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان میں متضاد قسم کے جذبات باہم دست و گریباں تھے،چنانچہ ایک طرف تو وہ آباؤ اجداد کی ایجاد کردہ رسموں کا بڑا احترام کرتے تھے اور بلا نوشی اور لہوولعب کے دلدادہ تھے لیکن دوسری طرف وہ ایمان اور عقیدے کی راہ میں مسلمانوں کی پختگی اور مصائب کے سلسلے میں انکی قوت برداشت کو خوشگوارحیرت و پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔پھر انکے اندر کسی بھی عقلمند آدمی کی طرح شکوک و شبہات کا ایک سلسلہ تھا جو رہ رہ کر ابھرتا تھا کہ اسلام جس چیز کی دعوت دے رہا ہے غالبا" وہی زیادہ برتر اور پاکیزہ ہے۔اسلئے انکی کیفیت دم میں ماشہ دم میں تولہ کی سی تھی کہ ابھی بھڑکے اور ابھی ڈھیلے پڑ گئے۔(65)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے متعلق تمام روایات کا خلاصہ مع جمع و تطبیق --------- یہ ہے کہ ایک دفعہ انہیں گھر سے باہر رات گزارنی پڑی۔وہ حرم تشریف لائے اور خانہ کعبہ کے پردے میں گھس گئے۔اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور سورۃ الحاقّہ کی تلاوت فرما رہے تھے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ قران کی تلاوت سننے لگے اور اسکی تالیف پر حیران رہ گئے۔ ان کا بیان ہے کہ میں نے اپنے جی میں کہا: " خدا کی قسم یہ تو شاعر ہے جیسا کہ قریش کہتے ہیں" لیکن اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔
إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ
وَمَا ھُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلا مَا تُؤْمِنُونَ
ترجمہ: یہ ایک بزرگ رسول کا قول ہے۔یہ کسی شاعر کا قول نہیں ہے۔تم لوگ کم ہی ایمان لاتے ہو۔
سورہ الحاقّہ: 40-41
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے ------- اپنے جی میں------- کہا: (اوہو) یہ تو کاہن ہے۔ لیکن اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
وَلا بِقَوْلِ كَاھِنٍ قَلِيلا مَا تَذَكَّرُونَ
تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ ۔(الیٰ اٰخر السورۃ)
ترجمہ: یہ کسی کاہن کا قول بھی نہیں،تم لوگ کم ہی نصیحت قبول کرتے ہو۔ یہ اللہ رب العالمین کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔
سورۃ الحاقّہ: 42-43 ( اخیر سورہ تک)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے اس وقت میرے دل میں ایمان جاگزیں ہو گیا۔(66)
یہ پہلا موقع تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں اسلام کا بیج پڑا، لیکن ابھی انکے اندر جاہلی جذبات، تقلیدی عصبیت اور آباءاجداد کے دین کی عظمت کے احساس کا چھلکا اتنا مضبوط تھا کہ نہاں خانہ دل کے اندر مچلنے والی حقیقت کے مغز پر غالب رہا، اس لئے وہ اس چھلکے کی تہہ میں چھپے ہوئے شعور کی پرواہ کئے بغیر اپنے اسلام دشمن عمل میں سرگرداں رہے۔ انکی طبعیت کی سختی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرط عداوت کا یہ حال تھا کہ ایک روز خود جناب محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کا کام تمام کرنے کی نیت سے تلوار لیکر نکل پڑے لیکن ابھی راستے ہی میں تھے کہ نُعیم بن عبداللہ الخام عدوی(67) سے یا بنی زہرہ (68) یا بنی مخزوم (69) کے کسی آدمی سے ملاقات ہو گئی۔ اس نے تیور دیکھ کر پوچھا: عمر ! کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا: محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے جا رہا ہوں۔ اس نے کہا محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرکے بنو ہاشم اور بنو زہرہ سے کیسے بچ سکو گے؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: معلوم ہوتا ہے تم بھی اپنا پچھلا دین چھوڑ کر بے دین ہو چکے ہو۔ اس نے کہا عمر! ایک عجیب بات نہ بتا دوں! تمہارے بہن بہنوئی بھی تمہارا پچھلا دین چھوڑ کر بے دین ہو چکے ہیں۔ یہ سن کر عمر غصّے سے بے قابو ہو گئے اور سیدھے بہن بہنوئی کا رخ کیا۔ وہاں انہیں حضرت خبّاب بن ارت رضی اللہ عنہ سورہ طہٰ پر مبنی ایک صحیفہ پڑھا رہے تھے اور قران پڑھانے کے لئے وہاں آنا جانا حضرت خبّاب رضی اللہ عنہ کا معمول تھا۔ جب حضرت خبّاب نے حضرت عمر کی آہٹ سنی تو گھر کے اندر چھپ گئے۔ ادھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بہن نے صحیفہ چھپا دیا؛ لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ گھر کے قریب پہنچ کر حضرت خبّاب کی قراءت سن چکے تھے؛ چنانچہ پوچھا یہ کیسی دھیمی دھیمی سی آواز تھی جو تم لوگوں کے پاس میں نے سنی تھی؟ انہوں نے کہا کچھ بھی نہیں، بس ہم آپس میں باتیں کر رہے تھے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: غالبا" تم دونوں بے دین ہو چکے ہو؟ بہنوئی نے کہا: اچھا عمر! یہ بتاؤ! اگر حق تمہارے دین کے بجائے کسی اور دین میں ہو تو؟ حضرت عمر کا یہ سننا تھا کہ اپنے بہنوئی پر چڑھ بیٹھے اور انہیں بری طرح کچل دیا۔ انکی بہن نے لپک کر انہیں اپنے شوہر سے الگ کیا تو بہن کو ایسا چانٹا مارا کہ چہرہ خون آلود ہو گیا۔ابن اسحٰق کی روایت ہے کہ ان کے سر میں چوٹ آئی۔بہن نے جوش غضب میں کہا: عمر! اگر تیرے دین کے بجائے دوسرا دین ہی برحق ہو تو؟
اَشھَدُ اَن لاَّ اِلٰہَ الاَ اللہ وَ اَشھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًارَّسُولُ اللہ۔
میں شہادت دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں شہادت دیتی ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔
یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر مایوسی کے بادل چھا گئے اور انہیں اپنی بہن کے چہرے پر خون دیکھ کر شرم و ندامت محسوس ہوئی، کہنے لگے؛ اچھا یہ کتاب جو تمہارے پاس ہے ذرا مجھے بھی پڑھنے کو دو۔ بہن نے کہا!" تم ناپاک ہو" اس کتاب کو صرف پاک لوگ ہی چھو سکتے ہیں۔ اٹو غسل کرو۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اٹھ کر غسل کیا پھر کتاب لی اور "بسم اللہ الرحمن الرحيم" پڑھی۔ کہنے لگے یہ تو بڑے پاکیزہ نام ہیں۔ اسکے بعد
طہٰ سے اِنَّنِي اَنَا اللَّہُ لا اِلَاَ اِلاَّ اَنَا فَاعْبُدْنِي وَاَقِمِ الصَّلاۃَ لِذِكْرِي۔( سورۃ طہٰ: 1-149)
تک قرا ءت کی کہنے لگے : "یہ تو بڑا عمدہ اور بڑا محترم کلام ہے۔ مجھے محمّد کا پتہ بتاؤ!۔ حضرت خبّاب رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے یہ فقرے سن کر باہر آگئے اور کہنے لگے: "عمر! خوش ہو جاؤ- مجھے امید ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعرات کی رات تمہارے متعلق جو دعا کی تھی کہ( اے اللہ! عمر بن ابن الخطاب یا ابو جہل بن ہشام کے ذریعے سے اسلام کو قوت پہنچا) یہ وہی ہے۔ اور اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوہ صفا کے پاس والے مکان میں تشریف فرما ہیں"۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار حمائل کی اور اس گھر کے پاس آکر دروازے پر دستک دی۔ ایک آدمی نے اٹھ کر دروازے کی دراز سے جھانکاتو دیکھا حضرت عمر تلوار حمائل کئے موجود ہیں۔لپک کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی، اور سارے سمٹ کر یکجا ہو گئے۔حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا: عمر ہیں۔ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے کہا: بس! عمر ہے دروازہ کھول دو۔ اگر وہ خیر کی نیت سے آیا ہے تو ہم اسے خیر عطا کریں گے اور اگر کوئی برا ارادہ لیکر آیا ہے تو ہم اسی کی تلوار سے اسکا کام تمام کر دینگے۔ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف فرما تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی تھی۔ وحی نازل ہو چکی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے۔بیٹھک میں ملاقات ہوئی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکے کپڑے اور تلوار کا پرتلا سمیٹ کر پکڑا اور سختی سے جھٹکتے ہوئے فرمایا: عمر! کیا تم اس وقت تک باز نہ آؤگے جب تک اللہ تعالیٰ تم پر بھی ویسی ہی ذلت ورسوائی اور عبرتناک سزا نازل نہ فرمادے، جیسی ولید بن مغیرہ پر نازل ہو چکی ہے؟ یا اللہ! یہ عمر بن خطاب ہے۔یا اللہ! اسلام کو عمر بن خطاب کے ذریعے قوت و عظمت عطا فرما۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حلقہ بگوش اسلام ہوتے ہوئے کہا:
اَشھَدُ اَن لاَّ اِلٰہَ الاَ اللہ وَ اَشھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًارَّسُولُ اللہ۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور یقینا"آپ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔
یہ سن کر گھر کے اندر موجود تمام صحابہ کرام نے اس زور سے تکبیر کہی کہ مسجد حرام والوں کو سنائی پڑی۔

امام ابن جوزی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ جب کوئی شخص مسلمان ہو جاتا تو لوگ اسکے پیچھے پڑ جاتے،اسے زدوکوب کرتے اور وہ بھی انہیں مارتا۔اسلئے جب میں مسلمان ہوا تو اپنے ماموں عاصی بن ہاشم کے پاس گیااور اسے خبر دی۔وہ گھر کے اندر گھس گیا، پھر قریش کے ایک بڑے آدمی کے پاس گیا۔شایدابو جہل کی طرف اشارہ ہے------- اور اسے خبر دی وہ بھی گھر کے اندر گھس گیا۔(72)
ابن ہشام اور ابن جوزی کا بیان ہے کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے تو جمیل بن معمر حجمی کے پاس گئے یہ شخص کسی بھی بات کاڈھول پیٹنے میں پورے قریش میں سب سے زیادہ ممتاز تھا۔حضرت عمر نے اسے بتایا کہ وہ مسلمان ہو گئے ہیں۔ اس نے یہ سنتے ہی نہایت بلند آواز سے چیخ کر کہا ابن خطاب کا بیٹا بے دین ہو گیا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسکے پیچھے ہی بولے: یہ جھوٹ کہتا ہے میں مسلمان ہو گیا ہوں۔بہر حال لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر ٹوٹ پڑے اور مار پیٹ شروع ہو گئی۔ لوگ حضرت عمر کو مار رہے تھے یہاں تک کہ سورج سر پر آگیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھک کر بیٹھ گئے، لوگ سر پر سوارتھے۔حضرت عمر نے کہا جو بن پڑے کر لو۔ خدا کی قسم اگر ہم لوگ تین سو کی تعداد میں ہوتے تو پھر مکّے میں یا تم ہی رہتے یا ہم ہی رہتے۔(73)
اسکے بعد مشرکین نے اس ارادے سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے گھر پر ہلّہ بول دیا کہ انہیں جان سے مار ڈالیں، چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر خوف کی حالت میں گھر کے اندر تھے کہ اس دوران ابو عمر و عاص بن وائل سہمی آگیا۔وہ دھاری دار یمنی چادر کا جوڑا اور ریشمی گوٹے سے آراستہ کرتا زیب تن کئے ہوئے تھا۔ اسکا تعلق قبیلہ سہم سے تھا اور یہ قبیلہ جاہلیت میں ہمارا حلیف تھا۔اس نے پوچھا کیا بات ہے؟ حضرت عمر نے کہا میں مسلمان ہو گیا ہوں اس لئے آپ کی قوم مجھے قتل کرنا چاہتی ہے۔عاص نے کہا: یہ ممکن نہیں،عاص کی بات سن کر مجھے اطمینان ہو گیا۔اسکے بعد عاص وہاں سے نکلا اور لوگوں سے ملا۔اس وقت حالت یہ تھی کہ لوگوں کی بھیڑ سے وادی کھچاکھچ بھری ہوئی تھی۔عاص نے پوچھا: کہاں کا ارادہ ہے؟ لوگوں نے کہا: یہی خطاب کا بیٹا مطلوب ہے جو بے دین ہو گیا ہے۔عاص نے کہا اسکی طرف کوئی راہ نہیں۔ یہ سنتے ہی لوگ واپس چلے گئے۔(74)
ابن اسحٰق کی ایک روایت میں ہے کہ واللہ ایسا لگتا تھا گویا وہ لوگ ایک کپڑا تھے جسے اس کے اوپر سے جھٹک کر پھینک دیا گیا ہو۔(75)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے پر یہ کیفیت تو مشرکین کی ہوئی تھی۔باقی رہے مسلمان تو انکے احوال کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ مجاہد نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ میں نے عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کس وجہ سے آپ کا لقب فاروق پڑا ؟ تو انہوں نے کہا: مجھ سے تین دن پہلے حمزہ رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انکے اسلام لانے کا واقعہ بیان کر کے اخیر میں کہا پھر جب میں مسلمان ہو گیا تو------- میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہم حق پہ نہیں ہیں خواہ زندہ رہیں خؤاہ مریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیوں نہیں-- اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم لوگ حق پر ہو خواہ زندہ رہو خواہ موت سے دوچار ہو----------------- حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہین تب میں نے کہا پھر چھپنا کیسا؟ اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے ہم ضرور باہر نکلیں گے۔چنانچہ ہم دو صفوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمراہ لے کر باہر آئے۔ایک صف میں حمزہ رضی اللہ عنہ تھے اور ایک میں میں تھا۔ہمارے چلنے سے چکی کے آٹے کی طرح ہلکا ہلکا غبار اڑ رہا تھا،یہاں تک کہ ہم مسجدحرام میں داخل ہو گئے،حضرت عمر رضی اللہ کا بیان ہے کہ قریش نے مجھے اور حمزہ کو دیکھا تو انکے دل پر ایسی چوٹ لگی کہ اب تک نہ لگی تھی۔اسی دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا لقب فاروق رکھ دیا۔(76)
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ ہم خانہ کعبہ کے پاس نماز پڑھنے پر قادر نہ تھے یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا۔(77)
حضرت صہیب بن سنان رومی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے تو اسلام پردے سے باہر آیا۔اسکی اعلانیہ دعوت دی گئی۔ہم حلقے لگا کر بیت اللہ کے گرد بیٹھے، بیت اللہ کا طواف کیا، اور جس نے ہم پر سختی کی اس سے انتقام لیا۔اور انکے بعض مظالم کا جواب دیا۔(78)

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا تب سے ہم برابر طاقتور اور باعزّت رہے۔(79)

تکبیر کہی کہ مسجد حرام والوں کو سنائی پڑی۔(70)

(63) تاریخ عمر بن الخطاب ابن جوزی ص 11
(64) ترمذی ابواب المناقب: مناقب ابی حفص عمر بن الخطاب 2/209
(65) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حالات کا تجزیہ شیخ محمد غزالی نے کیا ہے فقہ السیرۃ ص 92-93
(66) تاریخ عمر بن الخطاب لابن جوزی ص 1-6۔ ابن اسحق نے عطاء اور مجاہد سے بھی تقریبا" یہی بات نقل کی ہے، البتہ اسکا آخری ٹکڑا اس سے مختلف ہے۔
دیکھئے سیرۃ ابن ہشام 1؟ 346-348۔اور خود ابن جوزی نے بھی حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اسی کے قریب قریب روایت نقل کی ہے لیکن اسکا آخری حصہ بھی اس روایت سے مختلف ہے۔ دیکھئے تاریخ عمر بن الخطاب ص 1-9
(67) یہ ابن اسحق کی روایت ہے۔ دیکھئے ابن ہشام 1/344
(68) یہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ دیکھئے تاریخ عمر ابن الخطاب لابن جوزی ص 9-10
و مختصر السیرۃ از شیخ عبداللہ ص 1-2
(69) یہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، دیکھئے مختصر السیرۃ ایضا" ص 1-2
(70) تاریخ عمر بن الخطاب ص 7-10-11، مختصر السیرۃ شیخ عبداللہ ص 102-103، سیرت ابن ہشام 1؟ 343-346
(71) ابن ہشام 1/349-350
(72) تاریخ عمر ابن الخطاب ص8
(73) ایضا" ص 8۔ ابن ہشام 1؟ 348-349
(74) صحیح بخاری باب السلام عمر ابن خطاب 1/545
(75) ابن ہشام 1/349
(76) تاریخ عمر ابن الخطاب لابن جوزی ص 6-7
(77) مختصر السیرۃ شیخ عبداللہ ص 103
(78) تاریخ عمر ابن الخطاب لابن جوزی ص 13
(79) صحیح بخاری: باب اسلام





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved