تازہ ترین  

بھولی بات
    |     4 weeks ago     |    طنزومزاح


بھولنا تو انسان کا ایسا جزو ہے جس سے چھٹکارا ممکن نہیں .بہت سی باتیں, نصیحتیں اور اقوال ایسے ہوتے ہیں جنہیں ہم یاد رکھنے کی بہت کوشش کرتے ہیں مگر وقت آنے پر وہ ذہن میں تشریف نہیں لاتے .اکثر حضرات اس پریشانی میں مبتلا ہوتے ہیں کہ انہیں بھولنے کی عادت ہے ایسے صاحبان سے عرض ہے کہ سہوانسان کی امتیازی صفت ہے اگر آپ بھول جاتے ہیں تو الجھن میں مبتلا ہونے کے بجائے آپ اچھلا کودہ کریں اور فخر سے یہ کہا کریں کہ آپ کو معلوم ہے آپ انسان ہیں.
 نہایت تکلیف دہ ہوتا ہے وہ لمحہ جب کوئی بڑے پیاراور محبت سے بلائے اور بندہ اپنے اہم کام کو چھوڑ کر جب کان اس کی طرف دھرے تو وہ بولے" اویار میں  تو بھول گیا" حقیقت تو یہ ہے کہ جب بھولی ہوئی بات یاد آتی ہے تو بندہ بھول جاتا ہے کہ مجھ سے بھول ہوئی تھی بلکہ کہتا ہے کہ "دیر آئے درست آئے" یہ بات بجا ہے کہ بھولی ہوئی بات یاد آجاتی ہے تو پھر گھبرانا کس بات کا بےجا اپنے ذہن کو الجھنوں کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں دھکیل کر ایک سے ایک بڑی مصیبت کو اپنے سر پر سوار کر لیتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ میں بولا تھا .
کئی ایسے انسانوں سے واسطہ پڑا ہے کہ بھولے ہوئے کو بوڑھا گردانتے ہیں مانتے ہیں کہ بوڑھے زیادہ بولتے ہیں لیکن ایک ہٹے کٹے اور جوانی کی چمک دمک رکھنے والے شخص کو جب بندہ بھولنے پر بوڑھا کرتا ہے تو وہ ایک ساتھ کی الجھنوں کا شکار ہوتا ہے. اپنی خامیوں کو دیکھ کڑھتا ہے اور احساس کمتری جیسی قاتل بیماری  کاشکارہوجاتاہے .
ناقدین نقد کے بجائے اگر ادھار کر لیا کریں تو شاید آپ بھی بھول جیسی نعمت سے بہرہ ور ہوجائیں اور انسان ہونے کا احساس شاید آپ کے اندر بھی جاگ اٹھے. حکماء کی خیر بات چھوڑیں جب کہیں اشتہار پر "نسیان کا شرطیہ علاج" لکھا ہوا پڑھتا ہوں تو ضمیر ندا کرتا ہے کہ ان صاحب کے خلاف پرچہ ہونا چاہیے. یہ تو انسانیت سے محروم کر رہے ہیں. اس مرض کا علاج تجویز کر رہے ہیں جس کی ضرورت سب کو ہے اور سب کے ساتھ ملحق ہے اس کے بغیر نہ جانے کتنی تباہیاں ہمارے گھر پر دستک دیں. ہمارے سامنے رقص کریں اور ہمارے تماشے سے لطف اندوز ہوں.
 راہ چلتے ہوئے ایک بزرگ سے ایک دفعہ پالا پڑا گنبدی رنگ کے کپڑے پہنے ، گلے میں دو سو دانے والی تسبیح لٹکائے،  میرے سامنے سلام پیش کرنے کے بعد کھڑے ہوگئے اور نہایت فصیح و بلیغ زبان میں اپنے بھاشن سے مستفید کرنے لگے استفہاما پوچھا" تم اکثر باتیں بھول جاتے ہو گے بسا اوقات ایک بات یاد کرنے کی کوشش کرتے ہو لیکن ذہن میں نہیں آتی" ہم نے بھی اثبات میں سر ہلا دیا تو گویا ہوئے "تمہارے لئے میرے پاس دو تعویز ہیں اگر تم کہو تو تمہیں دے سکتا ہوں ان سے ہر قسم کی بھول جاؤ گے" ہم نے عرض کیا "آپ نے شروع میں مجھے کیا کہا تھا" سوچ میں پڑگئے . ہم نے طنزا کہا" آپ کے بھولنے کی دوا میرے پاس ہے اگر آپ کہیں تو دے سکتا ہوں" انہوں نے پوچھا تو ہم نے کہا " آپ لوگوں کو بھولنے پر شاباش دیا کریں اور ان کی پیٹھ تھپتھپایا کریں. اتنا کہنے کے بعد ہم چل دیے اور وہ صاحب دور تک ہمارا نگاہوں سے تعاقب کرتے رہے...
چنداں نعمتیں باری تعالیٰ کی ایسی ہوتی ہیں جن کا ادراک تو کجا ہم ان کو زحمت سمجھتے ہیں. لیکن ہمارے حق میں وہ نعمت ہوتی ہے. خدا کی دیں پر بصد شوق و رضا ہو جائیں اور کلمہ شکر بجا لائیں تاکہ زیادہ رحمتیں آپ کے در کا طواف کر سکیں.....





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved