تازہ ترین  

جمال و حسن میں یوں طاق لگ رہی تھی مجھے
    |     3 weeks ago     |    شاعری

جمال و حسن میں یوں طاق لگ رہی تھی مجھے
کسی پری کے ہی مصداق لگ رہی تھی مجھے

پلٹ کے دیکھنا اس کا کمال تھا ایسا
کہ ایک تحفہِ خلّاق لگ رہی تھی مجھے

نزاکتوں میں کہاں اس کا کوئی ثانی تھا
ذرا سے ہجر میں ہی قاق لگ رہی تھی مجھے

مری طرح ہی تھی زیرِ اثر محبت کے
قبول و رد میں کہیں حاق لگ رہی تھی مجھے

عجب نظر سے مرے خال و خد کو گھورتی تھی
وہ کارِ عشق میں مشّاق لگ رہی تھی مجھے

وہ مرمریں سا مجسم سراپا اوڑھے ہوئے
مرا ہی دیدہِ مشتاق لگ رہی تھی مجھے

مشاعرے کا جسے نام دے دیا گیا تھا
وہ بزم مجمعِ عشاق لگ رہی تھی مجھے

میں آخرش اسی نظارگی میں ڈوب گیا
زمیں کی گود ہی آفاق لگ رہی تھی مجھے

جو دامِ ہجر میں مریل سی ہو گئی تھی عمر
گلے لگی تو بہت چاق لگ رہی تھی مجھے

عابد عمر






Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved