تازہ ترین  

نس وار (طنز ومزاح) ۔
    |     3 weeks ago     |    طنزومزاح
نسوار کی تا ریخ اور دریافت کے بارے میں کتب تواریخ اور سائنسدان سب مہر بلب ہیں لیکن ہم اتنا جانتے ہیں کہ کے پی کے میں اگر آپ چلے جائیں تو ہر بندہ ہی نسوار دریافت کر رہا ہوگا۔مجھے ایک بار پشاور قصہ خوانی بازار میں ایک بابا جی کے ساتھ گپ شپ کا موقع ملا ،تاریخ اور دریافتِ نسوار پر اس نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہا کہ دیکھو نا تاریخ کی کیا ستم ظریفی ہے کہ سکندر یونانی کے گھوڑے’’بوسوفیلیا‘‘نے پشاور میں نسوار دریافت کی اور کھیوڑہ میں نمک کا سراغ لگایا،تاہم نمک کے ساتھ تاریخ میں اگر نسوار کا ذکر بھی آتا تو ہمارا سر بھی فخر سے بلند ہوتا کہ ہم تاریخ کے اوراق میں زندہ ہیں۔
میرے اکثرپٹھان بھائی دوست نسوار کو نشہ خیال نہیں کرتے بلکہ مٹھائی یا dessert سمجھتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ جیسے آپ لوگ کھانے کے بعد میٹھی چیز کھاتا ہے ایسے ہی ہم لوگ کھانے کے بعد نسوار بطور مٹھائی استعمال کرتے ہیں۔ایک اور پٹھان بھائی کا کہنا ہے کہ نسوار کے دو فائدے ہیں ،مقوی معدہ و دماغ ہے۔مقوی معدہ کی بات تو پلے پڑ گئی کہ ہو سکتا ہے ہمارے پٹھان بھائی نسوار کو کھانا کھانے سے قبل بطور appetizer استعمال کرتے ہوں تاکہ شدت بھوک میں اضافہ ہو۔مگر مقوی دماغ کیسے؟اس کی وضاحت خان صاحب نے خود فرمائی کہ ہم نسوار دماغ کو چکروں سے محفوظ رکھنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔زیادہ مقدار میں نسوار اس لئے کھاتے ہیں کہ دماغ کو کم سے کم چکر آئیں۔اور یہی دماغ کی مضبوطی ہے۔ویسے میں آج تک نہیں سمجھ سکا کہ نسوار کھاتے ہیں یا رکھتے ہیں؟
کہا جاتا ہے کہ نسوار کھانے سے جن پریت اور برے شیطانی خیالات قریب نہیں آتے۔خیالات کیا شیطان خود بھی قریب نہیں پھٹکتا۔ویسے نسوار کوئی نشہ نہیں ہے اگر آپ بچپن سے کھا رہے ہوں۔اگر نیا نیا نسوار رکھنا شروع کیا تو پھر ایسا نشہ ہے کہ جس کے رکھتے ہی گل خان بھی گلالئی دکھائی دیتا ہے۔ایک پٹھان بھائی کو نسوار کو بڑی عزت و توقیر کے ساتھ ٹشو پیپر میں لپیٹ کر زیرِ لب مسکراتے ہوئے منہ میں رکھتے ہوئے دیکھ کر اندازہ ہوا کہ کے پی کے میں ’’تبدیلی‘‘ آ نہیں رہی بلکہ آ چکی ہے۔تبدیلی سے یاد آیا جیسے سکھ اور پنجابی لوگ ایک دوسرے سے اپنی ’’پگ‘‘تبدیل کر کے’’پگ وٹ‘‘بھائی بن جاتے ہیں ،ایسے ہی kp میں نسوار کی ڈبیا تبدیل کر نے سے نسوار وٹ بھائی خیال کئے جاتے ہیں۔نسوار کی ڈبیا پر ہمیشہ ایک شیشہ لگا ہوتا ہے جو نسوار منہ میں رکھنے کے بعد اس بات کی تصدیق یا سندکے لئے ہوتا ہے کہ نسوار اپنے ہی منہ میں رکھی ہے ،کسی اور کے منہ میں نہیں۔ kp میں ہر بندہ نسوار رکھنے کے بعد ایسے محسوس کرتا ہے جیسے pk ہو۔ایک پنجابی دوست کی تحقیق ہے کہ پنجاب میں آپ اگر سگریٹ پیتے ہیں تو کچھ عرصہ بعد چھوڑ کر نسوار بھی شروع کر سکتے ہیں اور اس سے بھی دل بھر جائے تو آپ چرس کی باری بھی لگا سکتے ہیں اور اگر محبوب سے دل برداشتہ ہو جائیں تو پینے پلانے کی آپشن آپ کے پاس ہے۔مگر یہ سہولیات کے پی میں دستیاب نہیں ہیں،بس ایک بار نسوار شروع کی تو پھر واپسی کا راستہ ہیروئن ہی ہے اور اس کے لئے لاہور اور کراچی آنا پڑے گا کیونکہ یہ انڈسٹری اب ان دو شہروں میں ہی مقید ہے۔پنجاب پولیس بغیر لائسنس گاڑی چلانے پر بھاری جرمانہ عائد کر دیتی ہے یا کچھ دے دلا کے چھوڑ دیتی ہے۔مگر کے پی پولیس اس معاملہ میں بہت ایماندار ہو گئی ہے،بغیر لائسنس گاڑی چلانے والے کو نہ جرمانہ کرتی ہے نہ ہی رشوت لیتی ہے بلکہ اتنے پیسوں کے عوض نسوار لے کر چھوڑ دیتی ہے،کہ ظالم چھٹتی نہیں منہ کو لگی ہوئی۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مراد علی شاہدؔ دوحہ قطر






Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved