تازہ ترین  

پروگرام بعنون علمِ العروض
    |     2 weeks ago     |    گوشہ ادب

ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئیٹری
پروگرام بعنون علمِ العروض
صابر جاذب لیہ پاکستان

بحر:
عروضی ارکان کی تکرار سے اشعار کے لیے جو وزن حاصل کیا جاتا ہے اسے بحر کہتے ہیں.
جیسے فاعلن ایک رکن ہے اگر اسے چار, چھ یا آٹھ دفعہ مکرر لایا جائے تو اس سے جو وزن حاصل ہو گا اسے بحر کہتے ہیں.

اگر بحر میں ایک ہی رکن کی تکرار ہو تو اسے مفرد بحر کہتے ہیں
اور اگر بحر میں دو یا زیادہ ارکان ہوں تو اسے مرکب بحر کہتے ہیں .
جیسے
فعولن فعولن فعولن فعولن ایک مفرد بحر ہے. کیونکہ یہ ایک ہی رکن کی تکرار سے مرکب ہے.
اور
مستفعلن فاعلن مستفعلن فاعلن مرکب بحر ہے
کیونکہ اس میں مختلف ارکان استعمال ہوئے ہیں.
پھر اگر بحر میں ایک یا مختلف ارکان کی تعداد چار ہو تو اسے مربع بحر,
چھ ہو تو مسدس بحر
اور آٹھ ہو تو مثمن بحر کہتے ہیں.
جیسے
مربع بحر:
فاعلن فاعلن
فاعلن فاعلن

مسدس بحر:

فاعلن فاعلن فاعلن
فاعلن فاعلن فاعلن

مثمن بحر:

فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن
فاعلن فاعلن فاعلن فاعلن

اصولِ تقطیع

کسی بھی شاعری کا تجزیہ کرنے کے بنیادی اجزاء الفاظ ہوتے ہیں الفاظ، حرکتوں سےمل کر بنتے ہیں اورحرکات حروفوں کے آپس میں ملنے سے۔
کسی بھی شعر کی تقطیع کے لیے لفظوں کی حرکت کا جا ننا بہت اہم ہے۔
شعروں کا تجزیہ کرنے کیلئے ان کے مصرعوں کوحرکات میں توڑا جاتا ہے۔
ہر لفظ کو توڑ نے کے لئے یہ اصول استعمال کیے جاتے ہیں۔

(ا) اردو کےتمام حروف تہجی الف سے ے تک ) حر کات بن سکتے ہیں سوائے ' ھ ' اور ' ں ' کے ۔
(2) مشنیٰ (دہرانا) ۔ لفظ جو کہ تشدید ( ّ ) کے استعمال سے بنتے ہیں حرِکات بنا سکتا ہے۔
(3) مد ۔جو الف ( آ ) کےاوپر ہو سکتا ہے۔حرِکات بنا سکتا ہے۔
(4) حمزہ ( ء ) ۔ جب وہ لفظ کےاندر استمعال ہوتا ہے۔حرِکات بنا سکتا ہے

یہ عموماًحرکات نہیں بناتے:

زیر، زبراور پیش۔ بغیر نقطے والی ' ی' ۔
دو چشمی ( ھ ) ۔
اردو میں حروف صحیح " ب، پ، ت، ٹ، ج، چ، ر، د، ڈ، ڑ " کے بعد یعنی ان سے سے مل کر جب دو چشمی ( ھ ) آتی ہے توحروف " بھ، پھ، تھ، ٹھ، جھ، چھ، دھ، رھ، کھ، " گھ کی آوازیں بنتی ہیں۔ ان الفاظ کے بعد میں ( ھ ) کو نظرانداز کردیاجاتا ہے۔ چاہے ہم ھ کوگول ( ہ ) کی طرح لکھیں
جیسا کے آجکل کیا جاتا ہے پھر بھی یہ اصول لگےگا۔

کچھ صورتوں میں دو چشمی ( ھ ) نون اور لام کے بعد آتی ہے۔ مثلا ہندی کے لفظ ' ننھا یا دُلھا ' ان صورتوں میں ( ھ ) کوگول ہ سمجھاجائے گا۔

نون غنہ ( ں ) ۔ اگرچہ نون غنہ حرکت کے تلفظ کاحصہ ہے۔ لیکن اس کو وزن سےخارج کردتے ہیں۔ عام طور پریہ نون غنہ لمبےحروف علت کے بعد ہوتا ہے۔ ہندی کےالفظ میں نون غنہ پہلےحرکت کے بعد آتا ہے۔کچھ استثنا کے علا وہ ، مثلاً اندھیرا۔ یہ الفاظ حروف صحیح سے شروع ہوتے ہیں۔ مثلاً سنبھلنا، منہ، ہنسنا، پھنسنا۔ باندھنا۔

زحاف:
عروضی ارکان میں جو تغیر و تبدل کیا جاتا ہے اسے زحاف کہتے ہیں. جیسے رکن فاعلن کو فاعلان, مفتعلن کو مفعولن, مفاعلن کو مفاعلاتن کر دینا.
ہر رکن زحاف لگنے سے پہلے تک سالم رکن کہلاتا ہے اور زحاف لگا کر جو صورت حاصل کی جاتی ہے اسے اس رکن کی مزاحف شکل کہتے ہیں اور اسی طرح جس بحر میں کسی رکن پر زحاف کا عمل جاری ہو اس بحر کو بھی مزاحف بحر کہتے ہیں. جیسے فاعلن سالم رکن ہے, فاعلان اس کی مزاحف شکل ہے اور فاعلن فاعلن فاعلن فاعلان مزاحف بحر ہے
روایتی عروض میں زحافات کی تعداد چالیس کے قریب ہے جبکہ جدید عروض میں گنتی کے چند زحافات ہیں.
١. زیادت: جس رکن کے آخر میں ہجائے بلند ہو اس رکن کے آخری ہجائے بلند کے درمیان ایک الف ساکن بڑھا دینا. جیسے فعْلن سے فعْلان, فعِلن سے فعِلان, فعولن سے فعولان, فاعلن سے فاعلان, مفعولن سے مفعولان, فعلاتن سے فعلاتان, وغیرہ

اردو غزل
غزل شاعری کی ایک صنف(قسم) ہے جو کئی اشعار کا مجموعہ ہوتی ہے جس کو گایا بھی جاسکتا ہے۔اس کا آغاز فارسی شاعری سے ہوا اور بعد ازاں اس پر عربی اور فارسی ادب کے بھی اثرات آگئے۔اسی اثر نے اردو زبان میں صوفیانہ رنگ بھر دیا۔
اردو زبان میں غزل طریقہ اظہار ہے جس میں آپ اپنے اندرونی جذبات کی عکاسی کر سکتے ہیں۔
لفظ غزل مطلب اپنے محبوب سے گفتگو کرنا ہے۔
یہ عربی زبان کے لفظ غزال سے بنا ہے جس کے معنیٰ ہرن کے ہیں۔ عام فہم زبان میں غزل ایک اہسی پابند منظوم صنف ہے جس کا آغاز جس جوڑے سے ہوتا ہے وہ مطلع کہلاتا ہے اور اختتامی شعر کو مقطع کہتے ہیں جس میں شاعر اپنا تخلص یا نام بھی استعمال کرتے ہیں ۔کسی بھی شعر کے خیال کا اس سے اگلے شعر میں تسلسل ضروری نہیں ہوتا۔ایک غزل کے اشعار کے درمیان مرکزی یکسانیت کچھ الفاظ کے صوتی تاثر یا چند الفاظ کا ہر شعر کے دوسرے مصرعے میں تکرار سے ہوتا ہے۔اس سے ہٹ کر بھی کسی غزل کے ایک سے زیادہ اشعار کسی ایک ہی خیال کو مرکزی ظاہر کر سکتے ہیں۔لیکن ہر شعر اپنی جگہ منظوم قواعد و ضوابط کا پابند ہونا چاہیے

اردو نظم

اردو زبان میں نظم بنیادی طور پر شاعری کی ایک ایسی قسم ہے جس میں کسی ایک ہی خیال کو الفاظ کے ہموار بہاؤ کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے۔جہاں تمام اشعار لکھنے والے کے خیال کے تسلسل کا اظہار کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب غزل کا ہر شعر اپنی جگہ مکمل اور مختلف معنیٰ رکھتا ہے۔اگر وسیع پیمانے پر دیکھا جائے تو نظم اردو شاعری کی ان تمام اقسام کی نمائندگی کرتی ہے جن کو کسی اور تعریف کے ذریعے بیان نہیں کیا جاسکتا لیکن ادبی نکتہ نظر سے نظم شاعری کی ایک بہت منظوم اور منطقی لحاظ سے غیر محسوس طور پر ٹھوس صنعف ہے جس میں شاعری کا مرکزی خیال ایک ہوتا ہے اگرچہ روایتی نظم میں بھی پابندیاں ضروری ہیں لیکن کئی جگہوں پر ہمیں کئی شہکار آزاد نظموں کی بھی مثالیں ملتی ہیں نظم کے ادبی معنیٰ نثر کی ضد کے ہیں۔وقت کے ساتھ ساتھ نظم کی ظاہری شکل میں بھی تغیر رونما ہواہے۔انیسوی صدی کے آخری عشروں میں تو اس کی ترکیبوں میں واضح تبدیلیاں آگئیں لیکنپھر اس کی قدیم تاریخ کے باعث اس کی انفرادیت اور کشش میں کوئی کمی واقع نہ ہوئی۔نظم میں طوالت کی کوئی پابندی نہیں ہوتی اس میں شاعر کا تخیل ارتکاز کے ساتھ ساتھ تفصیل سے بیان ہوتا ہے اور اس میں ایک خیال کی مرکزیت کو بگاڑے بغیر بہت وسیع انداز سے مضمون کو پھیلانے کی گنجائش ہوتی ہے اسی ممکنہ پھیلاؤ کی گنجائش کے باعث نظم کو اردو ادب میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔نظم لکھنے کے لئے شاعروں کا ہر دور میں مرغوب ترین موضوع محبت رہا ہے اور یہی رومانوی انداز تمام اردو شاعری کی اساس بھی ہے نظم کے ذریعے محبت کی خوبصورتی کو بہت باوقار سادہ اور نازک انداز میں پیش کیا جاتا ہے بلکہ نہ صرف محبت بلکہ فطرت کا حسن غم خوشی زندگی کی چمک و موت کا درد ہر موضوع کے لئے نظم ایک بہترین ذریعہ اظہار ہے جس میں اس موضوع کے معنیٰ اور مفہوم کو ذہن میں رکھ کر طویل بات کی جا سکتی ہے بہشتر مقام پر نظم کا مرکزی خیال قاری کو افسانوی دنیا کے بجائے موضوع کی ایک منطقی اور ٹھوس وضاحتی تصویر فراہم کرتا ہے۔نظم غزل کے مقابلے میں زیادہ حقیقی طریقہ اظہار ہے جبکہ غزل عام طور پر قاری کو محض افسانوی سرابوں کا شکار بناتی ہے۔

غزل اور نظم کے درمیان فرق

نظم کے ان غیر نکتوں کو سمجھنے کے لئے نظم اور غزل کو آمنے سامنے رکھ کر تقابلی جائزہ لینا بہت مددگار ہوتا ہے جہاں دونوں اصناف کی ضد اور مماثل ہونے کا اندازہ کیا جا سکے۔نظم ایک اور بھی اہم انداز سے غزل سے قدرے مختلف ہوتی ہے غزل کو یہ افتخار حاصل ہے کہ بنیادی طور پر یہ نظم ہونے کے باوجود اپنے اشعار کے ایک دوسرے سے تسلسل اور بندھے ہونے کی پابند نہیں ہوتی غزل کا شاعر اگر چاہے تو غزل میں تمام منظوم پابندیوں کے ساتھ ساتھ پہلے شعر میں محبت دوسرے میں موت تیسرے میں حسد اور چوتھے میں تصوف وغیرہ پر الگ الگ اظہار کر سکتا ہے جبکہ نظم کا حال اس سے بالکل مختلف ہے جہاں بنیادی خیال کو ہی مرکزیت حاصل ہے اور ابتداء سے اختتام تک اسی خیال کا ارتقاء ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ ہر نظم کا باقائدہ ایک موضوع ہوتا ہے نام ہوتا ہے جسے ٹائٹل کہا جاتا ہے جبکہ غزل اس نکتے سے آزاد یا یوں کہیں کہ اس ضلاحیت سے محروم ہوتی ہے۔

صابر جاذب لیہ پاکستان






Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved