تازہ ترین  

بزم گیسوئے سخن کے زیراہتمام آن لائن طرحی مشاعرے کا انعقاد
    |     2 weeks ago     |    گوشہ ادب
مشاعرہ اردو ادب کی یک اہم روایت ہے۔ غیر اردو ادب اس دولتِ گراں مایہ سے یکسر محروم ہے، کیوں کہ مشاعرہ بنیادی طور پر غزل کیساتھ مخصوص ہے اور غزل کا وجود مغربی ادب میں بالکل بھی نہی‌، ہاں بعض غزلیہ مضامین کا در آنا مکمل طور پر اُس صنف کے غزل ہونے کو مستلزم نہیں ہوگا، البتہ ضمنی طور پر اردو کی ہم نوا زبانیں مثلاً فارسی، پنجابی اور ہندی میں غزل کا وجود ضرور ہے، اردو میں غزل فارسی ہی سے آئی ہے، ہر دور میں اس صنفِ سُخَن نے اپنا جادو جگایا اور تادیر ایسا ہوتا رہے گا، اور اب تو یہ صنف اظہار کا بہترین وسیلہ ہو گئی ہے، بہ قول شاعر:
جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے

چناں چہ خواجہ الطاف حسین حالی نے ’’مقدمۂ شعر و شاعری‘‘ میں شعرا کی عظمت اور وقعت بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ
شاعری عطیہ خداوندی ہے

حالی مزید فرماتے ہیں کہ
شعر دل سے اٹھتا ہے اور دل میں تروتازہ ہوجاتا ہے۔ شعر کو سن کر دل جھومتا ہے اور روح وجد کرتی ہے

روح کو تڑپانا اور قلب کو گرمانا شاعری کی جادوگری ہے

اپنے درخشاں ماضی کی روشن اور تابندہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اور اس لطیف مقصد کی تکمیل کے لیے اردو ادب کی تاریخ میں مشاعرے، مراختے اور مسالمے منعقد کیے جاتے ہیں، بزمِ گیسوئے سُخَن کے تحت بھی ایک طرحی مشاعرے کا انعقاد کیا گیا
مصرعۂ طرح : جا تجھے کشمکشِ دہر سے آزاد کیا
شاعر : جوش ملیح آبادی

اس مشاعرے کی صدرِ محفل اور بزم کی روحِ رواں، محترمہ انجم عثمان صاحبہ تھیں، جنھیں ادبی سطح پر ان کی کتاب العطش سے جانا اور پہچانا جاتا ہے، شاعرہ محترمہ کا اندازِ گفتگو جس طرح شگفتہ ہے اسی طرح ان کی طبیعت بھی ایسے ہی ادب نواز ہے، طلسماتی رنگِ سُخَن تو آپ کے ہر شاہ پارے سے جھلکتا ہے، آپ ہی کا ایک شعر ہے کہ :
پسِ خیال ہیں رُومی و حافظ و خسرو
طلسمِ حسنِ بیاں حرف حرف ارزاں ہے

مہمانانِ گرامی میں انڈیا سے تعلق رکھنے والے، انٹرنیشنل سطح پر فلاحی کارہائے نمایاں سرانجام دینے اور بیسیوں اداروں کے منتظمِ اعلیٰ اور مخصوص اندازِ بیاں کے مالک شاعر محترم الأستاذ نواز دیوبندی صاحب تھے، ان کے ادبی قد و قامت کی شان و شوکت ہم سب پر عیاں ہے، آپ نے اپنی مصروفیات کی وجہ سے وقت دینے سے پیشگی معذرت کر لی تھی، گو کہ وہ موجود نہ تھے مگر ان کا نام ہی رونق جمانے کے لیے کافی تھا، بقول انھی کے :
تیرے آنے کی جب خبر مہکے
تیری خوشبو سے سارا گھر مہکے

اگلے مہمان مخصوص اندازِ بیاں کے مالک شاعر محترم الأستاذ یعقوب پرواز صاحب تھے، جو فنِّ شاعری میں میرے استاذ بھی ہیں اور اپنے خاص ادبی شغل کی وجہ بھی جانے پہچانے بھی جاتے ہیں، آپ نے اپنے شیریں لہجے میں یوں نغمہ سرائی کہ بقول لالہ مادھو رام جوہر :
جوہرؔ خدا کے فضل سے ایسی غزل کہی
شہرت مشاعرہ میں ہوئی واہ واہ کی

اگلی مہمان منفرد آواز اور مخصوص طرزِ بیاں کی مالک شاعرہ محترمہ ریحانہ روحی صاحبہ تھیں، جن کی ادبی صلاحیتوں اور قابلیت کی بنا پر انھیں بے شمار ایوارڈز وغیرہ سے بھی نوازا گیا ہے، آپ نے اپنے ملک کے وقت کے مطابق پوری رات مشاعرے میں گزار دی، حتیٰ کہ جب مشاعرہ ختم ہوا تو وہاں صبح ہو چکی تھی، آپ نے اشعار کیا پڑھے، گویا تیغِ بُراں سے سامعین کے دلوں پر ضربیں لگائیں، ایک ایک شعر قلب و جاں کو گداز بخشنے والا روح میں نشتر بن کر پیوست ہونے والا تھا، بقول کلیم عاجز وہ گویا یہ کہہ گئیں کہ :
آزمانا ہے تو آ بازو و دل کی قوت
تو بھی شمشیر اٹھا ہم بھی غزل کہتے ہیں

اگلے پاکستان کے مایہ ناز شاعر، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اور مخصوص اندازِ بیاں کے مالک شاعر محترم الأستاذ شہزاد نیّر صاحب تھے، جن کے ادبی قد و قامت کی عظمتوں سے ہم سب واقف ہیں، آپ نے عذر پیش کر کے مشاعرہ سے اپنی بساط پہلی ہی لپیٹ لی، لیکن پھر بھی ان کا نام مشاعرے کی فضائے بیکراں میں اپنی ہیبت برقرار رکھے ہوئے تھا، یہ انھی کی مہربانی تھی کہ أولاً میری درخواست پر لَبَّیْکَ کہا، مگر بقول اُنھی کے :
میں راہِ سود و زیاں سے گزرتا جاتا ہوں
کبھی گریز کبھی اختیار کرتے ہوئے

--------
اب آتے ہیں باقاعدہ مشاعرہ کی نزولی ترتیب پر، جبکہ ابھی صعودی ترتیب بیان ہوئی

بروز بُدھ بتاریخ 31 اکتوبر رات 8 بجے ایک طرحی مشاعرے کا اہتمام کیا گیا

نظامت کے فرائض سرانجام دئیے بھارت سے تعلق رکھنے والے محترم جناب شمس الحق ناطق صاحب نے، آپ نے خوب صورت طریقے سے اپنی ذمہ داری نبھائی، جگہ جگہ جوش ملیح آبادی صاحب اور دیگر شعراء کے اشعار کی پیوند کاریوں سے مشاعرہ میں کہکشاں کا سا سماں بنائے رکھا، جس پر گیسُوئے سُخَن کی جانب سے ان کا شکریہ ادا کیا جاتا ہے

حمدِ باری تعالیٰ سے محفل کا آغاز کیا گیا، جس کی سعادت محترم المقام حافظ ابرار الحق صاحب کے حصے میں آئی، آپ نے اس انداز سے گدازِ قلب کا ساماں کیا کہ دیر تک آپ کی مترنم اور کیف آگیں آواز سے سامعین کی سماعتیں جھومتی رہیں

نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خوش بختی میرے نہایت مشفق دوست محترم محمد رفیق چشتی صاحب نے اپنے دامن میں سمیٹی، جو یقیناً سعادت مندی کی علامت ہے، بیدم وارثی کا کلام جو کہ نہایت ادب اور عقیدت و احترام کے جذبات میں ڈوب کر کہا گیا تھا، اسے اسی عقیدت و محبت سے محترم بھائی نے پیش بھی کیا، الله پاک موصوف کے لیے اسی نعت خوانی کو وسیلۂ بخشش و غفران بنائے، آمین ثم آمین

اس کے بعد 8:44 پر پہلے شاعر محترم مقصود احمد صاحب کو مدعو کیا گیا، آپ نے مطلع ہی میں کمال کر دیا کہ :
کون کہتا ہے مجھے عشق نے برباد کیا؟
سچ بتاؤں تو اسی عشق نے آباد کیا
ہر ہر شعر پر ایک نئی چیز دیکھنے کو ملی، خود داد وصول کرنے کے بعد سامعین میں شریک ہو گئے

اس کے بعد انڈیا سے محترم اسد ہاشمی صاحب کو بلایا گیا، آپ کی آواز تو نہ نصیب ہو سکی، مگر غزل دریافت ہو گئی، ایک شعر ملاحظہ فرمائیں کہ :
ہچکیوں کا یہ تسلسل جو رُکے تو پوچھوں
اتنی شدت سے اسد کس نے تجھے یاد کیا

آپ نے مصرعۂ طرح پر یوں گرہ لگائی کہ :
نوچ کر پر مرا صیاد نے ارشاد کیا
"جا تجھے کشمکشِ دہر سے آزاد کیا"

بعد ازیں شفقت الله شفی صاحب کو مدعو کیا گیا، مگر انتظارِ طویل کے بعد بھی اُن کے نقوشِ وجود کُہر میں ڈوبے رہے تو بزبانِ حال یہ کہہ کر اگلے شاعر کو بلایا گیا کہ :
کوئی سناٹا سا سناٹا ہے
کاش طوفان اٹھا دے کوئی
ناصر زیدی

اس کے معاً بعد محترم علی مان ازفر صاحب کے سامنے شمعِ محفل رکھی گئی، آپ نے اپنی دلنشین آواز میں مطلع ارشاد کیا کہ :
غَم سہے، مر گئے، پھر بھی تجھے آباد کیا
یہ ترا ظرف کہ تو نے ہمیں ناشاد کیا

بعد ازیں سر زمینِ طارق و موسیٰ سے تعلق رکھنے والے میرے مشفق و مہربان دوست محترم طاہر احمد چوہدری صاحب کو دعوتِ کلام دی گئی، آپ نے دوسرے شعر ہی میں داغ دہلوی کی یاد دلا دی، کہتے ہیں :
اک بُتِ ناز کی خاطر کئی ایماں والے
دست کش ہو گئے اسلام سے ،الحاد کیا
تمام غزل ہی شاندار تھی، لیکن جو لُطف مذکورہ بالا شعر نے دیا اس کی بات ہی کیا ہے!

پھر دار العلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف، سرگودھا کے طالب علم اور میرے دیرینہ رفیق محترم شہزاد احمد شہزاد صاحب کو مدعو کیا گیا، آپ نے سید نصیر الدین نصیر گیلانی صاحب کی پیمانِ شب یاد دلا دی، کیا انداز اور کیا طرز اپنایا کہ الله الله! محبوب کی عنایات کو وہ یوں بیان کرتے ہیں کہ :
جب یہ سمجھا کہ بہت زار ہے حالت میری
خواب میں لائے وہ تشریف، مجھے شاد کیا
اس پر مستزاد موصوف کی اپنی آواز، کیا سماں باندھا کہ قلب و جاں تا دیر مسحور رہے

اس کے بعد نو عمری ہی میں اپنے قَلَم کا جادو جگانے والے اور لفظوں کا طنطنہ برپا کر دینے والے محترم محمد احسن ثالب صاحب کو بلایا گیا، موصوف نے خود صدرِ مشاعرہ سے خوب داد سمیٹی، کہتے ہیں کہ :
جانِ جاں اک ترے نقشِ کفِ پا کے لیے
ہم نے سنگِ درِ دل مسندِ بغداد کیا
حیف! اک عمر گنوائی تھی جسے پانے میں
اس نے یک لخت مری ذات سے الحاد کیا

بعد ازیں محترم صابر حسین جاذب صاحب کو مدعو کیا گیا، آپ کی عدم موجودگی میں صدرِ مشاعرہ کی اجازت سے اگلے شاعر کو بلایا گیا
محترم المقام جناب احمد حجازی صاحب کے سامنے شمعِ محفل رکھی گئی، آپ نے اپنی دل نشین آواز میں سماں باندھے رکھا، کہتے ہیں کہ :
کام دنیا کے کہاں یاد مجھے رہتے ہیں
تری یادوں نے مرا حافظہ برباد کیا

بغداد کا استعارہ استعمال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ :
ہم نے دیکھا ہے فقط ظلم کا پہرہ احمد
درد نے دل کو مرے خطۂ بغداد کیا

اس کے بعد محترم المقام میاں جمیل احمد صاحب کو بلایا گیا، آپ نے مترنم آواز میں اپنی غزل سنائی، دیر تک سماعتیں اس ترنم خیز آواز سے حظ اٹھاتی رہیں، کہتے ہیں کہ :
دورِ حاضر میں ہے انساں کا لہو ارزاں کیوں
جب سے ایٹم کو کسی شخص نے ایجاد کیا
اس شعر پر موصوف نے صدرِ مشاعرہ کی جانب سے خوب خوب داد وصول کی

پھر محترم صائم شیرازی صاحب کو مدعو کیا گیا، موصوف کی غزل کے بارے میں تو کچھ نہیں کہوں گا، صرف بزبانِ وحشتؔ رضا علی کلکتوی اتنا عرض ہے کہ :
ہر چند وحشتؔ اپنی غزل تھی گری ہوئی
محفل سخن کی گونج اٹھی واہ واہ سے

بعد ازیں محترم مختار حسین نجفی صاحب کو بلایا گیا لیکن آپ ندارد، لہٰذا وقت کا خاص لحاظ رکھتے ہوئے اگلے شاعر کو دعوتِ کلام دی گئی
محترم المقام مفتی اقبال شاہد صاحب کو مدعو کیا گیا، آپ نے مصرعۂ طرح پر یوں گرہ لگائی کہ :
کاش وہ شخص ملے، جوش سے جس نے یہ کہا
"جا تجھے کشمکشِ دہر سے آزاد کیا"

آخری شعر میں کیا خُوب طنزِ ملیح کا استعمال کرتے ہوئے فرمایا کہ :
اس نے رشتہ بھی سلیقے سے ہے توڑا شاہد
خود کو مجھ سے، مجھے حق مہر سے آزاد کیا

مقطع کو فَقَط طنز ہی سمجھا جائے تو بہتر ہوگا!


اس کے بعد غالب کا سا انداز رکھنے والے میرے نہایت مشفق دوست محترم امجد حسین خیالی صاحب کو دعوتِ کلام دی گئی، آپ اپنے مخصوص انداز میں یوں گویا ہوئے کہ :
ہمکلامی کی تمنا کبھی وصلت کا خیال
عالَمِ مرگِ مفاجات کو یوں شاد کیا
گلہ ءِ جور اگر ہو بھی تو آخر کس سے
میں نے اک دشمنِ پیمان کو ہمزاد کیا
خوب خوب داد سمیٹنے کے بعد سامعین میں شامل ہو گئے


اس کے بعد نہایت خوب صورت اور نیک سیرت انسان محترم حسیب احمد جمال محبوبی صاحب کو زحمتِ کلام دی گئی، آپ نے اپنا ما فی الضمیر یوں بیان کیا کہ :
بات کرنے سے گریزاں تو نہیں ہوں لیکن
بات سُ کر یہ کہو گے، "مجھے ناشاد کیا"
پوچھ لے! شہر کا ہر شخص گواہی دے گا
ہم نے ہر وقت تجھے سوچا، تجھے یاد کیا


اس کے بعد مخصوص لب و لہجہ رکھنے والی شاعرہ محترمہ شائستہ مفتی صاحبہ کو دعوتِ کلام دی گئی، آپ نے ایک نیا آہنگ اور منفرد اسلوب کو اپناتے ہوئے نہایت ہی جاندار اور شاندار کلام عطا کیا، کہتی ہیں کہ :
یوں ترے شہر سے گزرے تھے خموشی اوڑھے
اک فسانہ دلِ بے درد نے ایجاد کیا
ہے ضروری کہ ہر اک کوہ سے پُھوٹے جھرنا
شدتِ جذب سے پھر شکوۂ بیداد کیا
راستہ تُجھ کو بدلنے کی طَلَب ہے تو، چلو!
اے مرے ہمدم و ہمسر! تُجھے آزاد کیا

آپ کی غزل کا سحر دیر تک سماعتوں میں اپنا اثر قائم کیے رہا، خوب خوب لُطف اور شیرینی سے آمیز کلام عطا ہونے پر ڈھیر ساری داد سے آپ کو نوازا گیا

اس کے بعد بے مثال آہنگِ سُخَن کی مالک شاعرہ محترمہ عائشہ یحییٰ صاحبہ کو مدعو کیا گیا، آپ نے اپنے منفرد انداز میں غزل کہی، چند اشعار ملاحظہ فرمائیں کہ :
دشت، لیلی کبھی  شیریں کبھی فرہاد کیا
میں نے اشعار کو ترکیب سے ایجاد کیا
شجرہءِ زیست میں بس ایک ہی ترتیب رہی
وقت کو باپ کیا درد کو اولاد کیا

قارئین ملاحظہ ہو کہ کس قدر خوب صورت اور نادر و نایاب مضمون گرہ میں باندھا کہ :
آخرش ابر نے قطرے سے کہا یہ ہنس کر :
"جا تجھے کشمکشِ دہر سے آزاد کیا"

بعد ازاں محترم المقام جناب سلمان احمد راٹھور مانی صاحب کو بلایا گیا، موصوف مُشکِ سُخَن اور عین علم نامی فیس بک گروپس میں بحیثیت استاذ العروض اپنا ایک جدا گانہ مقام رکھتے ہیں، آپ نے نہایت خوب صورت اور دل افروز کلام عطا کیا، کہتے ہیں کہ :
مجھ کو بیعت کیا، پھر عشق نے ارشاد کیا
"جا تجھے کشمکشِ دہر سے آزاد کیا"
یوں کیا میرے صنم! شہر میں چرچا تیرا
میکدہ نامِ محبت پہ اک آباد کِیا

صدرِ مشاعرہ محترمہ انجم عثمان صاحبہ کی بے حد داد وصول کی اور ہر طرف واہ واہ کی صدائیں بلند ہوتی گئیں، بقول اکبر الہ آبادی :
تحسین کے لائق ترا ہر شعر ہے اکبرؔ
احباب کریں بزم میں اب واہ کہاں تک

اس کے بعد پہلے مہمانِ خصوصی محترم جناب شہزاد نیّر صاحب کو دعوتِ کلام دی گئی، موصوف کی ذاتی مصروفیات کی بنا پر قصرِ مشاعرہ میں ایک بنیادی اور اہم اینٹ بہرحال رہ ہی گئی، خیر ہم تو ان کی غیر موجودگی کو بھی اس زمرے میں لیتے ہیں کہ بقولِ میر تقی میر :
اصلح ہے حجاب اس کا ہم شوق کے ماروں سے
بے پردہ جو وہ ہوتا تو کس سے رہا جاتا؟

اس کے بعد اگلی مہمان محترمہ ریحانہ روحی صاحبہ کو دعوتِ کلام دی گئی، آپ نے مطلع سے مقطع تک جس خوش اسلوبی اور خوب صورتی سے غزل کہی، اُسے سُننے کے بعد سامعین کو معلوم ہوا کہ :
"ابھی اس بحر میں باقی ہیں لاکھوں لؤلوئے لالا"

بلاشبہ موصوفہ کی شخصیت اور کلام دونوں اپنی انفرادی شان رکھتے ہیں، آپ کی شفقت کا یہ عالم رہا کہ اپنے ملک کے مطابق رات کا اکثر حصہ مشاعرہ میں شریک رہیں اور جب مشاعرہ کا اختتام ہوا کہ تو وہاں صبح کے آثار منڈلا رہے تھے، یہ بلاشبہ محترمہ کی محبت تھی، ورنہ ہم اس لائق کہاں تھے کہ آپ کی سرپرستی نصیب ہوتی، بقولِ میر تقی میر :
"دست و دامن جیب و آغوش اپنے اس لائق نہ تھے"

چند اشعار ملاحظہ ہوں کہ :
مصلحت کوش زمانے میں بھی سچ بول سکے
ہم نے اس عہد میں وہ آئینہ ایجاد کیا

اور قارئین اس شعر کو پڑھئیے اور سر دھنئیے کہ اس خیال کے پیچھے کیا جذبہ پنہاں ہوگا :
مرا وہ گھر، جو مرا گھر ہی نہیں تھا رُوحی
میں نے اُس گھر کو عَجَب ناز سے آباد کیا

بعد ازیں میرے مشفق استاذ گرامی جناب یعقوب پرواز صاحب کو دعوتِ کلام دی گئی، آپ نے اپنے منفرد طرز و اسلوب کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہماری سماعتوں کو بہترین آواز اور خوب صورت لَے سے نوازتے ہوئے اپنا کلام عطا فرمایا، آپ کہتے ہیں کہ :
کوئی اس لُطفِ فراواں کا سَبَب تو ہوگا
آج بھولے سے، بتا! کیسے مجھے یاد کیا؟
جس نے اک لفظ کی خیرات بھی ارزانی کی
اُس کے احسان کو مانا، اُسے استاد کیا

سُخَن وری کے تمام لوازمات سے پُر جاندار غزل پر قارئین و سامعین نے بے حد داد و محبت اور عقیدت و احترام کا خراج پیش کیا

اس کے بعد آخری مہمان شخصیت ہندوستان سے تعلق رکھنے والے محترم المقام جناب نواز دیوبندی صاحب کو دعوت دی گئی، موصوف کی عدم موجودگی یقیناً ان کی مصروفیات کی وجہ ہی کی بنا پر ہوئی ہوگی، کافی دیر ان کی آمد کا انتظار رہا مگر :
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے، یہی انتظار ہوتا

سامعین کے بے حد اصرار اور خود صاحبِ صدر کے حُکم پر اس ناچیز نے اپنے چند اشعار پیش کرنے کی سعادت حاصل کی، ہر چند کہ میرے اشعار اس قابل نہ تھے، اور بقولِ حاتم علی مہر :
ہم بھی باتیں بنایا کرتے ہیں
شعر کہنا مگر نہیں آتا

سامعین و قارئین کی محبتوں کا احترام کرتے ہوئے میں نے یہ اشعار پیش کیے :
ہم نواؤں کی خموشی ہی پہ اب صاد کیا
یہ خرابہ تو اسی طور ہی آباد کیا
سینۂ گُل سے جو پی پی کے لہو اُڑتی ہو
تتلیو! اُس نے کبھی شکوۂ بیداد کیا؟
وہ نشینِ لبِ دریا ہوا آباد عَبَث
جسے موجوں کے تھپیڑوں نے نہ برباد کیا
تُجھ میں جُز کارِ ہَوَس اور نہیں ہے کچھ بھی
مری بے بال و پری نے تُجھے صیّاد کیا

میرے أن شکستہ کلمات پر بھی مجھے خود صاحبِ صدر اور معزز شعراء نے خود داد و تحسین سے نوازا، حالانکہ میں تو بقولِ صہبا اختر یہ کہتا ہوں کہ :
میرے سخن کی داد بھی اس ہی کو دیجئے
وہ جس کی آرزو مجھے شاعر بنا گئی

مشاعرہ کی روحِ رواں اور صدرِ مشاعرہ کو بالآخر دعوتِ کلام دی گئی، اس سے پہلے کہ ان کا کلام نقل کروں، پہلے چند باتیں کہ محترمہ انجم عثمان صاحبہ نے جس طرح صدارت فرمائی، یقیناً انھی کا خاصہ ہے، ہر شاعر کی اچھے شعر پر داد سے نوازا، کیوں کہ بقولِ زہرا نگاہ :
وہ ساتھ نہ دیتا تو وہ داد نہ دیتا تو
یہ لکھنے لکھانے کا جو بھی ہے خلل، جاتا

آپ کی محبتوں اور شفقتوں کی بنا پر مشاعرہ کامیاب رہا، اپنی گراں قدر مصروفیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہمیں وقت دینے کا مطلب یہی ہو سکتا ہے نا کہ بقولِ مرزا غالب دہلوی :
وہ محض رحمت و رافت کہ بہرِ اہلِ جہاں
نیابتِ دمِ عیسیٰ کرے ہے جس کی نگاہ

آخرش آپ کے سامنے شمعِ محفل لائی گئی، آپ نے صدارتی کلمات ارشاد فرمائے اور معاً اپنا کلامِ معجز بیاں عنایت کیا، بقولِ غالب :
شب ہوئی، پھر انجمِ رخشندہ کا منظر کھلا
اِس تکلّف سے کہ گویا بتکدے کا در کھلا

اور بقولِ سلیم فگار
لفظ لے کر خیال کی وسعت
شعر کی تازگی کی سمت گیا

آپ کے کلام سے چند اشعار ملاحظہ ہوں کہ :
گو تغافل نے ترے دل مرا ناشاد کیا
کیا کبھی میں نے کوئی شکوہء بیداد کیا؟
سر جھکایا تو مجھے غیب سے آئی یہ ندا
"جا تجھے کشمکشِ دہر سے آزاد کیا "
نہ ہوئی گردشِ ایام جو وجہِ تسکیں
پھر فلک نے نیا ہر پل ستم ایجاد کیا !
اک روایت شکنی خواب کا مقدور ہوئی
ہجر کو وصل کیا ! صید کو صیاد کیا !
تم سے شکوہ نہیں بربادیء دل کا مجھ کو
میری آشفتہ سری نے مجھے برباد کیا !
خانہ ویرانی مقدر تھی ترا میرے بغیر
زندگی ! تیرے خرابے کو بھی آباد کیا !
بھول بیٹھا تھا مرا زود فراموش مجھے
ہاں مرے بعد مجھے اس نے بہت یاد کیا !

آپ کا ہر ہر شعر نوکِ خامہ سے قرطاس کی جبین پر رقم ہوتا ہوا سامعین کے قلوب میں جا گزیں ہوا، اصل کلام تو آپ کا تھا، اور بیت المشاعرہ کلام تھا، آپ نے اپنی مخصوص طرز اور دلنشین آواز میں سامعین کی سماعتوں کو بھی نوازا

اور یوں مشاعرہ کامیابیاں سمیٹتا ہوا اپنے اختتام کو پہنچا، ریحانہ آپا جان کی خصوصی محبت اور مفید مشوروں ہی کی بدولت یہ مشاعرہ کامیاب ٹھہرا، سبھی احباب، دوستوں کے شکریے اور محبتوں کے تبادلے کے ساتھ بساطِ مشاعرہ بالآخر لپیٹ دی گئی، دیر تک فضا میں کیف و مستی اور جذب و جنوں کی کیفیت طاری رہی، یعنی بقولِ میر تقی میر :
میرؔ ہر یک موج میں ہے زلف ہی کا سا دماغ
جب سے وہ دریا پہ آ کر بال اپنے دھو گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روداد: غلام مصطفیٰ دائم اعوان





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved