تازہ ترین  

کتاب دوست۔۔۔ادب دوست
    |     1 week ago     |    گوشہ ادب
جو کتاب دوست ہے وہ ادب دوست ہے اور کتاب کا تعلق انسان کا بہترین تعلق ہے کتاب سے دوستی علم و ادب سے محبت کا رشتہ ہے کچھ صاحب کتاب دوستوں اور ادب سے محبت کرنے والے لکھاری دوستوں سے ملاقات کی یہ روداد امید ہے آپ کو پسند آئے گی۔

صبح 6بجے میں اور قاری محمد عبداللہ نیازی اڈے سے بذریعہ رکشہ وفائے پاکستان ادبی فورم کے سرپرست اعلی و ایڈیٹر ماہنامہ کرن کرن روشنی حاجی لطیف کھوکھر کے گھر پہنچے۔۔۔۔۔دروازے کے پاس لگی گھنٹی بجائی چندلمحوں بعد ہی حاجی صاحب نے دروازہ کھول کر ہمیں خوش آمدید کہا اورہمیں ہال کمرے میں لےگئے جہاں ایک گدے پردو تکیے ہمارا استقبال کرنے لیے بےتاب تھے تکیے کچھ کہتے اتنے میں حاجی صاحب بالے آپ لوگ آرام کریں 9 بجے ملتے ہیں۔حاجی صاحب تو کہہ کر چلےگئے اور ہم بھی آرام کرنے کے لیے گدےپر دراز ہوگئے۔

بات کچھ اس طرح سے ہے کہ میں اور قاری محمد عبداللہ ایکسپو سنٹر بک فیئر کے لیے رات کو ملتان سے لاہور کے لیے روانہ ہوئے۔۔۔ حاجی لطیف کھوکھر صاحب کی طرف سے 9:30 بجے دن بچوں کے ادیبوں کے لیے بولا دیسی گھی کے چنے والے کے پاس ناشتہ کی دعوت تھی۔ حسب دستور ادیب حضرات 10:30 پر آنا شروع ہوئے۔ہم بھی حاجی صاحب کےساتھ چنے والے کی دکان پر پہنچ چکے تھے جہاں عابد قادری اور عبدالصمدمظفر نے ہمارا استقبال کیا۔کچھ دیر ہی میں شہباز اکبر الفت،عارف شاہ ،ندیم اختراور امان اللہ نیئر شوکت بھی پہنچ گئے۔ناشتہ کیا گیا اور ساتھ ہء شہباز اکبر سے الفتی جگتیں بھی چلتی رہیں۔

ناشتہ کےبعد ایکسپوسنٹر پہنچے یکم نومبر سے شروع ہونے والے بک فیئر کا آج چوتھا دن تھا۔۔۔۔۔اس بک فیئر میں جہاں صاحبان کتب سے ملاقات ہوئی وہیں محبان کتب سے بھی ملاقاتیں ہوتی رہیں محبان کتب کا رش دیکھنے کے قابل تھا۔ کتاب سے محبت کرنے والوں کا ایک سمندر دیکھا۔۔۔۔سب سے پہلے رابعہ بک کے سٹال پر گئے جہاں ذوالفقارباری جوکہ پھول کلیاں ملتان کے سینئر لکھاری تھے اپنے بچوں کے ساتھ آئے ہوئے تھے ان سے ملاقات ہوئی۔بزم قرآن میگزین کے محند سرفراز اجمل رات سے رابطہ میں تھے صبح ایکسپو سباٹر پہنچتے ہی کال کی تو بتایا رابعہ بک کے سٹال پر آجائیں ان سے ملاقات ہوئی اور پھر سٹالز کا دورہ شروع کیا۔قاری محمدعبداللہ کے دوست خاص محمد شفیق اپنے دوست کے ساتھ قصور سے اسپیشل ہم سے ملنے آئے ان کے ساتھ بھی خوب اچھا وقت گزرا۔ اس دوران شہزاد اسلم راجہ سے بھی ملے۔۔بچوں کا کتاب گھر کے سٹال پر گئے تو وہاں ابوالحسن طارق اور فہیم عالم نے خوش آمدید کہا اور بریانی سے تواضع کی۔ہمارے منع کرنے پر بھی وہ نہ مانے۔۔۔بس پھر بریانی اور کوک سےپورا پورا انصاف کیا۔کھانے کے بعد فہیم سے اجازت لے کر دوبارہ سٹالز کا دورہ شروع کیا۔اکادمی ادبیات و پھول کے سٹال پر گئےتو شعیب مرزا بھائی نظر نہ آئے جب تلاش سٹال کے ابدر اچھی طرح نظریں دورائیں تو ایک کونے میں بھائی جان کھانے سے دو دو ہاتھ کرتے پائے گئے۔

کھانے سے فراغت پر ان کی نظر ہم پر پڑی تو فوراً ملنے کے لیے اٹھے اور خوشی سے گلے ملے۔۔۔۔۔عبداللہ سے ناراضگی کا اظہار بھی کیا اور گلے شکوے بھی۔۔۔۔ویسے بھی گلے شکوے انہی سے ہوتے ہیں جن سےمحبت ہوتی ہے۔ناراضگی اتنی تھی کہ ہفتہ کو پروگرام تھا مگر عبداللہ ملتان تھا کل کیوں نہیں آیا۔۔۔۔۔دونوں کے گلے شکوے جاری تھے کہ میری نظر اسد نقوی پر پڑی۔۔۔۔۔اور میں اس کے پاس سے گزرتے ہوئے جان بوجھ کر اس سے ٹکرایا اور کہا ذرا دیکھ کر چلو۔۔۔۔۔۔اس سے پہلے کہ اسد کچھ کہتا اس نے مجھے پہچان لیا اور بغل گیر ہوا۔۔۔۔۔ویسے اسد نام میرا پسندیدہ نام ہے بہت اچھا لگتا ہے۔۔۔۔اسد پر یہ نام فٹ ہے۔۔۔۔۔۔یہ شیر ہے ادب کا شیر۔۔۔۔۔۔
اسد سے مل کر آگے بڑھے ہی تھے کہ سید بدر سعید کی نظرمجھ پر پڑی وہ آئے اور آکر تپاک سے گلے ملے۔۔۔۔۔دونوں بھائی یعنی اسد اور بدر شہزادےہیں لاہورکے۔۔۔۔

  اس دوران طارق ریاض خان فدا شاہیں بھٹی اور عبدالمنان کی کالز آئیں کہ وہ ایکسپوسنٹر ہم سے ملنے آرہے ہیں مل کر جانا۔۔۔۔۔۔۔عبدالصمد مظفر کے ساتھ پروفیسر زابر سعید بدر سے ملاقات ہوئی۔۔۔۔زابر سعید بدر صاحب علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ ماس کمیونیکیشن کے طلبہ کے لیے صحافتی نصاب کی کتابیں لکھتے ہیں اور معروف صحافی ہیں۔ان سے ملاقات کے بعد سرفراز اجمل کی طرف سے چائے کی دعوت پر کیفےٹیریا کی طرف گئے جہاں ہم نے چائے پی اس دوران عبدالمنان بھی ملنے آگئے۔۔۔۔۔۔

کچھ دیر بعد طارق ریاض خان ہمیں تلاش کرتے کرتے پہنچ گئے۔۔۔۔خوب گرم جوشی سے ملے اور کہا اسپیشل علی عمران کے لیے یہاں آیا ہوں۔۔۔۔۔۔فدا شاہیں بھٹی بھی پہنچ گئے یوں 6 بجے تک بہت سارے دوستوں سے ملاقات ہوگئی۔۔۔۔۔۔اس دوران غلامذادہ نعمان صابری کی مسلسل کالز انکی محبت کا ثبوت دے رہی تھیں کیونکہ انکی طرف شام کے کھانے کی دعوت تھی اور ہم نے وہاں جانا تھا اس دوران قاری عبداللہ کے دوست قاری رمضان عزیزی بھی ہمارے ساتھ ساتھ رہے اور کھانے کی دعوت دیتے رہے۔۔۔۔۔ہم مسلسل انکار کرتے رہے کیونکہ نعمان صابری سے ہم شام کے کھانے کا وعدہ کرچکے تھے۔۔۔سرفراز اجمل نے بھی بہت کہا کہ رات کھانا ہمارے ساتھ کھائیں اور صبح ملتان کے لیے روانہ ہوں۔۔۔۔۔مگر ہم مجبور تھے انہیں بھی انکار کیا۔۔۔۔۔۔عزیر رفیق بھی کالز کر کے اپنی طرف آنے کی دعوت دیتے رہے وقت کی قلت کے باعث ان سے بھی نہ مل سکے۔۔۔۔۔ رمضان عزیزی اور عبداللہ کے ساتھ کریم کار پر نعمان صابری کی طرف نشتر کالونی روانہ ہوگئے۔ایک گھنٹہ کی مسافت کے بعد ہم ان کے پاس تھے۔۔۔۔انہوں نے خوب استقبال کیا اور کھانے میں بھرپور آو بھگت کی۔۔۔۔۔چائنیز پلاو کوفتے اوربھنے ہوئے قیمہ سے خوب پیٹ بھرا۔۔۔۔۔۔ساتھ سپرائٹ سے ہضم بھی کرتے رہے۔۔۔۔اس کے بعد چائے کا دور چلا۔۔۔۔۔اور پھر ہم ان سے اجازت لے کر واپسی کے لیے چلے۔۔۔۔۔نعمان صابری کے بارے میں بتاتے چلیں کہ وہ کرن کرن روشنی

کے وٹس ایپ گروپ کے متحرک ممب ہیں اور لکھاری وقاری ہیں۔۔۔۔انکی محبت نے انکی میزبانی قبول کرنے پر مجبور کیا اور انہوں نے بھی میزبانی میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔۔۔۔۔بہت سادہ اور اچھی طبیعت کے مالک انسان ہیں۔۔۔۔اللہ جی کا شکر ہے کہ ایسے مخلص بندوں سے ہمارا تعلق قائم کروایا دعا ہے تاحیات رہے۔۔۔۔آمین
یاد آیا واپسی پر ندیم اختر سے بھی ملنا تھا مگرہم ایکسپو سنٹر سے ہی جناح ٹرمنل پہنچ گئے نیازی اڈے کی طرف نہیں گئے ورنہ ندیم اختر سے بھی ملتے۔۔۔۔پھر سہی۔۔۔۔رمضان عزیزی نے ہمیں الوداع کیا اور ہم ملتان کے لیے علی ایکسپریس پر بیٹھ چکے تھے۔
بک فیئرمیں محبان کتب کی
بڑی تعداد میں آمد نےثابت کردیا کہ ابھی بھی دور جدیدمیں کتاب کی اہمیت ختم نہیں ہوئی اورکتاب پڑھنے والے ہارڈ کاپی میں کتاب پڑھنے کے شوقین ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
روداد : علی عمران ممتاز






Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved