تازہ ترین  

دھرنوں کے دوران ہونے والی توڑ پھوڑ پر چیف جسٹس کا نوٹس
    |     1 week ago     |    اداریہ
میاں ثاقب نثار (چیف جسٹس ) نے آسیہ بی بی کی بریت کے خلاف احتجاج، دھرنوں اور ہنگامہ آرائی سے ملک بھر میں عوامی املاک کو پہنچنے والے نقصانات کا نوٹس لے لیا ہے اور اونهوں نے اس کی تمام تفصیلات اپنے دفتر جمع کروانے کی ہدایت بهی کردی ہے اور جس کے مطابق قومی اور صوبائی حکومت کو تین روز کے اندر نقصانات کی تفصیل جمع کرنے کا حکم دیا گیا ہے

اس سے پہلے 31 اکتوبر کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے توہین مذہب کیس میں آسیہ بی بی کی سزائے موت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں بری کرنے کا حکم دے دیا تھا۔

اور اس فیصلے کے خلاف مذہبی جماعتوں کی جانب سے اسلام آباد، لاہور اور کراچی سمیت ملک کے دیگر حصوں میں احتجاج شروع کردیا گیا تھا۔

اور مظاہرین نے سڑکوں کو بلاک کیا اور گاڑیوں کو نذر آتش بهی کیا جس کی وجہ سے نظام زندگی مفلوج ہوگیا تھا لیکن ہماری عوام نے اپنا ہی نقصان کیا چاہے فیصلہ غلط تها چاہے صحیح مگر ہم نے مزید غلط کیا کہ اپنے ہی ملک کو بند کر کے رکھ دیا-

ثاقب نثار صاحب نے آسیہ بی بی کی بریت کے خلاف احتجاج کے دوران ’عوامی املاک اور جانوں کے نقصان‘ پر نوٹس لیا تاکہ متاثرین کی قیمتی اشیاء اور املاک کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کیا جا سکے
یہ بهی سننے میں آیا ہے کہ سپریم کورٹ نے ملک بھر میں عوامی املاک اور جانی نقصان سے متعلق میڈیا رپورٹس کے بعد نوٹس لیا۔

یہ بهی یاد رہے کہ 30 نومبر کو تحریک لبیک پاکستان اور حکومت کے مابین مذاکرات طے پائے جس کے بعد ٹی ایل پی کی قیادت نے ملک گیر احتجاج اور دھرنوں کا سلسلہ ختم کرنے کا اعلان کردیا تھا۔

جس کے مطابق آسیہ بی بی کا نام فوری طور پر ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کے لیے قانونی کارروائی عمل میں لائے جائے گی۔

اور اگر تحریک لبیک آسیہ بی بی کی بریت کے خلاف مزید شہادتیں لاتی ہے تو اسے قانونی چارہ جوئی میں شامل کیا جائے گا

اور اس کے علاوہ تحریک لیبک نے عوام کو پیش آنے والی پریشانی اور مشکلات پر معذرت کی تھی تاہم دھرنے اور احتجاج کے دوران نجی یا سرکاری املاک کے نقصان کی تلافی سے متعلق کوئی بات نہیں کی گئی جس پر چیف جسٹس صاحب اب نوٹس لے رہے ہیں-





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved