تازہ ترین  

کامیابی کا راز
    |     6 days ago     |    کالم / بلاگ

اللہ نے اس دنیا کا نظام چلانے کے لیے کچھ اصول، ضابطے اور قاعدے مقرر کیے ہیں۔ بلاتفریق مسلمان اور غیرمسلم جو بھی انسان ان کی پابندی کرے گا اور متعین کردہ اصولوں کے مطابق چلے گا، اس کے لیے کامیابی کے دروازے کھل جائیں گے۔

تاریخ کے اوراق شاہد ہیں ”بابر“ جب فرغانہ سے چلا تو سانڈ کی ننگی پیٹھ پر سوار تھا، بے سرو سامانی ہی اُس کا سروسامان تھی، لیکن جفاکشی نے اُسے غلام نہیں، سلطان بنادیا۔

"ایس ایم منیر" کو لوگ کاروبار کا بے تاج بادشاہ کہتے ہیں۔ ایس ایم منیر نے پاکستان کی کاروباری برادری میں جس قدر شہرت سمیٹی ہے وہ شاید ہی کسی کے حصے میں آئی ہو۔ چمڑے کے کاروبار کے آغاز میں ہی انہیں نقصان ہوا تو انہوں نے غلط طریقوں سے کاروبار کو سہارا دینے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا: "مجھے دیوالیہ ہونا منظور ہے' لیکن اپنی زبان اور ساکھ پر حرف نہیں آنے دوں گا۔" نتیجہ صاف ظاہر تھا۔ ان کا سارا اثاثہ اصول کی نذر ہو گیا۔ صرف ایک گھر اور کچھ زیور باقی بچا' لیکن ان کے والد نے جو اصول انہیں سکھائے تھے' ان کی بدولت ایس ایم منیر کو دوبارہ سہارا ملا اور آج دین گروپ کا شمار پاکستان کے چوٹی کے کاروباری گروپس میں ہوتا ہے۔

کامیاب لوگ کے الفاظ سنتے ہی دماغ میں سب سے بل گیٹس کا نام اُبھرتا ہے۔ بِل گیٹس (Bill Gates) کی وجہ شہرت ونڈوز، مائیکرو سافٹ ہیں.دنیا کا امیر ترین آدمی بننے سے قبل "بل گیٹس" ایک ناکام کاروباری شخص تھا۔ اس کی پہلی کمپنی Traf-O-Dataتھی، جس کا مقصد سڑکوں پر موجود ٹریفک کے کاؤنٹرز پر موجودخام مواد کو پڑھنا اور ٹریفک انجینئرز کے لیے رپورٹ تیار کرنا تھا۔  کمپنی کی پروڈکٹ Traf-O-Data 8008 ایک ایسی ڈیوائس تھی جو ٹریفک کے ٹیپ کو پڑھ اور ڈیٹا کو پروسیس کر سکتی تھی۔ ابتدا میں انھوں نے مقامی قصبے کو پروسیسنگ سروس فروخت کرنے کی کوشش کی تھی مگر ان کا پہلا مظاہرہ ہی ناکام ہو گیا۔ لیکن وہ ہنسی خوشی سے زندگی کے نشیب و فراز سے گزرتے رہے۔ وہ بڑی لگن سے محنت کرتے رہے اور آخر کار مائیکروسافٹ دنیا کی سب سے بڑی پرسنل کمپیوٹر سافٹ ویئر کمپنی بن کر اُبھری۔

 
نک ووڈ مین (Nick Woodman)  فن بگ (FunBug)  پہننے کے قابل کیمروں کی تخلیقی کمپنی کا مالک ہے.  نِک کالج کے دِنوں میں ایک اوسط درجے کا طالب علم تھا.سب سے پہلے اس نے ایک ای کامرس ویب سائٹ Empowerall ڈاٹ کام تخلیق کی. یہ ویب سائٹ سستی الیکٹرانک اشیا فروخت کرتی تھی۔کمپنی کوئی منافع نہ کما سکی، لہٰذا اسے جلد ہی بند کر دیا گیا۔ اس ناکامی نے اسے مزید محنت پر مہمیز کیا۔ لہٰذا 1999 میں اس نے فن بگ (FunBug) نامی ایک آن لائن مارکیٹنگ کمپنی قائم کی۔ اس ویب سائٹ کا طریقہ کار کھیل کے ذریعے مارکیٹنگ کرنا تھا۔ یہاں تک کہ وہ مختلف سرمایہ کاروں سے 3.9 ملین ڈالر کے فنڈز حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ مگر 2001 تک نِک جن کمپنیوں سے مارکیٹنگ کر رہا تھا ان کے ذریعے وہ اپنے صارفین بنانے میں ناکام رہا تھا،  یہاں دوسری بار ناکامی ہوئی اور چار ملین ڈالر کا نقصان ہوا. دوسری کمپنی ڈوبنے کے بعد نِک سرفنگ نے کیمرے کے لیے ایک نئی قسم GoPro پر کام شروع کیا جنھیں پہنا جا سکتا تھا یا جو ایتھلیٹس اور مہم جُو لوگ استعمال کر سکتے تھے۔  مسلسل ناکامیوں کا شکار رہنے والے نِک ووڈ کو GoPro نے دنیا کے کم عمر ترین ارب پتی افراد کی صف میں لا کھڑا کیا اور وہ امریکا کی سب سے تیزی سے ترقی کرتی ہوئی کیمرہ کمپنی کا مالک بن گیا۔

ایپل کمپنی کے مالک اسٹیو جابز (Steve Jobs)  ایک جینیئس کے طور پر مانتے ہیں۔
24 فروری 1955ء کیلی فورنیا میں پیدا ہونے والے اسٹیو جابز اور اس کے پارٹنر اسٹیو وزنیک (Steve Wozniak) نے ایپل کمپنی میں اپنا پیسا اور وقت صرف کیا جو زیادہ موثر ثابت نہ ہوا اور ان کی بنائی گئی پروڈکٹ کے صرف 175 یونٹس فروخت ہو پائے۔ یہ شکست خوردہ ماحول تھا جس نے جابز کو اس کمپنی سے بے دخل کر دیا جو اس نے قائم کی تھی۔’’ناکامی ایک فیڈ بیک ہے‘‘ کے اصول پر عمل پیرا ہوتے ہوئے جابز نے محنت جاری رکھی اور کچھ ہی عرصے میں ایک اور کمپنی Next قائم کی۔ یہ کمپنی بھی پروڈکٹ میں ہارڈ ویئر کا مسئلے کی وجہ سے اپنے انجام کو پہنچی. اور جابز واپس اپنے نقطہ آغاز پر پہنچ گیا۔

مختلف تجربوں اور بے شمار ناکامیوں سے لیس جابز اب پہلے کی بہ نسبت کامیابی حاصل کرنے کے لیے زیادہ پُرعزم تھا۔ اور آخر کار اس کا والٹ ڈزنی، ہیولٹ اینڈ پیکارڈ (HP) اور اِنٹل جیسی کمپنی قائم کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا ؟‘‘

ان شخصیات نے ابتدائی ناکامیوں پر اپنی شکست تسلیم نہیں کی، اس کے بجائے انھوں نے اپنی ناکامیوں کو انجوائے کیا اور انھیں ایک اہم سبق کے طور پر سراہا۔ وہ اپنی غلطیوں اور ناکامیوں کو تسلیم کرنے میں خوف زدہ نہیں ہوئے بلکہ ناکامیوں کی صورت میں ملنے والے فیڈ بیک سے دنیا میں خود کو منوایا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آج کامیاب لوگ کہلاتے ہیں بلکہ کامیاب ترین۔

ناصر الدین بادشاہ ہو یا روس کا سابق ڈکٹیٹر اسٹالن' فرانس کا مشہور حکمراں نپولین ہو یا مشہور سائنسدان ”تھامس الوا ایڈیسن“ .
نادر شاہ ہو یا فرانس کی مشہور ملکہ ”جوزیفائن“. اٹلی کا سابق ڈکٹیٹر مسولینی ہو یا امریکا کا سابق صدر ابراہم لنکن. برصغیر کے پہلے مسلمان بادشاہ قطب الدین ایبک ہوں یا جمہوریہ کانگو کے پہلے وزیرِ اعظم ”لومبا“. سقراط ہو یا مشہور انگریز ادیب ”تھامس کارلائیل“.یا پھر مشہور امریکی مدبر، مصنف اور سائنسدان ”بنجمن فرینکلن“ سب کے سب غریب گھرانوں سے تعلق رکھنے والے تھے.

ہر شخص کی زندگی میں کوئی نہ کوئی لمحہ، کوئی نہ کوئی موڑ، کوئی نہ کوئی وقت ایسا ضرور آتا ہے جو انسان کی قسمت، تقدیر اور حالات بدل دیتا ہے۔ انتھک محنت اور بے لوث خدمت دو ایسے کام ہیں جو انسان کو کامیابی اور ترقی کی دہلیز تک پہنچادیتے ہیں۔

امریکی ماہر نفسیات "میلانی گرین برگ" لکھتی ہیں کہ: "کامیاب لوگ صرف خواب ہی نہیں دیکھتے، بلکہ ان کو حقیقت میں بدلنے کے لئے اپنی پیشرفت پر بھی نظر رکھتے ہیں۔ کامیابی کا راز صرف محنت میں نہیں، بلکہ عقلمندی سے مسقتل مزاجی سے کام کرنے میں پوشیدہ ہے۔







Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved