تازہ ترین  

فیس بک جنریشن (طنز و مزاح)
    |     6 days ago     |    طنزومزاح
۔اپنی کلاس کے(بطور ٹیچر ایک ادارے میں کام کرتا ہوں)ایک ممی ڈیڈی بچے سے پوچھا کہ"آپ کے پاپا کیا کرتے ہیں"تو شرماتے،لجاتے،لچکاتے ہوئے گویاہوا کہ
"سر پاپا وہی کرتے ہیں جو مما کرواتی ہیں"۔۔۔۔۔اور پاپا؟۔۔۔"جی پاپا وہی کرتے ہیں جو مما چاہتی ہیں۔"۔۔۔اور مما کیا چاہتی ہیں۔۔۔۔وہ کیا چاہیں گی سر "مما تو خود پاپا کی چاہت ہیں".ایسے بچوں کو,F B generation yuppy بچے بھی کہتے ہیںیعنی جو بات سمجھ نہ آئے اس پہ yup,yup اور سمجھ آ جائے تو waooo ۔انہیں she بچے بھی کہا جا سکتا ہے۔کیونکہ یہ ہر بات پہ "she,she" یا "سی،سی " کہہ رہے ہوتے ہیں۔کبھی کبھار تو یہ" سی "کہتے نہیں بلکہ نکل جاتی ہے۔ایسے بچوں کا کوئی اور فا ئدہ ہو نہ ہو خرچہ بہت کم کرواتے ہیں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ایک بہن کے ساتھ ایک ممی ڈیڈی بچہ مفت میں پرورش پا جاتا ہے۔کہ ماسوا "انڈرگارمنٹس" کے ہر شے باجی کی استعمال شدہ اپنے استعمال میں لے آتے ہیں۔اور تو اور باجی کے جھمکے تک پہن کر جھمک جھمک اور ٹھمک ٹھمک کے سے اندازِ خرامانہ طاؤس چلتے ہیں کہ مسٹر فراز کم ،مس فرزانہ کاگماں زیادہ ہوتا ہے۔
فیس بک جنریشن کے نو جوان face ہی سے پہچان لئے جاتے ہیں۔کہ ایسے بچے محضfaces بناتے ہیں ، book سے ان کا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔ایسے نوجوان face کے نزدیک اور book سے بہت دور رہتے ہیں۔FBپر mail اتنی چیک نہیں کرتے جتنی female اور وہ بھی فی میل(per mile)کی سپیڈ سے۔ان کی نظروں سے کوئی بھی female بچ نہیں سکتی۔کسی دن اگر سٹیٹس تبدیل کرنا بھول جائیں تو وہ دن ان کے کئے انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے۔جلد کسی کے ہاں مہمان نہیں بنتے ،البتہ اُنہیں کے ہاں مہمان بننا پسند ہے جن کے ہاںwi fi سگنل پورے آتے ہوں۔ایسے نوجوان جن کے ہاں بھی مہمان بن کر جاتے ہیں حال و احوال سے قبل پوچھتے ہیں کہ آپ کے وائی فائی کا pass word کیا ہے۔
پرانے لوگ کہا کرتے تھے کہ نیکی کر دریا میں ڈال،FB جنریشن کہتی ہے کہ کچھ بھی کر face book پہ ڈال۔ان کی گفتگو و انداز گفتگو دونوں ہی "قابل دید " ہوتا ہے۔کبھی کبھار تو دوران گفتگو "کتھک،سالسا،کلاسیکل،ڈسکو،لاوا،اور جھومر" وہ کون سا ڈانس ہے جن کے step یہ نہ کر پاتے ہوں۔گویا گفتگو کم اور ڈانس زیادہ۔FB جنریشن کی گفتگو کا آ غاز ,like,dislike,status,upload سے شروع ہو کر feeling sad پہ جا کر ختم ہو جاتا ہے۔ان کی آپس میں ناراضگی بھی عجب قسم کی ہوتی ہے کہ کیا لڑکیاں آپس میں" طعنے معنے"دیتی ہونگی۔مثلاً تم نے باجی کے سٹیٹس کو like کیوں نہیں کیا ،میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا۔اور دوست بھی ماشااللہ ،status سے قبل ہی باجی کو like کئے بیٹھا ہوتا ہے۔یا پھر۔۔۔۔میری مما پاپا کی شادی کی تصویر دیکھی تھی نا ،کتنے cute لگ رہے تھے نا،مگر میں آپ سے بات نہیں کرتا تم نے اس پہ اتنا گندہ کمنٹ کیا کہ اس پہ مما ،پاپا کو ڈانٹ پلا رہی تھی کہ دیکھو اپنے لاڈلے کے دوست،حالانکہ مما نے کمنٹ پہ دل والا لائیک کیا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔فیس بک سٹیٹس نے لوگوں کو استعمال کرکر کے اتنا گرا دیا ہے کہ بیورو کریٹس قسم کے لوگ سٹیٹس اپلوڈ کر رہے ہوتے ہیں۔checked into barber shop for cutting بندہ پوچھے کہ باربر کی دکان بال کٹوانے کے لئے ہی ہوتی ہے ،کھانا کھانے کے لئے تھوڑی ہوتی ہے۔FBجنریشن کی حالت اس وقت قابل رحم ہوتی ہے جب کسی ایسی جگہ ہوں کہ جہاں wi fi کے سگنل نہ آ رہے ہوں۔اور ڈیٹا نیٹ ورکنگ کی سپیڈ بھی بہت کم ہو تو ان کی حالت "ہیروئنچی" جیسی ہوتی ہے ۔فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ ہیروئنچی نشہ نہ ملنے پر جسم کو کھجا ر ہا ہوتا ہے جبکہ فیس بک کے "پپو بچے" بار بار ٹچ سکرین کو کھجاتے دکھائی دیتے ہیں۔ایسی صورت حال میں FB ہیروئنچی اپنی اپنی "کھوہ" سے نکلتے ہیں اور فیملی کے بڑے بوڑھے سے علیک سلیک بڑھاتے ہوئے بہتر محسوس کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یار "بڑے اچھے لوگ ہیں کبھی کبھار ان سے بھی ملنا چاہئے"
جہاں فیس بک کے بہت کے نقصانات ہیں وہاں کچھ فائدے بھی ہیں کہ اب خواتین کو دوسروں کی "ٹوہ" میں نہیں رہنا پڑتا۔FB سے سب پتہ چل جاتا ہے۔کہ کس "دشمن "نے کون سا اور کس رنگ کا سوٹ اور لپ اسٹک لگا رکھی ہے،کہاں کہاں چگلی میٹنگ ہو رہی ہے اور آئندہ کس کے ہاں چگلی میٹنگ ہو گی وغیرہ وغیرہ۔گویا سب کا راز افشاں کرنے والی کتاب کا نام ہے فیس بک۔یہ واحد کتاب ہے جسے بچے،جوان،اور طالب علم بڑے شوق سے پڑھتے ہیں جبکہ بڑے بوڑھے اور ان پڑھ اسے تجسس سے دیکھتے ہیں۔اور "موج مزہ"کرتے ہیں۔کہ" بابوں" کا وقت اچھا گزر جاتا ہے۔ 





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved