تازہ ترین  

وزیر اعظم پاکستان ۔۔۔ نئے پاکستان سے مدینہ جیسی ریاست تک
    |     6 days ago     |    کالم / بلاگ



دور چین مکمل کرنے کے بعد وطن واپسی پر وزیر اعظم عمران خان نے احتجاجی دھرنوں کی صورتحال پر وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری سے ملاقات کی اس ملاقات میں ایک بار پھر پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان عمران خان صاحب نے کہا ہے کہ وہ پُر امن اسلام کے امیج کو پوری دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں حضور ﷺ کی سیرت طیبہ کے پیغام رحمت کو اپنی آئندنسلوں تک پہنچانار یاست کی زمہ داری سمجھتے ہیں ریاست پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کے لئے علماء کرام مشائخ اور دینی طبقات سے مشاورت کی ضرورت ہے۔ایک اسلامی ملک ہونے کے ناطے وزیر اعظم کا یہ بیان قابل تعریف ہے کہ وہ پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنانا چاہتے ہیں مدینہ کی ریاست جہاں امیر غریب وزیر مشیر بادشاہ غلام کا کو ئی تصور موجود نہ تھا کوئی وی آئی پی کلچر کوئی پرٹوکول کوئی وزیراعظم ہاوس گورنر ہاوس وزیر اعلی ہاوس کا تصور نہ تھا صرف ایک مقصد تھا کہ اسلام کا مکمل نفاذ دین کی مکمل خدمت غریب کے مسائل کا مکمل مستقل حل غریب کو انصاف کی فوری فراہمی غریب کے بہتر روزگار کا بندوبست معاشی تنگدستی کا خاتمہ یہ وہ اقدامات تھے جن پر مدینہ کی ریاست قائم تھی جس کے لئے بھر پور جدو جہد کی ۔
وزیر اعظم عمران خان نے اپنے اقتدار کے پہلے قوم سے خطاب میں بھی پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنانے کا عزم ظاہر کیا تھا جو ایک مشکل ہدف ہے مگر ناممکن نہیں تحریک انصاف کی حکومت کو تین ماہ کا عرصہ ہونے کو ہے مگر اس وقت تک مدینہ کی ریاست کا کو بھی خاقا اپ تک ہمارے سامنے نہیں آسکا ہے جس سے یہ اُمید رکھی جائے کہ ہم مدینہ کی ریاست بنے جارہے ہیں تین ماہ کا عرصہ کوئی بڑا عرصہ نہیں ہے اقتدار کی اس عمر میں حکومتیں اپنے آپکو مستحکم کرنے کی جدوجہد کرتی ہیں ایک پیدائشی بچہ بھی اگر تندرست ہو تو ایک سال کے بعد اپنے پیروں پر چلنے کی کوشش کرتا ہے حکومت کی کارکردگی کو جانچنے کے لئے بھی کم از کم ایک سال کا عرصہ درکار ہونا چاہے موجود حکومت نے عوام سے اقتدار کی کرسی کے لئے بڑے بڑے وعدے کیے تھے جن کی تکمیل اس وقت تک نا ممکن نظر آتی ہے اقتدار کے ایک ماہ میں ہی وزیر اعظم نے عوام پر گیس بجلی پیڑول اشیا سرف میں اضافے کے بم برسائے جس سے غریب عوام مزید مشکلات میں آگئے ہیں مدینہ کی ریاست کا تصور پیش کرنے والے وزیر اعظم عمران خان نے عوام کے مسائل کو فوری حل کرنے کے دعوؤں کا جنازہ نکال دیا ہے
موجود حکومت کا یہ موقف درست ہے کہ چالیس سال کا گندہ پانچ سال میں صاف نہیں کیا جاسکتا اگر یہ بات درست ہے تو پھر تحریک انصاف کی قیادت کو بڑے بڑے دعوے کرنے کی کیا ضرورت پیش آئی تھی کیوں عوام کو جنت کے خواب دیکھاکر دوزخ کی جانب دھکیلا جارہا ہے روز بروز مہنگائی میں اضافہ کیا جارہا ہے حکومت کے سو دن پورے ہونے کو ہے مگر اس وقت تک حکومت کی سمت کا درست تعین نظر نہیں آرہا غیر ضروری اقدامات کی جانب حکومت کی توجہ مرکوزہ ہے وزیر اعظم سمیت وزیر مشیر سب کو احتساب کی فکر لاحق ہے پوری تحریک انصاف مخالفین کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دیکھنا چاہتی ہے کیا غریب کا ووٹ خان صاحب نے صرف احتساب کے لئے حاصل کیا تھا ستر برس سے مسائل کی زد میں مبتلا غریب کے مسائل کو کم کرنے کے بجائے اس کے مسائل میں اضافہ کر دیا گیا ہے غیر قانونی تجاوزات کے نام غریب سے اُس کا روز گار چھینا جارہا ہے اُس کو متبادل جگہ فراہم کرنے کے بجائے اُس کو فیملی سمیت سڑک پر بھیک مانگنے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے یہ ہے نیا پاکستان یہ ہے مدینہ کی ریاست کا تصور ملک میں تبدیلی کی ہوا صرف نیب احتساب عدالت یا سپریم کورٹ میں نظر آرہی ہے جہاں پر گناہ گار اپنی پیشی بھگت رہے ہیں مگر غریب نئے پاکستان میں بھی مسائل کی گردش میں مبتلا ہے
سعودی عرب سے چین سے پاکستان کو امدادی پیکیج مل گیا ہے جس پر وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ایک سال تک کوئی معاشی بحران کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا یعنی اگر یہ کہا جائے کہ پاکستان اپنی معیشت کو بہتر کرنے کی پوزیشن میں ہے تو غلط نہ ہوگا مگر ان پیکیج سے غریب کی زندگیوں میں کیا تبدیلی آئی ہے یا آسکتی ہے یہ بات اپنی جگہ طے ہے کہ حکومت کی جانب سے غریب کی زندگی میں جو مہنگائی کا طوفان آیا تھا اس میں کمی کسی طور نہیں کی جائے گی جبکہ قوم کو اُمید تھی کہ وزیر اعظم سعودی عرب اور چین کے دورے کے بعد عوام کو ریلیف پیکیج دے کر نئے پاکستان اور مدینہ کی ریاست کی اُمید دیلائیں گئے مگر افسوس ایسا کرنے کے بجائے اپ پاکستان جو قرض IMF سے لینے جارہے ہے اس کے بعد غریب کی زندگیوں میں مزید طوفان آنے کا ندیشہ اپنے جگہ موجود ہے
محترم وزیر اعظم صاحب آپکی شخصیت محب وطن ہے آپکے دل میں غریب کے مسائل کا درد موجود ہے آپ پاکستان کو تر قی و خوشحالی کی جانب گامزن کرنے کا یقیننا عزم رکھتے ہیں پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنانے کی اُمید رکھتے ہیں مگر وزیر اعظم صاحب یہ ستر برس کی مایوس قوم ہے جس نے ہمیشہ سیاستدانوں کے ہاتھوں دھوکے کھائے ہیں ہر مشکل وقت میں یہ قوم اپنے معزز اداروں کے ساتھ کھڑی رہی ہے دہشت گردی معاشی بحران اور دیگر مسائل کا بڑے حوصلے سے مقابلہ کرتی آئی ہے خدارہ اپ اس غریب عوام پر رحم کی ضرورت اس کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے اس قوم کو نیا پاکستان مدینہ جیسی ریاست نہیں چاہے بلکہ اس قوم کو اسلام کے نام پر وجود میں آنے والا پاکستان قائداعظم کی جدوجہد والا اقبال کے خواب والے پاکستان کی ضرورت ہے اگر ہم اپنے بانی حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کے اصولوں پر قائم رہے کر پاکستان کے بہتر مستقبل کی جدوجہد کرنے میں کامیاب ہوگئے تو پاکستان خود با خود مدینہ کی ریاست بن کر دنیا کے سامنے فخر سے کھڑا ہوجائے گا دنیا ہمیں خود مدینہ کی ریاست کہنے پر مجبور ہوجائے گی 





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved