تازہ ترین  

ملک و قوم کو بحرانوں سے بچانا اشد ضروری ہے !
    |     6 days ago     |    کالم / بلاگ
ماہر نفسیات انتھونی سٹیوینز نے کہا تھا کہ جنگیں پارلیمینٹ یا فوجی ہیڈ کواٹرز میں نہیں بلکہ انسانی ذہنوں سے شروع ہوتی ہیں ۔جس سے ثابت ہوتا ہے کہ دوسروں کے خلاف جنگ لڑنے کا محرک انسان کے اندر موجود ہوتا ہے جسے تحریک تب ملتی ہے جب انسان کو یہ باور کروا دیا جائے اولاً یہ کہ اس کی حق تلفی ہو رہی ہے دوئم یہ کہ اس کے ساتھ ہونے والی نا انصافی پر کوئی بھی پشیمان نہیں ہے لہذاا پنے حق کو چھیننے کے لیے وہ جو بھی کرے گا وہ جائز اور بر حق ہوگا ۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا اس جذبے کی بالیدگی بنی نوع انسان کے لیے واقعی خطرناک ہے تو اس کا جواب ہمیں نسلی ارتقا کے ماہرین سے یہ ملتا ہے کہ جنسیت کی طرح جارحیت بھی ہر نوع کی بقا کے لیے نا گزیر ہے ۔جارحیت انسان میں دھونس بازی اور آگے بڑھنے کی تحریک اجاگر کرتی ہے اسی جارحانہ رحجان کی وجہ سے انسان طاقت ور کو ہرا کر خوش ہوتا ہے اور اس کا آغاز سکول سے ہی نمبر ون پوزیشن کے حصول کی کاوش سے ہو جاتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ زیست کی پر پیچ پگڈنڈیوں پر بھاگتے‘ بل کھاتے مطلوبہ مقام تک پہنچ جاتا ہے پھر معاشرتی ضروریات کے لیے اسے جارحانہ ردعمل اپنانا پڑتا ہے جیسا کہ اپنے لیے دستیاب جگہوں پر گھر بنانا اور معاشی ضروریات اور کاروبار زندگی کے لیے ذاتی کاروباری مرکز قائم کرنا ۔۔اس کی سادہ مثال ہم بھکاری کی زندگی سے بھی لے سکتے ہیں کہ بھکاریوں نے بھی علاقے مختص کر رکھے ہیں اور نئے آنے والے کو اپنی جگہ بنانے کے لیے اپنی طاقت اور ہمت دکھانا پڑتی ہے ۔ یہی برتری اور غالب آنے کی خواہش ہی ایک فرد کو رہنما یا قائد بناتی ہے ۔درج بالا مثال سے واضح ہے کہ جارحیت چھوٹے گروہ کا بڑے گروہ کے خلاف ایسا ردعمل ہے جو طاقت کے توازن میں کمی کی صورت میں احساس محرومی کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے جس میں مذکورہ شخص خود کو یا دوسروں کو نقصان پہنچاتا ہے اس جارحانہ ردعمل میں فرد کی مرضی شامل نہیں ہوتی کیونکہ اختیار کیے جانے والے تمام طریقے لاشعوری ہوتے ہیں کیونکہ فرد کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفقود ہو جاتی ہے تو ایسی صورت میں توڑ پھوڑ کرنا ، گالیاں دینا ، مذاق اڑانا ،طنز کرنا اورٹھوکریں مارنا شامل ہے مگر جب وہ براہ راست اپنے حریف کو نقصان نہیں پہنچا سکتا تو بد تہذیبی اور تخریب کاری پر اتر آتا ہے جس سے رفتہ رفتہ خود اپنے اندر وہی خوبیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے جو کہ ایک جارح میں ہوتی ہیں یعنی مظلوم خود ظالم بن جاتا ہے اور اگر وہ ایسا بھی نہ کر سکے تو انتقام کی آگ میں خود بھی جل جاتا ہے اور دوسروں کو بھی جلا دیتا ہے ۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ فی زمانہ بالا دست طبقوں کے جارحانہ عمل پر کوئی بات نہیں کرتا جبکہ کمزور طبقوں کے اسی جارحانہ ردعمل کوجہالت، تشدد ،جارحیت اور دہشت گردی کا نام دے دیا جاتا ہے ۔جیسا کہ بین الاقوامی طور پر ہر قسم کی جارحیت موجود ہے ۔بھارت کا کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑنا ، برما کا برمی مسلمانوں پر زمین تنگ کرنا ،امریکہ کا محض ایک شخص کی تلاش میں افغانستان پر تسلّط جما لینا ،عراق میں مہلک ہتھیاروں کی تلاش کا بہانہ بنا کر عراقی شہروں کی اینٹ سے اینٹ بجانا اور بالآخران کے تیل پر قبضہ کرنا ۔اسرائیل کا لبنان پر حملہ کرنا ، امت مسلمہ کے لیے تو ہر جگہ مظالم کا ختم نہ ہونیو الا سلسلہ ہے جو کبھی رکتا نظر آتا ہی نہیں مگر ان پر دنیا کے سبھی منصف خاموش ہیں ۔۔جیسا کہ آج کل یمن جل رہا ہے تو وزیراعظم پاکستان کی خواہش ہے کہ وہ یمن اور سعودی عرب کے درمیان ثالث کا کردار ادا کریں بلاشبہ یہ اچھی سوچ ہے اور مسلمانوں کو مضبوط طاقت بن کر ابھرنا ہوگا ۔سمجھ نہیں آتی مسلمان ہاتھ پہ ہاتھ دھرے کونسے ابابیلوں کا انتظار کر رہے ہیں جبکہ سابق ترک وزیراعظم نجم الدین اربکان نے کہا تھا کہ :مسلمان اس بات کے منتظر ہیں کہ ’’ابابیل ‘‘آکر اسرائیلیوں کا خاتمہ کریں ۔اللہ کی قسم ! اب کی بار اگر ابا بیل آئیں تو وہ کسی دیگر پر نہیں بلکہ ہم مسلمانوں پر کنکر برسائیں گے ۔ہم وہ لوگ ہیں کہ جو اپنوں سے لڑتے ہیں یہی وجہ ہے کہ
 وہ تین سو تیرہ تھے تو لرزتا تھا زمانہ
آج ہم کروڑوں ہیں اور کرتے ہیں غلامی

وجہ یہی ہے کہ ’’گنوا دی ہم نے اسلاف سے جو میراث پائی تھی ‘‘ جب نظریہ باقی نہ رہا‘ تشخص مشکوک ہوگیا تو نادان اور سازشی عناصر ہمارے شعور پر حاوی ہو گئے ہیں اس سے کس کو انکار ہے کہ پاکستان میں بھارتی اور امریکی لابی ہر جگہ موجود ہے بلکہ طاقت ور طبقات اور سکالرز میں ان کی درپردہ اکثریت ہے۔ یہ لوگ جب دین اسلام اور اقدار کی بات کرتے ہیں تو علمائے کرام کے لیے ’’مُلا‘‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں اور چند نام نہاد مفاد پرست و نادان مُلاؤں کی کار گزاریوں پر حالات و واقعات کو پرکھتے ہیں اور کچھ تو اپنی بات میں اثر پیدا کرنے کے لیے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال اور دیگر شعراء کے ’’ملا ازم ‘‘تصورات اور اشعار کو سند کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں بالآخر اپنی بات یہیں پر ختم کرتے ہیں کہ اگر پاکستان سے ’’مُلّاازم ‘‘ اور ’’دینی مدارس‘‘ کو ختم کر دیا جائے تو سب اچھا ہو جائے گا ۔حالانکہ وہ تمام لکھاری جنھوں نے لکھا کہ مذہب رہبانیت سکھاتا ہے انھوں نے بعد ازاں اپنے لکھے کی تر دید بھی کی اور کہیں نہ کہیں سمجھایا بھی کہ جب وہ سرکشی کی طرف مائل تھے تو اسلام دشمنی میں ایسے خیالات رکھتے تھے مگر وہ غلط تھے ۔
حدیث مبارکہ ہے : ’’لا رَھبانیۃ فیِ الاسلام ‘‘( اسلام میں رہبانیت نہیں ہے ) اسلام متوازن زندگی کو پسند کرتا ہے اور ایسی ہی زندگی گزارنے کی تلقین کرتا ہے ۔ ارشاد ربانی ہے : وَ رَھبانیۃابتدا عوھا ما کتبنا ھا علیھم الاابتغا ءَرضوان اللہِ ’’اور رہبانیت کی بدعت(عبادتوں کے لیے ترک دنیا اورلذتوں سے کنارہ کشی) انھوں نے خود ایجاد کر لی تھی ،اسے ہم نے ان پر فرض نہیں کیا تھا ، مگر انھوں نے رہبانیت کی یہ بدعت محض اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے کی ‘‘۔اب چند فرزندان اسلام کے لیے آپ اسلام کے نام پر حاصل ہونے والے وطن کو لا دینیت کی طرف دھکیل کر اس کا چہرہ مسخ نہیں کر سکتے بے شک ہمیشہ سے بیرونی طاقتوں نے کوشش کی کہ اسلام کے نام پر حاصل ہونے والی اس ریاست کے جداگانہ تشخص کو ختم کر دیا جائے اور مغرب کی فکری یلغار ایسی ہی کاوشوں میں برسر پیکار ہے کہ کبھی مذہبی معاملات اچھال کر اور کبھی سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کو ہوا دیکر ملکی حالات کو قابل رحم بنا دیا جاتا ہے ۔ جو لوگ بیرونی طاقتوں کا آلہ کار بنتے ہیں ان کا احتساب ضروری ہے کیونکہ اس مذہبی اور سیاسی دہشت گردی کی جنگ میں ملک و قوم کا استحکام اور مذہبی اقدارو روایات کا داؤ پر لگنا لمحہ فکریہ ہے ۔عوام الناس کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ :
اس قدر خوف ہے اب شہر کی گلیوں میں کہ لوگ
چاپ سنتے ہیں تو لگ جاتے ہیں دیوار کے ساتھ

انھی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے اپنے اقتدار کے آغاز میں ہی اس امر کی کوشش کی کہ علاقائی ، نسلی اور لسانی جماعتوں کے دوراندیش عہدے داران کو قومی دھارے میں شامل کیا جائے اور انہیں قومی ذمہ داریاں بھی سونپی جائیں تاکہ تجربہ کار اور سیاست کو کاروبار بنانے والے سیاستدانوں کی شعبدہ بازیوں سے بچا جا سکے ۔علاوہ ازیں تحریک انصاف کو ماضی کی حکومتوں کے مقابلے میں احتسابی کھینچا تانیوں کی وجہ سے حکومت بنانے کے لیے پرامن ماحول ملا ۔ حالات سازگار رہے اور ملکی و قومی سلامتی کے اداروں کا بھی بھرپور تعاون میسر رہا تاہم قوت فیصلہ کی کمی کہیں یا خود اعتمادی کی انتہا کہ وفاق میں بھاری کامیابی ملتے ہی تحریک انصاف کے راہنماؤں نے عوام سے رابطہ تو ڑ لیا اور حکومتی ترجمانوں اور رویوں نے قوم کو مایوس کیا حالانکہ لکھاری لکھتے رہے کہ
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں

اور حکومتی ترجمان جواباً کہتے رہے ’’پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ ‘‘ماضی کے حکمرانوں کے طرز حکومت کو آپ ’’بد عنوانی ‘‘ سے تو تعبیر کر سکتے ہیں مگر پارلیمینٹ کے فلور سے لیکر پریس کانفرنس تک سر عام چور ، ڈاکو اور لٹیرے کہنا کسی طور بھی مناسب نہیں ہے اور اس پر طرہ یہ کہ آسیہ مسیح کے معاملے پر جناب وزیراعظم اور حکومتی ترجمانوں کے کنٹینر بیانات بھی سوالیہ نشان تھے مگر پھر سبھی کو کنٹینر سے اترنا پڑا اور افہام و تفہیم سے معاملات کو طے کرنا پڑا مگر اب پھر وہی تحمکانہ انداز اور یو ٹرن پالیسی عوام الناس میں تشویش کا باعث ہے ۔موجودہ سرکار کو اپنے رویے کو بدلنا پڑے گا بریں وجہ آصف زرداری نے بھی کہا ہے کہ ’’عمران خان کو بولنے کی عادت ہے، جو بری عادت ہے، ہم نے کہا ہے کہ اب تم ایگزیکٹو پوزیشن میں آجاؤ اور ہمیں اپوزیشن کرنے دو مگر وہ نہیں سمجھتا ‘‘۔یہی مبصرین کہہ رہے ہیں کہ بر سر اقتدار کو مصالحت پسند ، نرم مزاج اور بردبار ہونا چاہیے مگر سب کچھ جوں کا توں رہا اور یہی وجہ ہے کہ عنان حکومت سنبھالنے کی ابتدائی مہینوں میں ہی تبدیلی سرکار کو ان حالات کا ہی سامنا ہے جنھوں نے نواز حکومت کو دیوار سے لگانے میں اہم کردار ادا کیا ۔دیوار کے ساتھ لگانے کی بات چل نکلی ہے تو ہمیں مولانا فضل الرحمن پر تھریٹ الرٹ یاد آگیا کہ مولانا کی سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے ۔اگر یہ دیوار سے لگانے کی کوشش نہیں ہے تو یقیناًملک دشمن عناصر متحرک ہو چکے ہیں لہذا حکومت کو راہداریوں پر کڑی نگاہ رکھنا ہوگی کہ اب کنٹینر سیاست سے نکل کر ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے ورنہ مولانا سمیع الحق کی شہادت سے ثابت ہوچکا ہے کہ اب گھروں میں بھی کوئی محفوظ نہیں ہے ۔
عالمی حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں کہ امریکہ چین تجارتی تنازعہ شدت پکڑ رہا ہے کہ دنیا کی دو مستحکم ریاستیں تصادم کی جانب بڑھ رہی ہیں ۔امریکہ چین کے بڑھتے اثر و رسوخ اوردنیا میں پھیلتی جدید ٹیکنالوجی سے خائف ہوچکا ہے بریں وجہ صدر ٹرمپ نے اپنی حلفیہ تقریر میں وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکہ سے بیروزگاری ختم کرے گا اور وہ تمام روزگار واپس لائے گا جو امریکہ کے چین منتقل ہونے کے باعث ختم ہو گئے ہیں ۔اس وعدے کی تکمیل میں امریکی صدر ایسی حکمت عملیاں اپنا رہے ہیں جن کی زد میں بہت سے ممالک آ سکتے ہیں ایسے میں ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا ہوگا ۔بہرحال انسانوں کی اکثریت موقع فہم نہیں ہوتی اور وقت کسی کا نہیں ہوتا ۔۔نو منتخب حکومت نے حکومت سنبھالتے ہی ایسی حکمت عملیوں ،منصوبہ بندیوں اور فیصلہ سازیوں کا آغاز کر دیا ہے جو کہ مسلسل ان کا ووٹ بینک گرا رہی ہیں اور پوری کابینہ اس فکر میں ہلکان ہو رہی ہے کہ مولانا کا ایجنڈا کیا ہے ؟ حالانکہ سوچنا چاہیے تھا کہ پیپلز پارٹی کا ایجنڈا کیا ہے کہ بلاول بھٹو نے ملکی خراب صورتحال پر وزیراعظم کی تقریر کو نہ صرف سراہا بلکہ یہ بھی نعرہ لگا دیا کہ قدم بڑھاؤ عمران خان ہم تمہارے ساتھ ہیں۔یہ تو تب بھی ساتھ تھے جب ماضی کے حکمرانوں نے ختم نبوت شق کو چھیڑا اور رعونت کا لبادھا اوڑھا تو سب خاموش تماشائی بن گئے اور انتظار کرنے لگے کہ اس قومی بحران کا نتیجہ کیا نکلتا ہے ۔اللہ کسے سرخرو اور کسے رسوا کرتا ہے اور پھر وقت کی گھڑیوں نے دیکھا کہ وہ تمام لوگ کہیں نہ کہیں سزا پا گئے جو خود کو آسمان سمجھتے تھے۔اس بحران کے نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے تبدیلی سرکار کو اپنی حکمت عملیاں ترتیب دینی چاہیں تھیں مگر حالیہ منصوبہ سازیاں اور ترجیحات تو عوام الناس کے لیے ذہنی کوفت اور اذیت کے سوا کچھ بھی نہیں ہیں ۔
پاکستانی عوام مذہب کے معاملے میں انتہائی حساس ہیں اس حساسیت کو بسا اوقات کچھ نا عاقبت اندیش اپنے مفادات کے حصول کے لیے استعمال کرتے ہیں اور ایسی مثالیں بھی جا بجا موجود ہیں کہ بے گناہ افراد بھی مذہبی انتہا پسندی کی بھینٹ چڑھ گئے مگر اس سے قطع نظر ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ وطن عزیز میں کسی بھی مذہب کے خلاف نازیبا کلمات بولنے یا نا پسندیدہ گفتگو کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔تمام مذاہب کو مذہبی آزادی حاصل ہے جوکہ دیگر ممالک میں بالکل ایسا نہیں ہے ۔اگر پاکستان میں تمام مذاہب کا احترام کیا جاتا ہے تو سب کا فرض ہے کہ وہ بھی احترام کریں اور گستاخی کے مرتکب نہ ہوں جوکہ ایسا ہی ہے لیکن آسیہ مسیح کے معاملے میں جو فیصلہ نا کافی شواہد ہونے کی بنا پر ختم ہو گیا تھا اب چیلنج کر دیا گیا ہے تو حکومت وقت کو اس معاملہ کو دانشمندی کے ساتھ حل کرنے کی ضرورت ہے ۔بہترین حکمت عملیوں سے ملک و قوم کو بحرانوں سے بچانا اشد ضروری ہے ۔ 





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved