تازہ ترین  

عشق میرارفیق ہے شاہد
    |     4 weeks ago     |    گوشہ ادب
پاکستان ایسوسی ایشن قطر کا میں دو حوالوں سے تا زیست ممنون رہونگا ۔ایک مجھ ایسے گمنام شخص کو نطقِ اظہار کے لئے پلیٹ فارم مہیا کیا اور دوسرا بہت سے مخلص دوستوں سے متعار ف کروایا۔ان احباب کی فہرست میں شاہد رفیق ناز میرے دل کے بہت قریب اس لئے ہے کہ عہدحاضر کے منافقت سے بھر پور رویوں کے بحیروں میں، سچ کی ناﺅ کو خلوص کے پتواروں سے ،دوہرے معیار سے دورایسے ماجھی کی طرح روانی سے چلائے جا رہا ہے جس کے پیش نظر نہ صرف خود کو پار لگانا ہے بلکہ ہمسفروں کو بھی ان جزیروں تک پہنچانا ہے جہاں انس و انسانیت کے عنبر و ریحان کے کوہِ عظیم ان کے منتظر ہوں۔شاہد رفیق ناز پاکستان سے دور بسنے والی ادبی بستیوں میں سے ایک ادبی بستی جسے ارد و ادب کی سب سے بڑی بستی خیال کیا جاتا ہے یعنی دوحہ قطر کا مقیم ہے۔قطر کی مردم خیز زمین پر رونما ہونے والے ادبی معرکوں کا عینی شاہد اور یارِ طرح دار کا رفیق بھی ہے۔جس پہ بلا شبہ جتنا بھی ناز کیا جائے کم ہے۔میں نے نجماًنجماً جب اس کتاب کا مطالعہ کیا تو مجھ پر یہ راز کھلا کہ راز کوئی بھی ہو ہر حال میں آشکار ہوتا ہے،بس اس کے لئے لفظی کیمیا گر کی ضرورت ہوتی ہے جو خیال کی انگھوٹی میں لفظوں کو کوہِ نور کی طرح جڑ دے کہ جس کہ چمک دمک چہار سو پھیل جائے۔ایسے ہی ناز نے اپنے دل کے بہت سے راز ،خیال و فکر،نظریہ اور جذبات و احساسات کو شعروں کی صو رت میں خوبصورت الفاظ کی موتی پرو کر قارئین کی نذرکئے ہیں جو اس بات کے شاہد ہیں کہ ایسے رفیق پہ ناز کیا جا سکتا ہے۔
زندگی تو گزر گئی ہوتی
میں نے بڑھ کر اسے سلام کیا
-----------
عشق میرا رفیق ہے شاہد
ناز جس پہ صبح و شام کیا
شاہد رفیق ناز کی شاعری میں وارداتِ عشق کا عجب رنگ دیکھنے میں ملتا ہے۔کہیں کہیں انا،خود پرستی ،خواہ اپنی ہو یا محبوب کی ،ایک ہی ذات میں دکھائی دیتی ہے کہ محبوب کو بھی وہ اپنی ہی ذات کا ایک حصہ تصور کرتے ہیں۔تو کہیں ہر حال میں عشق پروان چڑھانے اور ساتھ دینے کے لئے بغیر پرواہ کئے وادی عشق کے آخری کنارے تک جانے کا عزم بھی ان کی شاعری میں ملتا ہے۔
بے قرار مت کیجئے اور پیار مت کیجئے
ہم سے روٹھ جائیں آپ ہم کو خوار مت کیجئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
اک عشق کے مقام سے نکلے تو ہم ہیں ناز
اب جیت ہو یا مات بہت دور تک چلیں گے
شاہد رفیق انسانیت کو الگ مذہب کا درجہ نہیں دیتا کہ انسان اور انسانیت کی قدر و منزلت کی جو معراج دینِ اسلام نے بیان اور وضع کر دی ہے وہ کسی اور مذہب کا خاصہ نہ بن سکی،اسی لئے ان کی تخلیق کی بنیاد دراصل عشق حقیقی اور عشقِ مصطفیٰ کے سوا کچھ اور نہیں۔
ناز ان ﷺکے کرم کا شاہد ہے
رند بھی،لگ رہا ہے زاہد ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہد یہ نازِ عشق ہے
ہم بھی قتیل ہو گئے
ٓانسان اور انسانیت کا حوالہ میں نے اس لئے دیا کہ میں نے شاہد رفیق کو کبھی اپنی ذات کے لئے شکوہ کناں نہیں دیکھا ،ہاں مگر حادثاتِ زمانہ سے اگر غریب کی جھونپڑی کا ایک حصہ بھی گر جائے تو شکوہ کو لفظوں کا ادبی لبادہ کچھ اس طرح پہناتے ہیں۔
حادثے نے کچل دئے ہوں گے
چند بچے وہاں غریبوں کے
بارشیں ہیں کبھی ہوائیں ہیں
ا ور کچے مکان غریبوں کے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مراد علی شاہد
صدر شعبہ مطالعہ پاکستان (پی ۔ایس۔ایس۔کالج قطر) 





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved