تازہ ترین  

حکومت کا شریف برادران کے گرد گھیرا مزید تنگ کرنے کا فیصلہ
    |     3 weeks ago     |    اداریہ
تحریک انصاف کی حکومت نے رائے ونڈ میں شریف خاندان کی رہائش گاہ اور سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے ہوائی سفری اخراجات کے کیس کو نیب کو بھجوانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کے مشیر برائے میڈیا افتخار درانی کا کہنا تھا سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے 60 کروڑ روپے اپنے ہوائی سفر پر خرچ کیے اور رائے ونڈ کی سیکیورٹی پر بھی 60 کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔


مریم اورنگزیب نے شہباز شریف کے حق میں جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب نے جہاز اور ہیلی کاپٹر صرف عوامی خدمت کی ذمہ داری نبھانے کے لیے استعمال کیے اس لیے ان اخراجات کو فضولیات کے ضمرے نہیں ڈالا جاسکتا۔

انہوں نے وضاحت دی کہ شہباز شریف نے بطور وزیراعلی اپنے استحقاق اور قانون کے مطابق یہ سہولت لی جبکہ سول ایوی ایشن نے پنجاب حکومت کا جہاز ناقابلِ پرواز قرار دیا تھا، تاہم وہ قومی بچت کی خاطر زندگی کا خطرہ مول لے کر پھر بھی اسے استعمال کرتے رہے یہ سب انہوں نے ملکی مفاد میں کیا۔

سابق وفاقی وزیراطلاعات نے بتایا کہ شہباز شریف نے استحقاق کے باوجود 4 ارب مالیت کا نیا ہیلی کاپٹر خریدنے سے انکار کردیا تھا یہ ان کی ایمانداری کی ایک مثال ہے۔


انہوں نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت سے بوقت ضرورت سہولت حاصل کی جاتی رہی جس کا باضابطہ کرایہ بھی ادا کیا گیا، جبکہ وزیر اعلیٰ کے زیر استعمال سرکاری ہیلی کاپٹر تکنیکی و فنی مدت پوری کرچکا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ ہیلی کاپٹر بعد ازاں گر کر تباہ ہوگیا لیکن کبھی ایک پیسہ پنجاب حکومت سے نہیں لیا جس کا ریکارڈ لاگ بک میں موجود ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب نے موجودہ وزیر اعظم عمران خان کی طرح سیر و تفریح کے لیے ہیلی کاپٹر استعمال نہیں کیا اور عمران خان اپنے خلاف ہیلی کاپٹر کے استعمال کا نیب کو جواب دیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ دوسروں کے خلاف جھوٹے الزامات عائد کرنے کے بجائے عمران خان اپنے بارے میں نیب کو وضاحت دیں تو بہتر ہوگا۔






Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved