تازہ ترین  

دوسرا سیشن
    |     2 weeks ago     |    افسانہ / کہانی
"ٹنگ ٹانگ"۔۔۔۔
گھنٹی کی آواز سنتے ہی کمرہ خالی کرتی شہلا نے گیٹ کی طرف دوڑ لگائی۔
"واہ۔۔۔۔۔ پھر کمرے کو نیا روپ دینے کی ٹھان لی ہے کیا؟؟" ماریہ نے بکھرا سامان دیکھتے ہی سوال داغا۔۔۔
"کل بہو کا جہیز آنا ہے۔۔۔۔ تو میں سوچ رہی ہوں یہاں اس کا فرنیچر سیٹ ہو جاۓ گا۔۔۔۔اور باقی کا سامان اُدھر" ۔۔۔۔ شہلا نےمیز سائڈ پر کی اور جہیز کی تفصیلات ماریہ کے گوش گزار کرنے لگی۔۔۔۔
"شہلا ایک بات تو ہے۔۔۔۔۔ یہ جہیز جیسی فضول رسم ہم لوگوں نے ہی خواہ مخواہ لڑکی والوں پر زبردستی تھوپی ہوئی ہے۔۔۔
"نہ بہن ایسی کوئی بات نہیں۔۔۔۔ میں نے تو اپنی سمدھن کو کہا تھا کہ جہیز کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔۔ اللہ کا دیا سب کچھ تو ہے ہمارے گھر۔۔۔۔ اور ماشاءاللہ بیٹے کی بھی اچھی جاب ہے۔۔۔۔ لیکن تم تو جانتی ہی ہو والدین بیٹیوں کو پراۓ گھر خالی ہاتھ کبھی بھی نہیں بھیجتے"۔۔۔۔۔
ابھی ماریہ کی بات ختم نہ ہونے پائی تھی کہ شہلا نے صفائی پیش کرنا ضروری سمجھا۔۔۔۔
"شہلا میں ایک عام بات کر رہی ہوں۔۔۔۔ اور آج کل کئی گھرانوں میں تو لڑکے والے باقاعدہ جہیز کے سامان کی لمبی لسٹ بھیجتے ہیں" ماریہ حقیقت پسندانہ تجزیہ رکھتی تھی۔۔۔
دونوں خواتین پڑوسی ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین سہیلیاں بھی تھیں۔۔۔۔۔ یہ انکی حد درجہ مخلصی ہی تھی کہ ان کے خیالات ہمیشہ ایک سو اسی درجے مخالف ہونے کے باوجود ان کی دوستی شروع دن کی طرح آج بھی قائم و دائم تھی۔۔۔۔ شاید مخلصی میں اتنی طاقت ہوتی ہے۔۔۔۔
"اب خود دیکھو ایک بندہ اپنے جگر کے ٹکڑے کو پالتا ہے۔۔۔۔ پڑھاتا ہے۔۔۔۔۔ اس کی تربیت کرتا ہے۔۔۔۔۔ پھر اس کو کسے انجان ہاتھوں میں دینے کی باری آتی ہے تو وہ لوگ جہیز کی آس لگائے بیٹھے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ ظلم ہے یار۔۔۔۔۔ بہت بڑا ظلم۔۔۔۔۔
بیٹی کے پیدا ہوتے ہی مائیں ہر اچھی چیز اس کے جہیز کے لیے رکھنا شروع کر دیتی ہیں۔۔۔۔ "
خاموش مزاج ماریہ جب بولنے پر آتی تو نان سٹاپ بولتی تھی۔۔۔۔۔
"ہاں!! وہ یاد نہیں تمہیں۔۔۔۔ خالہ دیبا کی بھتیجی۔۔۔۔۔ اس کی منگنی اسی لیے تو ٹوٹ گئی تھی کہ اس کے سسرال والے گاڑی کا مطالبہ کر رہے تھے۔۔۔۔۔ " شہلا کو اچانک یادآیا۔۔۔۔
"ناک نہ کٹ جاۓ۔۔۔۔ اسی چکر میں شادی میں قرض لینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔۔۔۔۔ اور یقین مانو۔۔۔۔ میرے برتن اور کتنا سامان ایسا ہے جسے آج تک استعمال کرنے کی نوبت ہی نہیں آئی۔۔۔ تو یہ اسراف نہیں۔۔۔۔ میں نے تو بس سوچ لیا ہے۔۔۔"
"ایسا کیا سوچ لیا ہے ماریہ تم نے؟؟؟" شہلا کی تجسسانہ رگ پھڑک اٹھی۔۔۔
"یہی کہ میں اپنی ہونے والی بہو سے ہر گز جہیز نہیں لوں گی۔۔۔۔ بلکہ یہ شادی کے لیے شرط ہوگی۔۔۔۔ کیونکہ صرف منع کرنے سے کام نہیں چلے گا۔۔۔ اس رسم کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے ہونگے۔۔۔۔ اور اس کی شروعات ہمیں اپنے اپنے گھروں سے کرنی ہوگی۔۔۔۔ اپنے بیٹوں کی بھی ایسی تربیت کرنا ہوگی کہ وہ لڑکی کو لاٹری سمجھنے کے بجائے شریک حیات سمجھے۔۔۔"
"ماریہ تمہاری باتیں مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر رہی ہیں"۔۔۔۔ شہلا کچھ سوچتے ہوے گویا ہوئی۔۔۔
"اوہ ہ ہ۔۔۔۔۔۔" یہ کہتے ہی شہلا کچن کی طرف بھاگی۔۔۔۔
باتوں میں مگن شہلا کو اچانک یاد آیا تھا کہ وہ آداب میزبانی بھول گئی ہے۔۔۔ اور وہ چاۓ اور دوسرے لوازمات کی تیاری کے لیے گئی تھی۔۔۔۔ ماریہ نے بھی اس کی تقلید کی۔۔۔۔ اب دونوں نے مل کر چاۓ کے ساتھ ساتھ باتوں کا دوسرا سیشن بھی تو شروع کرنا تھا۔۔۔





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved