تازہ ترین  

تلاش۔۔۔انتہائی زبردست تحریر
    |     1 week ago     |    افسانہ / کہانی
عجیب سی کیفیت سے دوچار نوفل بنا سوچے سمجھے مسلسل گاڑی چلائے جا رہا تھا۔
زندگی کی مصروفیات۔۔۔۔ قدم قدم پر بے چینی۔۔۔۔ ان سب سے وہ تنگ آچکا تھا۔۔۔۔ اسے کسی چیز کی شدت سے کمی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔ مگر کس چیز کی؟؟؟
سبھی کچھ تو تھا ۔۔۔۔ والدین۔۔۔۔۔ مال و دولت۔۔۔۔ اہل وعیال۔۔۔۔۔ خدا نے سب کچھ تو عطا کیا تھا اسے مگر پھر بھی وہ بے چین تھا۔۔۔ اور اپنی اندرونی کیفیات سے نا آشنا، مارا مارا پھر رہا تھا۔۔۔
مسلسل گاڑی چلاتے ہوئے نوفل شہر سے کافی دور نکل چکا تھا اور اسے پیاس بھی شدت سے محسوس ہونے لگی تھی۔
پیاس کے ہاتھوں مجبور نوفل نے گاڑی روکی اور باہر نکل کر اپنے ارد گرد نظر دوڑائی۔
بائیں طرف ذرا فاصلے پر ایک گھر نظر آیا۔ پیاس کا ستایا ہوا نوفل اس گھر کی طرف چل پڑا تھا۔
ابھی گھر سے پیچھے ہی تھا کہ بچے کھیلتے ہوئے نظر آئے۔
بیٹا میرا نام نوفل ہے ۔۔۔مجھے بہت پیاس لگی ہے ، ایک گلاس پانی پلادو۔۔۔۔بچوں کو مخاطب کرکے نوفل نے پانی طلب کیا۔
اجنبی شخص کو دیکھ کر بچے پہلے تو سہم گئے مگر پانی مانگنے پر ایک بچہ "جی انکل" کہہ کر گھر میں داخل ہوگیا تھا۔
بچہ گھر سے واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں پانی کا گلاس نہیں تھا بلکہ اس نے اپنے بابا جان کا ہاتھ تھاما ہوا تھا۔۔۔بچہ اپنے والد کو بلا لایا تھا۔
"آپ اندر آجائیں۔۔۔۔"
بچے کے والد کی پیشکش کو چاہتے ہوے بھی وہ رد نہ کر سکا تھا۔
چند لمحوں بعد نوفل ان کے ڈرائنگ روم میں پہنچ چکا تھا۔
نوفل کو پانی پیش کیا گیا۔ اس دوران میزبان کہنے لگا۔
"آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں۔۔۔۔۔"
"ن۔۔ن۔۔نہیں تو۔۔۔" نوفل نے اپنی پریشانی چھپانے کی بہت کوشش کی تھی مگر میزبان کے اصرار پر اسے بتانا ہی پڑا۔
"سمجھ نہیں آرہی۔۔۔۔ ایسا لگتا ہے جیسے میرا کچھ کھو گیا ہے۔۔۔۔۔ لیکن معلوم نہیں۔۔۔۔ کیا؟؟؟ نوفل نے اپنی پریشانی بتادی تھی۔
میزبان نے اپنے پاس حل موجود نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ کریدنا مناسب نہ سمجھا اور ادھر ادھر کی باتیں شروع کردیں۔
نوفل صاحب ! کھانے کا وقت ہورہا ہے۔۔۔کھانا کھا کر جائیے گا۔
جی نہیں بھائی ۔۔۔۔مجھے بھوک نہیں۔۔۔ پیاس نے ستایا تھا ، کھانے کی طلب فلحال نہیں ہے ۔۔۔آپ کا بہت شکریہ۔۔۔نوفل نے میزبان کی طرف سے کھانے کی آفر پر شکریہ ادا کیا اور جانے کی اجازت طلب کرنے لگا تھا۔
اسی دوران نوفل کی نظر اچانک دیوار پر پڑ گئی تھی۔۔۔ سامنے دیوار پر خوبصورت سینری لگی ہوئی تھی۔۔۔ وہ سینری طلوع آفتاب کا دیدنی منظر پیش کر رہی تھی۔۔۔۔ پھر اس نے نظر گھمائی۔۔۔۔ دائیں دیوار پر دل کو چھو لینے والی خطاطی کا فریم تھا۔۔۔ وہ دیکھنے میں محو تھا کہ اس کے دماغ میں جھماکہ ہوا ۔۔۔ الا بذکر اللہ تطمئن القلوب۔۔۔۔ اس نے لکھی ہوئی آیت کو پھر سے پڑھا۔۔۔دو تین مرتبہ پڑھنے کے بعد میزبان سے اجازت لے کر وہ اپنی گاڑی میں آگیا تھا۔۔۔نوفل نے گاڑی سٹارٹ کی اور یہ جا وہ جا۔
اس بار نوفل کی گاڑی مسجد کے سامنے رکی تھی۔ دوران وضو وہ عجیب سی تسکین محسوس کررہا تھا۔ چند لمحوں بعد نوفل کا سر سجدے میں تھا۔ اس ذات کے سامنے جو انسان کو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والی ذات ہے ، وہ ذات جو رگ جان سے بھی قریب ہے۔ آنسو متواتر اس کے چہرے پر رواں تھے۔۔۔۔۔ سجدے سے سر اٹھایا تو عجیب سا سکون اس کے رگ و پے میں سرایت کرچکا تھا۔۔۔۔۔۔۔ وہ جس کی تلاش میں برسوں مارا مارا پھرتا رہا ، آج سب کچھ اسے مل چکا تھا۔





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved