تازہ ترین  

غزل
    |     6 days ago     |    شعر و شاعری
عابد میں آ گیا تھا یونہی وحشتوں کے ہاتھ
یسے شکار آئے کوئی وحشیوں کے ہاتھ

پہلے تو اس نے مجھ سے محبت کشید کی
آخر میں اس نے سونپ دیا ہجرتوں کے ہاتھ

جی بھر کے میرا خون پیا ادھ موا کیا
کل رات لگ گیا تھا میں محرومیوں کے ہاتھ

اک میں قصور وار ہی سمجھا گیا تو کیوں
کوئی نہیں بکا کبھی مجبوریوں کے ہاتھ؟

شب بھر رکھیں یہ زیرِ حراست کمال ہے
لمبے ہوئے ہیں ہجر میں یوں دوریوں کے ہاتھ

جس دن سے کارِ عشق کا آغاز کر لیا
باغی ہوا نہ آیا کبھی راحتوں کے ہاتھ

اے پیر تو نے مجھ کو بلا نے میں دیر کی
یعت میں ہو چکا ہوں کئی میکشوں کے ہاتھ

یہ خود سپردگی یہ دسمبر فضول ہے
جب تک رہا کریں نہ گئے موسموں کے ہاتھ

عابد جو نصف شب ہوں ہیولوں سے ہمکلام
شاید کہ نیند میری لگی رتجگوں کے ہاتھ

عابد عمر





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved