تازہ ترین  

مولدنبوی ﷺاورعشاّق کی عقیدت
    |     4 days ago     |    کالم / مضامین
رسول اللہ ﷺکی محبت دین حق پر ایمان لانے کی وہ بنیادی شرط ہے جس کے بغیر سب کچھ نامکمل اور کوراہے۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺسے عرض کی یارسول اللہ ﷺآپ مجھے اپنی جان کے علاوہ کائنات کی ہر چیز سے زیادہ پیارے ہیں تو اس پر حضور ﷺے فرمایا کہ عمر کسی شخص کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوسکتا جب تک کے اسے اپنی جان سے بھی زیادہ مجھ سے محبت نہ ہوجائے۔
حضرت عمررضی اللہ عنہ نے یہ سن کر عرض کیا یارسول اللہ ﷺپھر آپ مجھے اب اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں تو آپ ﷺنیارشاد فرمایا الآن عمر اے عمر تیرایمان اب کامل ہو گیا ہے۔دنیا کی کسی بھی بستی ،شہر اورملک سے تعلق رکھنے والے مختلف رنگ نسل اور زبان کے باشندگان کی اپنے پیارے نبی ﷺسے انتہائی جذباتی اور غیر متذلذل محبت ہے اوراس عقیدت و محبت کی چنگاری کو حوادثات دنیا کی تیزو تند آندھیاں اورموسلادھار بارشیں بھی نہیں بجھا سکتیں۔
رسول اللہ ﷺسے جس چیز کی بھی نسبت ہو جائے اسکی عظمت اوج ثریا سے بھی ارفع ہوجاتی ہے اورعشاق کے دلوں کو اس سے سرور اورآنکھوں کو ٹھنڈک ملتی ہے۔مکہ مکرمہ میں مروہ پہاڑی کی دائیں جانب ابو جھل کے حماموں سے کچھ آگے مقام شعب ابی طالب میں سوق اللیل کے قریب مکتبہ مکہ مکرمہ نامی ایک دومنزلہ لائبریری ہے جس سے متعلق یہ کہا جاتاہے کہ یہ حضرت عبداللہ وآمنہ رضی اللہ عنہماکا وہ مبارک گھر ہے جہاں پر نبی آخرالزمان شافع محشر امام الانبیاء حضرت محمد ﷺکی ولادت باسعاد ت ہوئی۔اس مبارک گھر کی زیارت کے لئے عشاق کا ایک جم غفیروہاں ہروقت جمع رہتا ہے۔ایک چیز جس کا میں نے بذات خودحرمین شریفین کے سفر کے دوران مشاہدہ کیا وہ یہ کہ ترک کثیر تعدادمیں ہروقت اس مبارک مکان کے اردگردجمع رہتے ہیں چھوٹے بڑے ،نوجوان ،بوڑھے ترک مرد خواتین مختلف ٹولیوں کی شکلوں میں اس کی بائیں جانب جمع ہوکراپنی زبان میں اپنے پیارے نبی ﷺکی شان میں انتہائی سوزاور ردھم کے ساتھ قصائد پڑھ رہے ہوتے ہیں ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے ہیں اور وہ ساری دنیا سے یکسو ہو کراپنے محبوب آقاو مولیٰﷺ کی محبت کے ترانے پڑھ رہے ہو تے ہیں میں کچھ دیر تک ان دیوانوں کی ان دیوانگی اداؤں کا مشاہدہ کرتا رہا۔
میں یہ حسین منظر دیکھنے کے بعد جونہی حضورﷺکی جائے پیدائش (مکتبہ مکہ مکرمہ لائبرری )کی طرف بڑھا تو میں نے وہاں پر ایک ترک بوڑھے میاں بیوی کی محبت رسول ﷺکا نتہائی جذباتی انداز دیکھا جس کا میں جب بھی اپنے ذہن میں خیال لاتا ہوں تو مجھے اس بوڑھے ترک جوڑے کی محبت پر رشک آتا ہے یہ نماز عصر کے بعد کا وقت تھا اورحضور ﷺکی جائے پیدائش پر بنائی گئی لائبریری کا مرکزی دروازہ کھلا ہواتھا تاہم اندرونی شیشے والا دروازہ بند تھا جس سے فقط لائیبریری کے اندرونی مناظر مثلاکتب وغیرہ دکھائی دیتی تھیں میں نے دیکھا کہ یہ بڑھیا بارباراندرجھانک کر دیکھتی خوش ہوتی اوراپنے منہ میں اپنی زبان میں کچھ پڑھتی جاتی۔
اس کے بعد اچانک اس کے ذہن میں کوئی بات آئی اوراس نے اپنا موبائل نکالا اور دروازے پر بیٹھے دربانوں میں سے ایک کو کہا کہ مجھے اس مبارک جگہ کی اندر کی جانب سے تصویر بنادو جس پر اس دربان نے اس کی بات کی طرف توجہ نہ دی اوراس کو ٹال دیا لیکن وہ بڑھیا بہت جذباتی ہوچکی تھی اور کسی طرح نہ ٹلتی تھی آخر جب اس نے دوتین مرتبہ اصرار کیا تو اس دربان کا دل بھی نرم پڑگیا اور اس نے اس بڑھیا کا موبائل پکڑکر اندرسے کچھ تصاویر بنادیں اس کے بعد اس دربان نے جب بڑھیاکو موبائل واپس کیا تواس وقت وہ بڑھیا اتنی زیادہ خوش اور گرمجوش تھی کہ اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا اورمیں نے دیکھا کہ فرط محبت میں اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کا ایک سمند ربیکراں جاری تھا۔
بڑھیاخوشی سے دیوانہ وارجھوم رہی تھی اس نے دربان کا اپنی مخصو ص زبان میں شکریہ اداکیا مجھے اس بڑھیا کی غیر معمولی خوشی کو دیکھ کر ایسے محسوس ہورہا تھا کہ جیسے اسے اس کائنات کی سب سے عظیم نعمت مل گئی ہو جس کے لئے وہ برسوں سے بے تاب تھی دراصل وہ اس بابرکت جگہ کی زیارت سے اپنی آنکھوں کوٹھنڈاکرناچاہتی تھی وہ اپنے کریم آقاﷺکے مولدکی برکات کواپنے دامن میں سمیٹناچاہتی تھی اوراپنی پلکوں سے اس پاکیزہ حجرہ کوصاف کرنے کی تمنّارکھتی تھی وہ اندر جاکر زیارت کرنا چاہتی تھی مگردربانوں نے اس کو اجازت نہ دی اس کی وجہ جاہل لوگوں کی خرافات ہیں جس کی وجہ سے کچھ عرصہ سے سعودی حکومت نے عمومی مجمع کو اندر جانے کی ممانعت کردی ہے اور چند اوقات میں اس کے دروازے کھولے جاتے ہیں اورفقط باہر سے زیارت کی جازت ہے۔اس لئے وہ بچاری باہر سے ہی زیارت کر کے اپنی آنکھوں کو سکون دے رہی تھی۔میں ابھی دروازے کے آگے ہی کھڑا تھا کہ وہ بڑھیا خوشی سے سرشاروہاں سے تیزی سے نکلی اور چند ہی لمحوں میں وہ اپنے ساتھ ایک بوڑھے میاں کو لے آئی اوراسکو بھی دروازے کے سامنے لاکھڑا کیا اوراس کے بعداس بزرگ نے بھی اپنی جیب سے اپنا موبائل نکالااوراس دربان کو کہا کہ اس کو بھی تصویربنا دو خیر اس دربان کی وسعت ظرفی اور اس سے بڑھ کی ان کی غیر معمولی محبت تھی کہ اس دربان نے بغیر چوں چرا کئے اس کو بھی تصویر بنادی جس پر یہ دونوں بہت زیادہ خوش تھے میں ان کی خوشی کو اپنے الفاظ میں بیان کرنے سے قاصر ہوں۔اس کے بعد اس بوڑھے میاں نے اپنی بڑھیا سے کہا کہ میری اس مکان کے سامنے تصویر بناؤلیکن اچانک اس نے اپنا یہ ارادہ اس وجہ سے ملتوی کردیا کہ میں نے پینٹ شرٹ پہن رکھی ہے اور وہ بڑھا سے انتہائی حسرت بھرے لہجے می کہنے لگ ہائے افسوس اے کاش میں حالت احرام میں ہوتا تو میں اس مقام پر تصویر بناتا لیکن اب اس لباس میں مناسب نہیں۔چنانچہ یہ دونوں ہنسی خوشی ایک دوسرے کو مبارکبادیں دیتے ہوئے وہاں سے رخصت ہو گئے۔
وہ دونوں تو رخصت ہو گئے لیکن میرے دل کے اندرسلگتی چنگاری کو مزید سلگا گئے چنانچہ میں مزید کچھ دیر کے لئے وہاں ٹھہر گیا اوراپنی پیاس کوسیراب کرنے لگا تھوڑی دیر بعد میں نے دیکھا کہ یہ دونون دربان عربی زبان میں آپس میں کچھ باتیں کرنے لگے میں نے کان لگایا تو ان میں سے ایک دوسرے سے اس مبارک جگہ سے متعلق زائرین کی کچھ غیر مناسب خرافات کا ذکر کررہا تھاجو کہ مجھے بھی مناسب نہ لگیں محبت اگرشریعت کی حدود میں رہ کر کی جائے تو وہ مستحسن ہوتی ہے وگرنہ وہ بے ادبی کے زمرے میں چلی جاتی ہے۔
خیر اب میں ٹکٹکی باندھے شیشے کے دروازوں کے اند رسے اس مبارک جگہ کو دیکھے جارہا تھا اور میرا ذہن آج سے چودہ سوسال پہلے اس مبارک جگہ پر ہونے والی اس عظیم ولادت باسعادت میں گم تھا اور میں سوچ رہا تھا کہ اس کائنات کی وہ سب سے قیمتی گھڑی تھی جب دوجہاں کے سردار حضرت محمد ﷺکی آمد سے ساری دنیا سے جہالت و گمراہی کے اندھیرے جھٹ گئے تھے اور ہر سونورہی نور تھا اورآپکی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ولادت مصطفی ﷺکے وقت ایک نور مجھ سے جدا ہواجس کی روشنی سے پوری زمین روشن ہوگئی۔


دروازے پر کھڑے کھڑے بارہا میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میں کسی طرح اس مبارک جگہ کی زیارت کر سکوں میں دل ہی دل میں اللہ تعالی سے دعا بھی کررہاتھاکہ مجھے کسی طرح اندر جانے کی اجازت مل جائے میں نے دورازے پر آتے ہی ان دربانوں سے اند رجانے کی اجازت چاہی تھی لیکن انہوں نے کہا کی فقط باہر سے زیارت کی اجازت ہے۔میں ابھی عمرہ کرکے مروہ سے باہر نکلا تھا اور حالت احرام میں تھا دربان کے انکار سے مجھے تکلیف ہوئی لیکن میں نے کسی قسم کی ناگواری کا اظہار نہیں کیا اور فقط باہر سے زیارت کو ہی غنیمت جا نا لیکن اس کے باوجو دایک تشنگی اور بے چینی تھی اور دل کو سکون نہیں آرہا تھا میں تقریبا پندرہ ،بیس منٹ کھڑارہا اس کے بعد میں نے واپس جانے کا ارادہ کیا تو میں نے دیکھا کہ ان میں سے ایک دربان دروازے سے اٹھ کر باہر کی جانب مڑاتو میرے دل میں یہ داعیہ پیداہواکہ ایک مرتبہ اس سے کیوں نا درخواست کی جائے اگراجازت مل گئی تو ذہے نصیب وگرنہ جو اللہ کو منظور خیر میں دبے پاؤں آگے بڑھا اور اس دربان کے بالکل قریب جا کر عرض کی کہ میں پاکستان سے ہوں اورالحمدللہ شریعت کے احکام سے واقفیت رکھتا ہوں میں لائبریری سے استفادہ کے لئے اندر جانا چاہتا ہوں اس پر اس نے مجھ سے استفسار کیا کہ تم نے کیا پڑھا ہے اور کیا کرتے ہو؟جس پر میں نے جوابا عرض کیا کہ میں عربی پڑھا ہواہوں درس نظامی کا فاضل ہوں اور ایک عصری ادارے میں عربی کا معلم ہوں۔اس پر اس نے دروازے پر بیٹھے ہوئے دربان سے کہا کہ یہ معلم ہے اور عربی جانتا ہے اسے اندر جانے دوچنانچہ اللہ تعالی نے میری فکر پرفیصلہ فرمایا اور مجھے اس مبارک مکان کے اندرجا کر اس کی زیارت کرنے کی توفیق عطاکی ۔میں نے وہاں موجودہ انتہائی قیمتی اورنادر کتب کا مطالعہ کیالیکن میرااصل مقصود مولدنبوی ﷺکی رحمتیں اوربرکتیں سمیٹنا ،درودوسلام پڑھنااوراپنی تشنگی کوسیراب کرنا تھاجوالحمدللہ مجھے حاصل ہوگیا۔یقیناًیہ بہت ہی مبارک جگہ ہے لیکن فرط محبت میں بھی ہمیں اپنے جذبات پرقابورکھنے کی اشدضرورت ہے ۔اسلئے کہ یہ مقام مقام ادب ہے ۔ 





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


مقبول ترین

اسلامی و سبق آموز


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved