تازہ ترین  
Tuesday
12-12-17

حقوق نسواں بل اور ہمارا معاشرہ دوغلی پالیسی کیوں؟؟؟ ۔۔۔تحریر: الفت ناصر ایڈووکیٹ
    |     3 months ago     |    کالم / بلاگ
حال ہی مےں عورتوں کے حقوق بارے میں اےک بل پاس ہوا جس پر ہر طرف اےک شور سا برپا ہوگےا۔۔۔۔۔ کےا ہو گےا؟ اگر اےک حق بن گےا کہ عورتوں کو مارنا چھوڑ دو ۔عورت تو صنف نازک ہے کےا وہ مارنے پےٹنے کےلئے بنائی گئی ہے اسلام کی بات کرتے ہوئے کہ اسلام کے حقوق پامال ہورہے ہےں اسلام مےں ےہ کہاں لکھا ہے کہ عورتوں کو مارا جائے۔ مرد اپنی مردانگی عورت ذات پر اےک بےوی کی شکل مےں ہی نکالتا ہے ۔اب خود ہی دےکھ لےں قانون مےں عورت کا نام استعمال کےا گےا ہے نہ کہ بےوی کا۔ عورت ماں ،بےوی ،بہن ہے۔ لیکن ہمارے کم ظرفوں نے اس عورت کوصرف بےوی ہی سمجھا ہے کےونکہ بےوی واقعی مظلوم ہے مےرے بھائےو اسلام تو برابری کا درس دےتا ہے عورت اور مرد اس مذکر ،مونث کے تفکر سے پہلے انسان ہےں۔ انسان آزادی بھی رکھتا ہے اور انسان کو عقل بھی دی گئی ہے۔ عورت بھی تو انسان ہے عورت بھی سوچ رکھتی ہے جو چےز سوچ رکھتی ہے وہ حق بھی رکھتی ہے لےکن اےک عورت کو بےوی بنا کر اس پر ہر قسم کا بوجھ لاد دےا جاتا ہے بچوں کا، شوہر کا ،گھر کا ،سسرال کا اس کی اپنی زندگی تو گوےا ختم ہی ہوجاتی ہے۔ کےا دوغلا دستور ہے شوہر گھر سے باہر کام کرے تو اس کی اہمےت ہوتی ہے لےکن عورت گھر مےں بےٹھ کر بچوں کی، فےملی کی ،گھر کی حفاظت کرے اسے اےک منظم طرےقے سے چلائے پر اس کی کوئی قدروقےمت نہےں۔ وےسے ہمارے آج کے اسلامی مفکروں نے عورت کے حقوق چھےننے کو اسلام مےں بڑی صفائی سے ثابت کردےا ہے بقول ان کے کہ اگر عورت کوئی سوچ رکھے ہر بات پر صرف ہوں ہوں ہاں کرتی رہے گائے کی طرح بے ضرر ہو تو وہ بہت اچھی ہے اور اسلام اسے بہت مرتبہ دےتا ہے۔لیکن مجھے ےہ سمجھ نہےں آتا کہ حضور پاکﷺ جو پوری دنےا کےلئے معلم بن کر آئے وہ تو ہر ذاتی دنےاوی کام مےں امہات المومنےن رضوان اﷲ علےہم اجمعےن کی رائے لےتے تھے حالانکہ انہےں تو اﷲپاک وحی سے علم عطا کرتا تھا ان کے پاس تو کوئی جواز نہےں تھا کہ وہ بےوےوں کو اہمےت دےں ان کی رائے کو ،سوچ کو ،سمجھ بوجھ کو ۔وےسے حالت جہاد مےںبھی عورتےں(امہات المومنےن) حضور ﷺکے ساتھ رہےں انہےں مدد فراہم کی آج سے14سوبرس پہلے کی عورت اور وہ عورتےں جو امہات المومنےن تھےں وہ تجارت کر سکتی تھےں حالانکہ احادےث کو آگے پہنچانا اور دےن کے کام کو آگے لے کر چلنا اےک بہت بڑا کام تھا مگر اس مےں بھی حضور پاکﷺ دونوں جہانوں کے عالم تمام معاملات مےں ان کی شمولےت کے قائل تھے جبکہ آج کا مرد اور تہذےب ےہ بتاتی ہے کہ عورت بولے بھی تو وہ گناہ کبےرہ ہے گوےا کہ وہ گونگی ہو ۔ اےک بل کہ،،عورت کو نہ مارو،، تو اتنا شور ،،گوےا قےامت برپا ہو گئی ہو۔ ہمارے علماءکو سودسمےت دےگرتمام اخلاقی جرائم تو نظر نہےں آتے ان کے خاتمہ،تدارک کےلئے تو اتنی بھاگ دوڑ نہےں کرتے۔ ہر عورت کےلئے اس کی حفاظت کےلئے اےک قانون بن گےا کہ نہ مارواتنی سی بات ان مردوں کو ہضم نہےں ہورہی کےونکہ ےہ مارنا اپنا ذاتی فرےضہ سمجھتے ہےں گوےا وہ انسان ہی نہےں۔ حےرت ہے مجھے ان پڑھے لکھے جاہلوںپر جن کے منہ سے ےہ الفاظ سنے کہ اس طرح تو عورتوں کے گھر برباد ہوں گے۔ جو عورت گھر سے باہر نکلے گی اس پر تشدد نہ کےا جائے؟ توےہ سوال اٹھے گا کہ اگر عورت اپنی مرضی سے گھر سے باہر جاتی ہے تو کےا عورت کو اس کا شوہر،اس کا بھائی پھر اس گھر مےں داخل ہونے دے گا ؟قطعی نہےں مےرے بھائےو جب بھی عورت گھر سے باہر نکلتی ہے تو وہ انتہا کو پہنچ کر ہی نکلتی ہے۔اور مےرے بھائےو کوئی اس بل نے تو آکر نہےں کرانی طلاقےں؟ طلاقےں تو پہلے بھی ہوتی تھےں۔ ان مردوں کی سوچ ناقص ہے جو ےہ سوچتے ہےں عورت گھر سے باہر نکلے تو اےک بے حےائی ہے کےونکہ ےہ مرد کی سوچ ہے۔ اچھا ےہ بتائےں عورت کو دےکھنا؟ نعرے بازی کرنا؟ سےٹی بجانا؟ ےہ ٹھےک کام ہےں اور ےہ کام کرنے کی کےا ان کو اسلام اجازت دےتا ہے۔ ؟؟؟ عورت کےلئے حق کا قانون بننے سے مرد کو ےہ لگ رےا ہے کہ جےسا کہ اس کے حقوق پامال ہورہے ہےں پتا نہےں کےوں اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مرد عورت کو ما رنا اپنا بنےادی حق سمجھتا ہے گوےا اس کی شخصی آزادی کو چھےنا گےا ہے۔ جو عورت شادی کے بندھن مےں بندھتی ہے اس کےلئے اےسا ماحول بناےا جاتا ہے کہ اس کا سانس بھی اپنا نہےں رہتا۔ پتا نہےں ہمارے تعلےم ےافتہ مردوں کو کےا ہوگےا ہے ےہ جو اس اےشو کو اچھا ل رہے ہےں ےہ ان کی ذاتی زندگی پر تھوڑی سی روشنی ڈال رہا ہے کہ اوور کوٹ کے نےچے کےا ہے کہ ضرور عورت کی شخصی آزادی کو روندناہے؟ ضرور اسے نفسےاتی مرےضہ بنانا ہے؟ بےوی کہلانے کے ناطے کےوں اس کے حقوق ختم ہو جاتے ہےں ؟کےوں اس کے رہنے کی زمےن اس پر تنگ کر دی جاتی ہے؟ وےسے اےک عجےب المےہ ہے کہ مرد گناہ کرے تو اس سے پوچھنا کےا ذکر تک نہےں کےا جاتا اور اگر نشانہ عورت ہوتو الزام اسی پر آتا ہے جرم اگر عورت کرے تواسے سنگےن جرم قراردےا جاتا ہے اور اسلام کی آڑ لی جاتی ہے کےا اسلامی قوانین صرف عورت کے لئے بناےئے گئے ہیں۔معاشرے مےںعورت کوشرم وحےا ،وفا کا پےکر بنا کر مرد کھلے عام سانڈ کی طرح گھومنے لگتے ہیں جن کی کوئی لگام ہی نہےں ۔ آج کا مرد باہر نکلتی عورتوں کو دےکھے، ان پر غلط الزامات لگائے، غلےظ باتےں کرے ،طعنے دے جاسوسی کرے۔ اس سے کوئی پوچھ گچھ نہیں مگر کیوں؟؟؟ چلو ٹھےک ہے مان لےتے ہےںآپ کی بات درست ہے عورتےں اسلام سے بے راہ رو ی اختےار کر رہی ہےں تو اےسا کرو عورتوں کو ان کے حال پر چھوڑ دواﷲ پاک ان کے عمل کا تجزےہ کرلے گامےرے بھائےو تم شریعت کے پابند بنوعورت باہر نکلے تو اس کی طرف نہ دےکھو ،تم اسے نہ مارو ،تم اس کو برا بھلا نہ کہو ۔اس پر ظلم نہ کرو۔
Feedback
Dislike
 
Normal
 
Good
 
Excellent
 




Follow Us

Picture stories


Tv Channel
News Paper Links
Websites Links
تعارف / انٹرویو
مقبول ترین

دلچسپ و عجیب



     
     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2017 apkibat. All Rights Reserved