ففتھ جنریشن وار اور ہماری ذمہ داریاں
 
پاکستان میں آج کل 'ففتھ جنریشن وار فئیر' کی اصطلاح کا استعمال کافی عام ہو گیا ہے۔ حکومت کے وزرا ہوں یا پاکستانی فوج کے ترجمان یا سوشل میڈیا پر صارفین، سب نے مخلتف مواقع پر اس بات کو دہرایا ہے کہ ہمیں ففتھ جنریشن وار فئیر کا مقابلہ کرنا ہوگا۔یوں تو ففتھ جنریشن وار ہر زبان زد عام ہے مگریہ جاننا ناازحد ضروری ہے کہ یہ ہے کیا؟جس طرح فورتھ جنریشن وار فیصلہ کن اور ایک مہلک جنگی حکمت عملی تھی۔اس میں بھاری اور قیمتی اسلحہ کا استعمال کرتے ہوئے دشمن کو زیر کیا جاتا تھا جیسے عراق کا کویت پر حملہ پھر سویت یونین اورافغانستان کی جنگ کے بعد سویت یونین کاٹوٹ کر بکھر جانا اور امریکی حمایت یافتہ ملیشیا کا قابل پر قبضہ۔ پھر امریکہ کا ہی افغانستان پر حملہ کرکےدوبارہ جنگ میں دھکیلنا وغیرہ ایسی بہت سی مثالیں ہیں جن میں طاقت اور قوت کے ساتھ دشمن پر حملہ کیا جاتا اور بہت جلد اس کو تباہ و برباد کر دیا جاتا تھا۔اسی طرح اب روایتی ہتھیاروں کی جنگ کی جگہ ا


پاکستان ریلوے پولیس کی بڑی کارروائی ، ہیروئین کی سمگلنگ ناکام بنا دی گئی۔۔۔تفصیلات جانیے
 
لاہور ( وائی آئی این این) پاکستان ریلوے پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے لاہور سے بھارت ہیروئین سمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق ہیروئن کے 2پیکٹ کل وزنی 555گرام لاہور سے بھارت جانے والی گڈز ٹرین کی بوگی نمبر 60618 میں چھپائے گئے تھے۔ پاکستان ریلوے پولیس انسپکٹر غلام عباس کھچی، انسپکٹر رانا بابر و دیگر عملہ ریلوے پولیس نے دوران چیکنگ ہیروئن برآمد کر لی۔ڈی آئی جی ہیڈکوارٹرز پاکستان ریلوے پولیس شارق جمال خان نے موثر کارروائی کرنے پر ایس پی ریلوے پولیس لاہور شاہد نواز اور انکی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔


ففتھ جنریشن وار اور ہماری ذمہ داریاں
 
پاکستان میں آج کل 'ففتھ جنریشن وار فئیر' کی اصطلاح کا استعمال کافی عام ہو گیا ہے۔ حکومت کے وزرا ہوں یا پاکستانی فوج کے ترجمان یا سوشل میڈیا پر صارفین، سب نے مخلتف مواقع پر اس بات کو دہرایا ہے کہ ہمیں ففتھ جنریشن وار فئیر کا مقابلہ کرنا ہوگا۔یوں تو ففتھ جنریشن وار ہر زبان زد عام ہے مگریہ جاننا ناازحد ضروری ہے کہ یہ ہے کیا؟جس طرح فورتھ جنریشن وار فیصلہ کن اور ایک مہلک جنگی حکمت عملی تھی۔اس میں بھاری اور قیمتی اسلحہ کا استعمال کرتے ہوئے دشمن کو زیر کیا جاتا تھا جیسے عراق کا کویت پر حملہ پھر سویت یونین اورافغانستان کی جنگ کے بعد سویت یونین کاٹوٹ کر بکھر جانا اور امریکی حمایت یافتہ ملیشیا کا قابل پر قبضہ۔ پھر امریکہ کا ہی افغانستان پر حملہ کرکےدوبارہ جنگ میں دھکیلنا وغیرہ ایسی بہت سی مثالیں ہیں جن میں طاقت اور قوت کے ساتھ دشمن پر حملہ کیا جاتا اور بہت جلد اس کو تباہ و برباد کر دیا جاتا تھا۔اسی طرح اب روایتی ہتھیاروں کی جنگ کی جگہ ا


نعت رسول مقبول ﷺ
 
سر یقین درودوں کا کارواں ٹھہرے تو تیرگی میں بھی روشن مرا مکاں ٹھہرے جو دیکھ پاؤں ترے در کی رحمت یکتا مری نگاہ زمانے میں پھر کہاں ٹھہرے رفیق جائیں کہاں چھوڑ کر تری قربت کہ تیرے در پہ تو دشمن بھی بالا ماں ٹھہرے نہ کہہ سکوں میں کوئی بات انکیؐ محفل میں بس ایک اشک مرے دل کا ترجماں ٹھہرے مجھے نہیں ہے سروکار سر بلندی سے مری جبیں کے لئے تیرا آستاں ٹھہرے جلے چراغ ہدایت وہیں وہیں زاہدؔ نبی ؐ کے نقش کف پا جہاں جہاں ٹھہرے


حمائت علی شاعر ! وصال فرما گئے
 
بدن پہ پیرہن خاک کے سوا کیا ھے مرے الاؤ میں اب راکھ کے سوا کیا ھے میری ان سے پہلی ملاقات دسمبر1975 ء میں لیاقت میموریل ہال راولپنڈی کے مشاعرے میں ہوئی تھی ، میرا اولین مجموعۂ کلام مرحلے پیش کیا تو کہنے لگے جبار میاں دو تین نسخے اور دیں کراچی کے چند دوستوں کو دونگا، ENT سپیشلسٹ ڈاکٹر حنیف ملک ( جو ان دنوں طالب علم تھے ) 20/25 مرحلے اٹھائے میرے ساتھ کھڑے تھے میں نے ترت حمائت صاحب کو پانچ مرحلے دے دئیے ! جناب حمائت علی شاعر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بھارت کے شہر اورنگ آباد میں 1930 ء کو پیدا ہوئے ، پہلا مجموعہ ،، گھن گرج ،، 1950 ء میں بھارت میں ہی شائع ہوا، آپ شاعر ادیب ، استاد ، محقق، مورخ، مترجم، مولف، ڈرامہ نگار کہانی کار اور انشاپرداز تھے، درجن بھر شاعری کے مجموعے اور نصف درجن نثری کتب ان کی یاد گار ہیں ان کا کلام اردو ، ہندی، اور رومن میں دستیاب ھے، ان کی فلمی شاعری بھی اردو ادب کا شاہکار تھی ہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگ دیکھتے ہی دیکھتے کت


عنوان: محبت
 
محبت تو محبت ہوتی ہے. اور جب ہوتی ہے. تو ہو نہیں سکتا کہ شعور آپ کا ہو کر رہ جائے. یہ دلوں کے سودے ہیں. اور دل...دل تو بس دھڑکنا جانتا ہے. دل کی آنکھیں کب ہوتیں ہیں. اسی لئے محبت,, اندھی ،، ہوتی ہے. یہی محبت کی خامی ہے . جب دلوں میں محبت کے گلاب کھلتے ہیں تو پورا ماحول اس کی خوشبو سے مہک اٹھتا ہے. ممکن ہی نہیں ہے کہ یہ بہاؤ کناروں کے اندر قید رہے. جام بھی چھلکے گا. اور حد بھی ٹوٹے گی. یہاں بھی حد ٹوٹ چکی تھی. وہ تین سال کی بچی ہی تو تھی. اسے پالتو گائے کے بچھڑے سے محبت ہو چکی تھی. وہ دن میں کئی بار اس بچھڑے کی پیشانی چوم لیتی تھی. اس سے پیار کرتی تھی. اس کے ساتھ کھیلتی تھی. یہ بچھڑا بھی اس کے ساتھ مانوس ہو چکا تھا. جانے کیوں... اس لگاؤ پر ابا جی کو اعتراض تھا. ایک خوف ہمیشہ انہیں اپنے حصار میں لئے رکھتا. وقت گزرتا رہا. محبت پروان چڑھتی رہی.اور پھر ابا جی کے خوف نے حقیقت کا روپ لے لیا. بچھڑے کی قربانی دی گئی. تو وہ غش کھا کر گر پڑی. محبت اندھی ہوتی ہے. اس م


بھارتی کناڈا ٹی وی کی نامور اداکارہ شوبھا ایم وی کار حادثے میں ہلاک ہوگئی۔۔۔پرستاروں کے لیے افسوسناک خبر آگئی
 
ایکسپریس کے مطابق کناڈا ٹی وی کے مقبول ترین ٹی وی شو مگالو جنکی سے شہرت حاصل کرنے والی اداکارہ شوبھا ایم وی 5 افراد کے ساتھ کار میں بنگلورو جارہی تھی کہ نیشنل ہائی وے پر ان کی کار تیز رفتارٹرک سے ٹکراگئی، حادثے کے دوران اداکارہ شوبھا ہلاک ہوگئی۔حادثہ بھارتی ریاسٹ کرناٹکا کے علاقےکنچی گنالو گاؤں کے نزدیک پیش آیاہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حادثہ ڈرائیور کی غفلت کے باعث پیش آیا۔ اداکارہ کی موت پرکناڈا شوبز انڈسٹری کی جانب سے افسوس کا اظہار کیا جارہا ہے۔


روزانہ 9 ہزار قدم پیدل چلنے سے دماغی صحت پر کیا اثرات ہوتے ہیں ۔۔۔ تفصیلات جانیے
 
روزانہ 9 ہزار قدم چلنا دماغ کو عمر کے ساتھ آنے والی تنزلی اور دماغی ٹشوز کو الزائمر امراض سے ہونے والے نقصان سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔سینٹر فار الزائمر ریسرچ اینڈ ٹریٹمنٹ کی اس تحقیق میں بوسٹن کے میساچوسٹس جنرل ہاسپٹل میں زیرعلاج 182 مریضوں کا جائزہ لیا گیا۔محققین نے ان افراد کے قدموں کو ٹریک کرکے اس کے اثرات اس پروٹین بی ایمیلوئیڈ کی سطح پر دیکھے گئے جو الزائمر کا باعث سمجھا جاتا ہے۔نتائج سے معلوم ہوا کہ جو افراد زیادہ چلنے کے عادی ہوتے ہیں ان کے دماغی تنزلی کا عمل سست ہوجاتا ہے۔تحقیق کے مطابق معتدل جسمانی سرگرمیاں بھی دماغ کے لیے فائدہ مند ہوتی ہیں تاہم زیادہ ضروری ہے کہ لوگ 8900 قدم چلنا عادت بنائیں۔جب رضاکاروں کو روزانہ 9 ہزار قدم چلایا گیا تو محققین نے دریافت کای کہ اس جسمانی سرگرمی کے ان کے دماغ پر مثبت اثرات مرتب ہورہے ہیں جبکہ امراض قلب کا خطرہ بھی کم ہوگیا۔اس ت


اکیلا سرفراز ہی ورلڈ کپ ناکامی کا ذمہ دار نہیں ہے بلکہ۔۔۔۔۔۔پاکستانی آل راونڈر سہیل تنویر نے بڑی بات کہہ دی۔۔۔تفصیلات جانیے
 
لاہور (آپکی بات ڈاٹ کام) پاکستان کرکٹ ٹیم کے آل راﺅنڈر سہیل تنویر کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کرکٹ ورلڈکپ 2019ء میں قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی کا ذمہ دار اکیلے سرفراز احمد کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔تفصیلات کے مطابق سہیل تنویر نے کہا کہ میرے خیال سے ورلڈکپ میں قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی پر صرف کپتان سرفراز احمد کو ذمہ دار ٹھہرانا غلط ہے کیونکہ ہار ، جیت بحیثیت ٹیم ہوتی ہے۔لہذا یہ کہنا سراسر غلط ہوگا کہ سرفراز احمد ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی کا ذمہ دار ہے۔ ہار ہو یا جیت ذمہ دار پوری ٹیم ہوتی ہے اور ہر گز یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ناقص کارکردگی کا ذمہ دار کپتان یا کوچ ہے۔ پاکستانی آل راونڈر سہیل تنویر کا کہنا ہے کہ میں مانتا ہوں کہ سلیکشن کمیٹی کی جانب سے حتمی ٹیم کے متعلق غلط فیصلے کیے گئے مگر اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ اکیلا کپتان یا کوچ ٹیم کی ناقص کارکردگی کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔ سہیل تنویر کا مزید کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم کی کارکردگی شروع س


فیس بک پیج

اہم خبریں

مقبول ترین

تعارف / انٹرویو

آج کے کالم و مضامین

نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

ویڈیوز
اشتہارات

آپکی بات ڈاٹ کام آپ کی اپنی ویب سائٹ ہے ، ہمارے ساتھ رہنے کا شکریہ
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2019 apkibat. All Rights Reserved