تازہ ترین  

بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی تحریر : ابنِ ریاض
    |     4 weeks ago     |    کالم / مضامین

گروپ میں اس پر مضمون لکھنے کا مقابلہ ہو رہا ہے۔ مقابلوں میں تو ہم حصہ ّ نہیں لیتے جس کی وجہ آپ کو معلوم ہے۔ قلم یعنی تختہ کنجی چونکہ کافی عرصے سے خاموش ہے تو سوچا کہ کیوں نہ ہم بھی اس محاورے کی ٹانگیں توڑنے میں اپنا حصہ ّ ڈالیں۔ اسی سلسلے میں یہ تحریر ہے۔ اس محاورے کا پس منظر پنجابی و دیہاتی ہے۔ ہوا یوں (یہ روایت ہم نے خود بنائی ہے بالکل ایسے ہی جیسے ڈارون نے انسان کے آباء کو بغیر کسی روایت کے بندر بنایا تھا) کہ کسی گھر میں چور آیا۔ اتفاق سے وہ اپنی چوری والی ڈانگری گھر بھول آیا تھا۔اس نے چوری کر لی مگر جب وہ بھاگنے لگا تو اس سے بھاگا نہیں گیا کیونکہ وہ لنگوٹ میں تھا۔ لنگوٹ پہننے کا تو ہمیں تجربہ نہیں مگر احرام باندھ رکھا ہے تو اس بات سے تو ہم بھی واقف ہیں کہ اس میں چلنا آسان نہیں ہوتا کجا کہ بھاگا جائے۔ اب تو دور ایسا ہے کہ لوگ چوری کر کے احرام پہن لیتے ہیں اور کبھی کبھی یوں بھی ہو جاتا ہے کہ احرام پہن کر چوری کر لیتے ہیں۔ بہرحال یہ تو ضمنی بات تھی، قصہ ّ مختصرخالی ہاتھ تو چل بھی لے انسان مگر سامان اور بالخصوص چوری کے سامان کے ساتھ لنگوٹی میں بھاگنا تو بالکل ممکن نہیں۔ چور نے فوری فیصلہ کیا کہ مسروقہ مال لنگوٹی سے زیادہ قیمتی ہے بلکہ اس بہانے اپنی پھٹی پرانی لنگوٹ سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔ سو اپنی لنگوٹ اتاری اور زیر جامہ میں ہی سامان سمیت بھاگ گیا۔ گھر والوں کو معلوم ہوا کہ سارا سامان لے گیا ہے لیکن لنگوٹی چھوڑ گیا ہے تو بہت خوش ہوئے کیونکہ اس سے قبل کسی چور نے مسروقہ گھر میں کبھی سوئی تک نہ چھوڑی تھی۔ گھر والے اس عنایت پر بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ کھاتا ہے تو کیا ہوا لگاتابھی تو ہے۔ بعد ازاں یہ روایت پڑ گئی کہ چور بھلے چوری کر لے لیکن لنگوٹی ضرور چھوڑ جائے لو گ اس بات کو سخت ناپسند کرتے تھے اور اس چور کو انتہائی کم ظرف اور اخلاق سے گرا ہوا سمجھتے تھے جو لنگوٹی نہ چھوڑتا تھا۔جب یہ روایت پختہ ہوئی تو حکومت نے ایک محکمہ بنا دیا جس کا کام ہی ایسے چوروں کو پکڑنا تھا جو لنگوٹیاں چھوڑنا بھول جاتے تھے۔ بعد ازاں ان سے لنگوٹی وصول کر کے انہیں معاشرے کا با عزت شہری قرار دیا جاتا تھا۔ بارے جدید دور آیا۔ چوروں نے بھی جدید طریقے ایجاد کیے۔ اب وہ چوری ایسے کرتے ہیں کہ ثبوت نہیں چھوڑتے۔ ورنہ پھر ڈاکہ مار لیتے ہیں۔علاوہ ازیں چور اب برینڈڈ کپڑے پہنتے ہیں۔ظاہر ہے وہ اتار کر رکھ جانا کوئی دانشمندی نہیں ہے۔ سو عوام لنگوٹی سے بھی گئے۔ہماری موجودہ حکومت نے اعلان کر رکھا ہے کہ چوروں سے پائی پائی وصول کرئے گی۔ یعنی چوروں کو ڈنڈا ملے گا اور عوام ریلیف کی حق دار ٹھہرے گی۔چوروں کو بھی معلوم ہو گیاہے کہ وہ بھاگیں گے تو کوئی ان کی لنگوٹ پر ہاتھ رکھے گا سو وہ جم کر بیٹھ گئے ہیں۔ یہ صورت حال حکومت کے لئے بھی حیران کن حکمت عملی کے قطعی برعکس ہے۔ اس لئے حکومت نے یوٹرن لیتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ چوروں کو ریلیف دیا جائے گا اور عوام کو ڈنڈا۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس پر عمل درآمد شروع بھی ہو چکا ہے۔ ہماری کرکٹ ٹیم کے کپتان کھلاڑی ہیں کوئی اردو دان نہیں۔ انہوں نے اس محاورے کو بھاگتے چور کو لنگوٹی ہی سہی پڑھا۔ اس سے کپتان صاحب سمجھے کہ دشمن یعنی چورسے بھی کرم و سخاوت سے پیش آنا چاہیے۔چونکہ عشرے بعد کوئی چور ہمارے ملک سے میجز چرانے آیا تھا تو انہوں نے سرفراز سے کہا مدت بعد آئے ہیں اور مہمان نوازی تمہاری تہذیب ہے تو ایک آدھ میچ یعنی لنگوٹ ہمیں بھی لے جانے دو۔ یہ کوئی انصاف ہے کہ دہشت گرد بھی ہمیں ماریں اور تم بھی۔ ہم اگر خالی ہاتھ گئے تو پھر کوئی دوسرا نہیں آئے گا۔اگر ہم ایک آدھ میچ جیت گئے تو اس سے دوسری ٹیموں کو بھی حوصلہ ملے گا کہ پاکستانی کھلاڑی اور عوام واقعی سپورٹس مین سپرٹ رکھتے ہیں۔ اس سے دوسری ٹیموں کوبھی پاکستان آنے کی ترغیب ملے گی۔کپتان ہمارا ویسے بھی سادہ ہے سو ان کی باتوں میں آ گیا اور اپنی لنگوٹ یعنی ایک آدھ میچ دینے کا وعدہ کر لیا۔ تاہم چور بڑے پیشہ ور تھے۔ انہوں نے لنگوٹ پر اکتفا نہیں کیا اور بہلا پھسلا کر کپتان سے سب اتروا لیا اور اسے قذافی اسٹیڈیم میں برہنہ کر کے چھوڑ گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 







Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved