تازہ ترین  

تین نو عمر لڑکیوں کے اغوا کا وقوعہ۔ حقیقت یا افسانہ
    |     2 weeks ago     |    کالم / مضامین

چیچہ وطنی۔مقصود احمد سندھو کی کرائم ڈائری



ملک کے مختلف شہروں اور علاقوں سے آئے روز مختلف جرائم کے واقعات اور خبریں سننے کو ملتی رہتی ہیں۔ ان میں سے کچھ اکثر حیرت اور صدمے والی ہوتی ہیں جو بعد از تفتیش اور مقدمات کے فیصلے کے نتیجے میں جھوٹی ثابت ہوتی ہیں۔ جس سے لوگوں کی عزت تو داؤ پر لگتی ہی ہے، ساتھ میں پولیس اور انصاف فراہم کرنے والے اداروں کے وقت کا ضیاع اور معاشرتی عدم اطمینان کا باعث بھی بنتی ہں۔ لیکن مظلوموں کو انصاف ملنے سے تسکین بھی ملتی ہے۔ اس سے پہلے کہ آپ کو بتائیں کہ اس بارے میں ماہر قانون دانوں پر مشتمل پینل کیا کہتا ہے، نظر ڈالتے ہیں چیچا وطنی میں تین نو عمر لڑکیوں کے اغوا کے واقعہ پر۔ 22 اکتوبر کی شام پانچ بج کر پنتالیس منٹ پر تھانہ سٹی چیچا وطنی کو اس کی حدود میں تین نو عمر تیرہ سے چودہ سال کے درمیان عمر والی لڑکیوں کے اغوا کے وقوعہ کی اطلاع موصول ہوئی۔ معاملے کی سنگینی اور حساسیت کے پیشِ نظر فوری طور پر ایف آئی آر درج کی گئی اور کارروائی عمل میں لاتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ دو فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق چیچا وطنی کے نواحی علاقے میں قائم خیمہ بستی میں رہائش پذیر اسحاق نامی شخص نے پولیس کو بتایا کہ اس کی بیٹی، پوتی اور نواسی لاری اڈے اور ریلوے اسٹیشن کی حدود میں کچرا چن رہی تھیں کہ اسی دوران ایک لڑکا انہیں چاول اور خیرات کے پیسے دلوانے کے بہانے بلا کر لے گیا۔ جب کافی دیر تک ان کی واپسی نہ ہوئی تو تلاش شروع کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ انہیں مہر آباد ٹاؤن کی طرف دیکھا گیا ہے۔ مدعی کے مطابق لڑکے نے دھوکہ کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں کی مدد سے حرام کاری کے لیے اغوا کر لیا ہے۔ بعد ازاں پولیس کی کارروائی کے بعد لڑکیوں نے اپنے ورثاء کے ساتھ پریس کلب میں اپنے ساتھ جبراً ہونے والی زیادتی اور تشدد کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے حکامِ بالا سے انصاف کی اپیل کی۔ اب دیکھیے تصویر کا دوسرا رخ۔ عینی شاہدین کے مطابق کاغذ اور کچرا چننے والی لڑکیاں مختلف اوقات میں مختلف جگہوں پر گھومتے پھرتے نظر آتی رہی ہیں۔ انہیں رات، شام اور علی الصبح منہ اندھیرے اکثر مختلف مقامات پر دیکھا گیا ہے۔ وقوعہ کے روز بھی وہ رات 9 بجے کے قریب ریلوے اسٹیشن کے پاس لڑکوں کے ساتھ ہنسی مذاق اور اونچی اونچی آواز میں باتیں کر رہی تھیں۔ بعد ازاں تینوں ایک ہی موٹر سائیکل پر سوار ہو کر ایک لڑکے کے ساتھ چلی گئیں جس سے کسی زبردستی کا شائبہ نہیں ہوتا۔ بلکہ معاملہ کچھ اور نظر آتا ہے۔ اصل حقائق تو تفتیش کے مکمل ہونے کے بعد ہی منظرِ عام پر آئیں گے لیکن اس قسم کے واقعات اپنے پیچھے بہت سے سوالات چھوڑ جاتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ چند پیسوں کی خاطر والدین اپنے بچوں کو حالات کی بھٹی میں جھونک دیتے ہیں۔ اس طرح لاکھوں بچے لالچی اور خود غرض افراد کی خواہشات کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔ اخلاقی گراوٹ اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ قحبہ گری کے معاملات میں بد عنوانی اور بد عہدی کی شکل میں اغوا کے پرچے درج کروا کر مک مکا اور بلیک میلنگ کے ذریعے بڑی بڑی رقمیں بٹوری جا رہی ہیں اور یہ سفر تھانے سے شروع ہو کر احاطہءِ کچہری کے کونوں کھدروں میں اختتام پذیر ہوتا ہے۔ اس قسم کے واقعات پر قابو پانے کے لیے ایک مضبوط سماجی رویہ تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ جو حقوق و فرائض کا پابند ہو۔ جس سے لاچار اور مجبور لوگوں کی دیکھ بھال ہو سکے تاکہ جرائم اور جھوٹے مقدمات کی حوصلہ شکنی ہو۔ ٹیم اوصاف چیچاوطنی نے یہ معاملہ اپنے وکلا پینل کے سامنے رکھا جس پر سابق صدر بار کونسل ایڈووکیٹ ہائی کورٹ چوہدری ناصر محمود نے کہا کہ اگر ملک میں جھوٹے کیس دائر کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو تو اس سے نہ صرف ایسے مقدمات درج کروانے والوں کی حوصلہ شکنی ہو گی بلکہ عدالتوں کا بوجھ بھی کم ہو گا۔ جھوٹے مقدمات اور گواہیوں کی بدولت نظامِ انصاف تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ جھوٹی ایف آئی آر نا انصافی کی بنیاد ہوتی ہے جس کے بعد ملزم کو ضمانت سے لے کر فیصلے تک کئی سال عذاب بھگتنا پڑتا ہے۔ ناقص تفتیش اور جھوٹی گواہیوں سے ظلم پروان چڑھ رہا ہے۔ اس لیے جھوٹے مقدمات میں ملوث مدعیوں کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے سرکار کو خود پیروی کرنی چاہیے۔ اس کے علاوہ میڈیا کو بھی حقائق پر مبنی ذمہ دارانہ رویہ اپناتے ہوئے ایسی خبروں کی حوصلہ شکنی کرنی چاہئے۔ سابق صدر بار کونسل ایڈووکیٹ ہائی کورٹ محمد فاروق خان کے خیال میں اس قسم کے واقعات اور مقدمات کا اندراج اور ناقص طریقہءِ تفتیش ایک ایسا ناسور بن چکا ہے جس سے عدالتوں پر بوجھ میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے۔ جھوٹی مقدمہ بازی کے خلاف موثر کارروائی کرنے سے عدالتوں پر غیر ضروری بوجھ کو کم کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کو اس پر قانون سازی کرنی چاہئے کیوں کہ ماتحت عدلیہ کی تاریخ میں در درجن سے زائد سنگین نوعیت کے مقدمات میں جھوٹے مدعی مقدمہ کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی لیکن ان میں سے کسی کو بھی تین ماہ سے زیادہ سزا نہ ہوئی اس لیے ایسے قوانین کو مزید سخت بنانے کی ضرورت ہے۔ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ سید عامر رضا کے مطابق ہمارے ہاں جھوٹ بولنا عام وطیرہ بن چکا ہے۔ جس کی وجہ سے عدالتوں میں مقدمات کا بے پناہ رش بڑھ چکا ہے۔ ملک میں ایسے ہزاروں مقدمات ہیں جن میں ملزمان سالہا سال جیلوں میں گزارتے ہیں اور آخرِ کار شواہد کی عدم موجودگی کی بدولت ملزم بری ہو جاتے ہیں۔ جس سے انصاف ایک مذاق بن جاتا ہے۔ اس لیے جھوٹے مقدمات میں ملوث مدعیوں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے۔ پینل کے نزدیک ایسے جرائم کی بڑی وجہ غربت، افلاس، لالچ، خود غرضی، معاشی نا ہمواری، معاشرتی بے حسی، اخلاقی تربیت کا فقدان اور ریاست کی ذمہ داریوں سے پہلو تہی ہے۔ خوش قسمتی سے ضلع ساہی وال کو مستعد، متحرک و فعال ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کیپٹن ریٹائرڈ محمد علی ضیا کی خدمات حاصل ہیں۔ جنہوں نے ضلع کو جرائم سے پاک کرنے کے لیے کئی انقلابی اقدامات کیے ہیں۔ پولیس کی خود احتسابی کے عمل سے ابتدا کرکے منشیات فروشوں، چوروں، ڈاکوؤں، راہزنوں، قمار بازوں، اشتہاریوں اور گینگسٹرز کے خلاف بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے علاقہ میں امن و امان کی فضا کو بہتر بنایا اور تحصیل چیچا وطنی میں ڈی ایس پی چوہدری ساجد محمود گوندل، ایس ایچ او چوہدری رشید جیسے ذمہ دار اور مستقل مزاج آفیسرز کی موجودگی بھی عوام کے لیے تقویت کا باعث ہے۔ جو ہر وقت اپنے دفاتر میں موجود پائے جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی موجودگی میں عوام ان سے توقعات وابستہ کرنے میں حق بجانب ہیں۔ کہ جہاں دوسرے معاملات میں بہتری آئی ہے، ساتھ ہی جھوٹی ایف آئی آرز کے اندراج اور بے جا گرفتاریوں کے خلاف بھی ضروری اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ ادارے کی نیک نامی میں مزید اضافہ ہو سکے۔






Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved