تازہ ترین  

بچھو کی آماجگاہ
    |     2 months ago     |    شعر و شاعری
میرا انتظار کرتی آنکھیں
نم ہوئیں نہ تھک کر سو سکیں
غیض اور تردد کی آگ نے گوشہ ہائے چشم میں لاوا انڈیل دیا ہے
آگ، جو خوف سے سرد پڑتے جسموں میں
اچانک کہیں سے ابل پڑتی ہے
موت اور تباہی کا خوف بلغمی خون کی طرح ہوا کے منہ پر تھوک دینے کا کریہہ عمل ۔۔۔۔۔۔۔۔
کتنا خون تھوکا گیا۔۔۔۔۔۔؟
اس کا اندازہ مجھے بچھو کی آماجگاہ میں بڑھتی ہوئی سیلن سے ہوا
مجھے بچھو کے بِل سے باہر تھوک دیا گیا
واپس اسی سماج کے تشنج زدہ زرد چہرے پر
اس حال میں کہ میرا جسم بچھو کے زہریلے ڈنک کی لذت سے ناسور بن چکا تھا
سلگتے زخموں سے بھر گیا تھا
جن کو دیکھ کر میرے معصوم بچے بلبلا اٹھے
زخم، جن کو دیکھ کر میری ضعیف ماں غش پہ غش کھاتی رہی
زخم، جن کو دیکھ کر میرے رفقائے حریت کے سینے
تیقن اور تفاخر کے احساس سے بھر گئے
زخم، جنہیں سب دیکھ اور پڑھ سکتے ہیں
اج کے تازہ اخبار کی سرخیوں کی طرح
جن کے مقدر میں قراءت سے پہلے ہی پائمالی و پارینگی لکھی جا چکی ہوتی ہے
لیکن زخم تو اور بھی ہیں
میری روح کے تار تار جامے پر
جنہیں کوئی دیکھ نہیں سکتا
میری ماں کی محبت اور نہ ہی میرے بچوں کی شیفتگی کا والہانہ پن
ہاں میرے لہجے کا استقلال ان کی گواہی ہے
جو عساکرِشب کے حوصلے پست کرتا رہے گا
جن کی طاقت استبداد کا ہولناک دھوکہ
اور شکست مکافات کا ایک تازیانہ ہے





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved