تازہ ترین  

خاک زادی(نظم)۔
    |     1 month ago     |    شعر و شاعری
میں خاک زادی ھوں
خاک زادی کا جرم یہ ھے
نہ حرص کی نہ ھوا کی خواہش
نظر میں چاھت
دلِ تبہ میں وفا کی خواھش
بجز محبت
نہ مال و زر کی ہوس کا پھندا
نہ چاھئیے پیش و پس کا پھندا
میں خاک زادی ھوں
خاک زادی کا جرم یہ ھے
کہ جبر و وحشت قبول کر لی
کہ ھنس کے نفرت قبول کر لی
جو مرد نے مجھ پہ لاگو کر دی تھی
وہ مشیت قبول کر لی
قبول کر لی حیا کی خوشبو
قبول کر لی دغا کی خوشبو
جفا کی خوشبو ، حنا کی خوشبو
سے مختلف تھی
مگر تہہِ دل سے میں نے وہ بھی قبول کر لی
میں خاک زادی
کہاں تلک ظلم سہتی آئی
نہ دن کو دیکھا
نہ رات کی کوئی کی ھے پروا
میں ایک عورت
جو مرد کے ھاتھ میں
کھلونہ بنی ھوئی ھوں
میں خاک زادی
کہ خاک میں ھی مِلی ھوئی ھوں
میں خاک زادی ھوں
خاک زادی کا جرم یہ ھے
کہ موم کی طرح دل ھے اس کا
ھے اس کے سینے میں اک خلش سی
وھی خلش
جس کو مرد سمجھا
نہ مرد کی کوئی ذات سمجھی
یہی خلش ھے وہ ایک جذبہ
جو ایک ھونے کی سوچتا ھے
میں خاک زادی ھوں
خاک زادی کا جرم یہ ھے






Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved