تازہ ترین  

پاکستان کا معاشی حب ، حکمرانوں کی توجہ کا منتظر ۔
    |     3 months ago     |    کالم / مضامین

پاکستان کا معاشی حب ، حکمرانوں کی توجہ کا منتظر ۔
تحریر: ملک عاطف ۔

پاکستان دنیا کا ایک ایسا ملک ہے جس کو قدرت نے ہر نعمت سے نوازا ہے، مختلف موسم، مختلف پھل ، حسین نظارے غرض یہ کہ سب کچھ ہے، یوں تو ہمارے سارے شہر ہی خوبصورت ہیں اور ہر انسان کو اپنا ملک اچھا لگتا ہے اس طرح مجھے بھی پاکستان بہت اچھا لگتا ہے اور ہم رب کریم کا جتنا بھی شکر ادا کریں وہ کم ہے جو اس نے ہ میں ایک آزاد ملک دیا اور ہ میں اپنے ان تمام لوگوں کو قد ر کی نگاہ سے دیکھنا چاہئے جنہوں نے قیام پاکستان میں جان ،مال عزت و دولت کی قربانیں دیں ،دعا ہے کہ رب کریم ہمارے وطن عزیز پر اپنا کرم کرے اور ہمارا ملک ترقی کی راہوں پر گامزن ہو اور ہرپاکستانی خوشحال ہو، کوئی بھی شخص جس شہر کا باسی ہوتا ہے اس شہر کی اہمیت اس کی نظر میں دیگر شہروں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے کیونکہ اس شہر کی گلیوں ، کونوں ، سڑکوں سمیت ہر حصے سے ایک انسیت ہوجاتی ہے ، میں چونکہ کراچی کا رہائشی ہوں تو اس لیئے میں کراچی کی بات کرونگا، کراچی جس کو روشنیوں کا شہر اور شہر قائد کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ایک ایسا شہر ہے جس نے پاکستان کے ہر کونے کے لوگوں کو اپنی گود میں جگہ دی ہوئی ہے اور پاکستان کے ہر کونے سے لوگ اس شہر میں روزگار کمانے آتے ہیں ، کراچی سے پورے پاکستان میں الیکٹرونکس آءٹم سے لیکر ہر قسم کا سامان سپلائی ہوتا ہے ، تمام کاروبار کا مرکز یہ شہر ہے کیونکہ بندرگاہیں اس ہی شہر میں ہیں اور ہر قسم کی امپورٹ اور ایکسپورٹ یہیں سے ہوتی ہے، مگر بدقسمتی اور لمحہ فکریہ یہ ہے کہ دو کروڑ سے زائد آبادی والا شہر عجیب کسمپرسی کا شکار ہے ، ہر سیاستدان اور حکمران کی زبان پر یہی جملے ہیں کہ کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے اورکراچی نہیں چلے گا تو پاکستان نہیں چلے گا، لیکن اس کے باوجود اس شہر کو کسی نے اپنانے کی کوشش نہیں کی، کسی زمانے میں یہ شہر بھی اچھاہوتا ہو گا لیکن اس وقت کی حالت ٹھیک نہیں ہے، سڑکوں کی حالت سے لیکر ٹرانسپورٹ تک اور صفائی ستھرائی کے معاملات سے امن و امان تک کونسا ایسا مسئلہ ہے جسے حل کیا گیا ہو یا سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش کی گئی ہو، اب تو ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ کراچی کے مسائل اتنے بڑھ گئے ہیں کہ انہیں حل کرنا ممکن ہی نہیں رہا، ایک ایسا شہر جس میں پورے ملک سے لوگ روزگار کے حصول کے لیئے آتے تھے اس شہر پر کوئی توجہ ہی نہیں دی گئی جبکہ اس شہر پر تو حکمرانوں کو زیادہ توجہ دینی چاہئے تھی، کراچی اسوقت دو سے تین اسٹیک ہولڈرز میں پھنسا ہوا ہے ایک جانب حکومت سندھ ہے جو کہ گزشتہ گیارہ سالوں سے صوبہ سندھ میں ہے او ر کراچی سندھ کا شہر ہے، دوسری جانب تحریک انصاف ہے جسے گزشتہ سال ہونے والے انتخابات میں کراچی کی اکیس میں سے تیرہ سیٹیں ملیں اس لحاظ سے تحریک انصاف کراچی کی سب سے بڑی جماعت بن گئی، اور تیسری متحدہ قومی موومنٹ جس نے بلدیاتی انتخابات میں میدان مارا اور میئر کراچی متحدہ کا ہے ، اب ان تین بڑی جماعتوں یا اسٹیک ہولڈرز کی ذمہ داری تھی کہ وہ ایک بڑے شہر کراچی کے مسائل کرتے اور اس شہر کو خصوصی توجہ دیتے، پیپلز پارٹی اور متحدہ تو اس سے قبل بھی اقتدار میں رہی ہیں لیکن اب کی بار لوگوں نے تحریک انصاف کو ووٹ دیا جس کی وجہ یہ تھی کہ شہر قائد کی عوام کو لگا کہ پہلی دفعہ اقتدار میں آرہے ہیں ان کے اندر کام کرنے کا جذبہ ہوگا اور یہ لوگ شہر قائد کے مسائل کو حل کریں گے لیکن ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود کراچی کے مسائل جوں کے توں ہی پڑے ہیں ، اب اگر کراچی کا موازنہ دیگر شہروں سے کیا جائے تو یہاں صورتحال بالکل مختلف ہے یا یوں کہیں کہ اسٹیک ہولڈرز کے درمیان کراچی فٹبال بنا ہوا ہے تو بھی شاید غلط نہ ہو، اس وقت جس سیاسی جماعت کی سندھ میں حکومت ہے ، اور دوسری وہ جماعت جس نے سب سے زیادہ سیٹیں جیتیں اگر یہ دونوں ملکر ملکی مفاد کو مقدم جانتے ہوئے پاکستان کے معاشی حب کراچی کے مسائل کو حل کرنے کے لیئے کوشش کرتے تو شاید کچھ بہتری آجاتی لیکن صورتحال اس سے بالکل الگ ہے اور وہ یہ کہ دونوں بڑی جماعتیں ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈا لتی ر ہتی ہیں یا یوں کہہ لیں کہ وفاق صوبے کو اور صوبہ وفاق کو مورد الزام ٹھہر ا کر خود بری الذمہ ہوجاتاہے، صوبہ سندھ میں جس سیاسی جماعت کی حکومت ہے اس کو کراچی کے چند مخصوص علاقوں کے علاوہ ووٹ نہیں ملتا شاید یہ وجہ ہو کہ وہ اس شہر کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے جبکہ دیگر زیادہ سیٹیں جیتنے والی جماعت تحریک انصاف اور بلدیاتی نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے والی متحدہ قومی موومنٹ اختیارات کا رونا پیٹتے رہتے ہیں ، اب ساری صورتحا ل میں اگر کوئی پریشان ہوتا ہے تو وہ کراچی کی عوام ، اس شہر کا عام شہری جس نے اس ہی شہر میں رہنا اور اس کا جینا مرنا اس شہر کے ساتھ ہے، ایک بات یہ بھی قابل غور ہے کہ اگر میئر کراچی کے پاس اختیارات نہیں ہیں تو استعفی دینے کی جراءت کیوں نہیں کرتے، تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد وزیراعظم عمران خان صاحب نے کئی دفعہ کراچی کا دورہ کیا بہت اعلان کیے وعدے کیے مگر عملی طورپر کوئی ایک بھی منصوبہ نظر نہیں آیا ہاں کاغذوں میں منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچ رہے ہوں تو کچھ نہیں کہا جا سکتا، ایسالگتا ہے شہر آگے اور بہتری کی جانب جانے کی بجائے پیچھے کی جانب جارہا ہے ، صفائی ستھرائی کہیں نظر نہیں آتی، پینے کا صاف پانی کی عد م دستیابی، سڑکوں کا برا حال، ٹرانسپورٹ کا ناقص نظام، امن وامان،بارش ہو جائے تو شہر دریا کا منظر پیش کرتا ہے، کچھ سیاسی جماعتوں کے لوگ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کرنے کے لیئے مختلف موقعوں پر فوٹوسیشن کروانے تو آجاتے ہیں لیکن عملی کام کہیں نظر نہیں آتا، میر ی وزیراعظم عمران خان صاحب سے اور تمام ان سیاسی جماعتوں کے لوگوں سے اپیل ہے کہ ملکی مفاد اور بہتری کے لیئے کراچی پر توجہ دیں ، شہرقائد کے امن وامان سمیت دیگر تمام مسائل کو حل کرنے کے لیئے اقدامات کریں اور تمام کاروبای حلقوں کے ساتھ ملکر مذاکرات کریں تاکہ کاروبار چلے ، معیشت کا پہیہ چلے، بجلی کا بحران ختم ہو، فیکٹریز چلیں کیونکہ کراچی کی خوشحالی سے پورے ملک میں کاروبار چلے گا جس سے نہ صرف بیروزگاری کے خاتمے میں مدد ملے گی بلکہ پاکستان کے دوسرے شہروں میں بھی اس کے مثبت ثمرات مرتب ہوں گے ۔ ختم شد


تحریر: ملک عاطف عطا

atifapb297@gmail.com 






Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved