تازہ ترین  

امریکا ،ایران جنگ کے شعلے۔۔۔۔۔جلے گا کون کون ؟؟؟
    |     2 weeks ago     |    کالم / مضامین
گزشتہ چند دنوں سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ اورایران کے درمیان تصادم کے خطرات کافی بڑھ چکے ہیں ،مشرقی وسطیٰ میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی امریکہ کے ڈرون حملے میں ہونے والی موت نے پورے خطے کو ہی جنگ کی کیفیت میں مبتلا کیا ہواہے،ایران اب جنرل قاسم سلیمانی کا بدلہ لینے کے لیے تیاریوں میں مصروف عمل دکھائی دیتاہے ،جبکہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ کہنا ہے کہ ہم نے جنرل قاسم سلیمانی کو جنگ سے روکنے کے لیے ماراہے ،جبکہ پاکستان کے لیے یہ تمام تر صورتحال اس لیے گھمبیر ہے کہ پاکستان کے ان دونوں ممالک سے ہی اچھے تعلقات ہیں اسی وجہ سے پاکستان ان دونوں ممالک کو جنگ کے خطرات سے بچانے کے لیے مصالحت کے لیے سرگرم ہے ،کیونکہ پاکستان یہ بات اچھی طرح سے جانتاہے کہ امریکا ایران کی سرزمین پر کارروائی کرتاہے اس سے مڈل ایسٹ میں جنگ کا خطرہ بڑھتاہے اورپاکستان کی جانب سے تشویش کی اہم وجہ پھر یہ ہی ہے کہ پاکستان ایران کا ہمسایہ ملک ہے اور لازمی ہے کہ امریکا اور ایران میں جنگ کی کیفیت کے منفی اثرات پاکستان پر بھی پڑینگے ، بلکل اسی طرح اگر ایران اگرمشرق وسطی میں امریکی مفادات کو نشانہ بناتاہے توتب بھی خطے میں فوجی تناءو اور جنگ کی کیفیت پیدا ہوتی ہے ،پاکستان کے اس وقت تمام تر خلیجی ممالک سے اچھے تعلقات ہیں جوامریکا کے ہمدرد سمجھیں جاتے ہیں اور جہاں پر امریکی مفادات اورامریکی فوجیں موجود ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ ایران اور امریکا کی جانب سے اس کشیدگی میں پاکستان سفارتی سطح پر مشکل میں گرفتار دکھائی دیتاہے یقینی طورپر پاکستان پور ے خطے میں ہی امن کا خواہ ہے مگرپاکستان کے لیے ان تمام معاملات کے بعد اپنی ایک آزاد حیثیت کو قائم رکھنا چیلنج سا بن چکاہے اس مسئلے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اگرامریکا کو یہ کھلی چھٹی دیدی جائے کہ وہ کسی بھی اسلامی ملک میں فوجی کارروائی کرسکتاہے تو اس کے نتاءج بہت برے ہونگے جو یقینی طورپر پاکستان کے لیے بھی ایک وارننگ ہوگی، کیونکہ امریکا نے افغانستان،ایراق،شام ،لیبیا،فوجی کارروائی کی جو مسلمان ممالک ہیں جبکہ یمن کے معاملے میں امریکا نے کھلے عام سعودی عرب کی مدد کی ہے جس سے بہت حد تک امریکا کی مسلم ممالک سے نفرت اور عزائم کا بھانڈا پھوٹ چکاہے، لہذا امریکا کی جانب سے ملنے والی وقتی امداد یا رقم کا یہ مقصد ہرگز نہیں ہوسکتا کہ امریکا ہمارا ایک سچا اور ہمدرددوست ملک ہے یعنی ایک شخص جو کسی ضرورت مند کو سود کی رقم دیتاہے اور بعد میں رقم نہ دینے پر اس کے گھر پر ہی قبضہ کرلیتاہے، جب یہ مان لیا ہے کہ امریکا ایران پر جوکارروائی کرنے جارہاہے وہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ وہ اس سے قبل بھی مسلم ممالک میں جنگی کارروائیاں کرتارہاہے لہذا آنے والے دنوں میں اگر پاکستان اپنے دفاع کے لیے کوئی ایسی پالیسی بناتا ہے جس سے امریکا خوش نہ ہوتو امریکا اپنے فوجی طاقت کے نشے میں پاکستان میں بھی کوئی کارروائی کرسکتاہے ۔ البتہ ان تمام تر خدشات کے پیش نظر امریکا کو یہ بھی زہن میں رکھنا ہوگا کہ پاکستان کی فوج اوپر زکر کردہ ممالک سے بہت زیادہ اچھی اور بہادر ہے جس کا دفاعی نظام دنیا میں سب سے زیادہ مظبوط مانا جاتاہے لہذا اگر امریکا کی جانب سے یہ اوچھی حرکت ہوبھی جائے تو پاکستان کی فوج اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے لیکن اس کے باوجود یہ کہنا ہی درست ہوگا کہ جنگ کبھی مسئلوں کا حل نہیں ہوتی یہ صرف تباہی لاسکتی ہیں اس سے جہاں امریکا کے مسائل بڑھیں تو پھر اس سے پاکستان کے مسائل میں بھی اضافہ ہوگا ۔ دوسری جانب امریکا کو یہ بھی جان لینا چاہیے کہ بین الاقوامی اصولوں اور قوانین کے مطابق آپ کسی دوسرے ممالک میں فوجی کارروئیاں نہیں کرسکتے اس کے لیے امریکا کی مسلم ممالک میں فوجی کارروائیوں کی حوصلہ شکنی کرنا بہت ضروری ہے اس سلسلے میں ایک اہم سوال یہ بھی ہے اگر امریکا اور ایران کے معاملات بگڑتے ہیں تو پھر سعودی عرب کی پالیسی کیا ہوگئی کیا سعودی عرب ایک مسلمان ملک ہونے کی حیثیت سے اس جنگ میں اپنی خود مختاری کو قائم رکھتے ہوئے امریکا کی اس فوجی کارروائی کی مخالفت کریگا یا پھر امر یکا کا ساتھ دیگا یہ سوال بہت اہم ہے کیونکہ سعودی اور یمن تنازعے میں امریکا نے سعودی عرب کا بھرپور ساتھ دیاتھا جو شاید اسی لیے تھا کہ سعودی عرب بھی ان احسانوں کے بدلے میں خاموش رہے ، فی الحال اس معاملے میں جو بھی فیصلہ سعودی عرب کرتاہے اس کے اثرات بھی پاکستان سعودی عرب تعلقات پر ہونگے علاوہ ازیں ایران اور امریکا کے جھگڑے سے اگر خلیج کے علاقے میں عدم استحکام ہوتاہے تو اس سے نہ صرف تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا بلکہ اس سے وہاں پر موجود پاکستان کی نوکریاں بھی خطرے سے دوچارہوجائینگی جو ان ممالک میں نوکریاں کرتے ہیں یا پھر کوئی کاروبار کرتے ہیں ، کیونکہ امریکا اور ایران کی فوجوں کے درمیان تصام سے خطے کے تمام تر مسلم ممالک میں ہی عدم استحکام پیدا ہوگا، دوسری جانب یقینی طورپر ایران جنرل قاسم سلیمانی کا بدلہ لے سکتاہے اور اگر ایسا ہواتو اس سے امریکا کے مفادات کو تو نقصان پہنچ سکتاہے لیکن امریکا براہ راست اس جنگ کے منفی اثرات سے محفوظ دکھائی دیتاہے کیونکہ اس جنگ کی صورت میں امریکایہ جنگ مسلم ممالک کی سرزمین پر ہی لڑیگا جس کا نقصان بھی مسلم ممالک کو ہی ہوگا جو کہ ایک ناقابل تلافی نقصان ہوگا، کیونکہ مسلم ممالک کا ایک دوسرے کے ساتھ ہمسایہ ممالک کا ساتھ ہونا کچھ اس طرح سے ہے پاکستان ،ایران،عراق،ترکی ،سعودی عریبیہ،کویت،قطر،بحرین ،متحدہ عرب امارات،مسقط اومان ،لہذا مسلم ممالک چاروں طرف سے اس جنگ کے شعلوں میں گھرے دکھائی دیتے ہیں ،اور امریکا کی فوج قطر،سعودی عرب،ایراق،ایران میں موجود ہے جبکہ بحرین،کویت،قطراوردیگر مسلم ممالک میں امریکا مفادات موجود ہیں ،جس کے بعد ان ممالک کی سرزمین کو امریکا ایران سے جنگ کے لیے استعمال کرسکتاہے گو کہ ہمارے ملک پاکستان کی فوج نے واشگاف الفاظ میں امریکا کو یہ کہہ دیاہے کہ پاکستان اپنی سرزمین کو اس جنگ کے لیے استعمال ہونے نہیں دیگا جبکہ ایراقی پارلیمنٹ نے بھی یہ قراردادپاس کی ہے کہ امریکا کی فوج اس کے ملک سے نکل جائے بلکل اسی طرح دیگر مسلم ممالک کو بھی ہمت کا مظاہر کرناہوگا یقینی طورپر امریکا نے قرضوں اور دیگر معاملات میں مسلم ممالک کے پر کاٹ رکھیں ہیں مگر اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ امریکا جو چاہے کرسکتاہے اس لیے ایک ایران ہی نہیں بلکہ اس سے قبل بھی امریکا مسلم ممالک سے جنگیں کرچکاہے اور اب باری ایران کے بعد کسی کی بھی آسکتی ہے ، جبکہ پاکستان کے ساتھ اگر حالات کبھی بگڑے توامریکا براہ راست پاکستان سے جنگ کبھی نہیں کریگا اس کے پاس دوطریقے ہونگے ایک تو پاکستان میں غربت بہت ہے کہ پیسے بند کردو ۔ دوسری جانب انڈیا کے زریعے جنگ مسلط کرسکتاہے جو کربھی رہاہے امریکا بھارت کو عربوں ڈالر کا اسلحہ دیتاہے اور اس کی بھرپور خاموش مدد سے ہی بھارت کشمیر میں ظلم وستم کررہاہے اور مسلم دشمنی میں بھارت میں موجود مسلمانوں کی شہریت کو ختم کررہاہے اور دوسرا طریقہ امریکا یہ کرسکتاہے وہ پاکستان کے خلاف بڑے بڑے فورمز پر پروپیگنڈا کریگا کہ پاکستان ایک دہشت گرد ملک ہے یا ان کو پناہ دیتاہے، لہذا یہ لمحہ فکریہ ہے کہ اب مسلم ممالک کوہوش میں آجانا چاہیے اور اس ساری صورتحال میں اب ایک فیصلے کی گھڑی آن پہنچی ہے وہ یہ کہ ان تمام مسلم ممالک کو اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات اور جھگڑوں کو چھوڑ کرخطے اور اپنے دین واسلام کی سا لمیت کی فکر کرنی چاہیے اور ایک قوت بن کر ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے ۔ آپ کی فیڈ بیک کا انتظاررہے گا ۔ ختم شد





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved