تازہ ترین  

حکمرانو! غریب آخر کہاں جائیں؟
    |     1 month ago     |    کالم / مضامین
جب کوئی شخص مہنگائی سے پریشان، ذہنی کشمکش اور محرومی کا شکار ہوجاتا ہے تو اُسکی قوت مزاحمت کمزور پڑجاتی ہے،اور وہ مختلف بیماریوں کا شکار ہوجاتا ہے۔مہنگائی یہ ایک نئی بیماری دریافت ہوئی ہے جولوگوں کو باقی بیماریوں سے، ان کا تعارف کرواتی ہے یہ حکمرانوں کا تحفہ ہے، جو صرف پاکستان کے عوام کے لیے ہے اس بیماری سے ہر خاص و عام مستفید ہوتا ہے اس بیماری کے صرف سائیڈ افیکٹ ہی نہیں بلکہ یہ موت کی طرف پہلا قدم ہوتا ہے، اب تو لوگ سکون سے مر بھی نہیں سکتے،ماہرین کی رائے کے مطابق صحت کو نقصان پہنچانے اور ذہنی پریشانی کا باعث بننے والے عوامل میں اب سب سے بڑا کردار غربت کا ہے اور اسی غربت کی وجہ سے ہی مختلف بیماریاں جنم لیتی ہیں جو موت کی طرف زندگی کو لے جاتی ہیں اُس کے بعد ناقص غذا، ماحولیاتی عناصر وغیرہ کا عمل دخل ہے اور اس میں منفی رویوں کا بھی ساتھ عمل دخل ہے جس میں غصہ بھی شامل ہے جس کے سبب ذہن مفلوج، اعصاب تنگ، بلڈ پریشر ہائی اور ہارٹ اٹیک وغیرہ جیسے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔انسان فطرت سے جتنا رو گردانی کرتا جا رہا ہے اسکی مصنوعی زندگی میں نت نئے جسمانی وذہنی عوارض اپنی خطرناک اور خوفناک علامت کے ساتھ حملہ آور ہو رہے ہیں بہت مشہور کہاوت ہے کہ صحت دولت ہے اور یہ سچ بھی ہے کسی شخص کی اگر صحت چلی جاتی ہے تو اُسکا سب کچھ کھو جاتا ہے انسان کی مادی ترقی کے ساتھ ساتھ جہاں نئی نئی ایجادات اور سائنس و ٹیکنا لوجی کی نئی راہیں وا ہوئی ہیں وہاں گھمبیر مسائل اور امراض نے بھی جنم لیا ہے۔ہمارے حکمران بے شک ان سب میں کان نہ دھریں مگر ان روحوں کو کیا جواب دیں گے جو ان سے قیامت کے دن گریبان پکڑ کر اپناجرم پوچھیں گی، حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو صاف پانی،اچھی غذا، مناسب ماحول اور صحت کی تمام سہولتیں فراہم کریں۔ مگر ان حکمرانوں کو کسی بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا،اسپتالوں میں نامناسب سہولتیں ان کی حالتِ زار بیاں کرتی نظر آتی ہیں، یہاں تو یہ حال ہے کہ کوئی بچہ بھی اگرآخری سانسیں لے رہا ہوتاہے، تب بھی یہ بے حسی کی چادر میں لپٹ جاتے ہیں ماں باپ کی دہائیاں، التجا ئیں،فریاد سب بے کار ہوجاتی ہیں اور وہ کلی کھلنے سے پہلے ہی مرجھا جاتی ہے،کتنے بچے اسپتال کی مناسب سہولتیں نہ ملنے کے سبب موت کے منہ میں چلے گئے،خبر نشر ہوتی ہے کہ وینٹیلیٹر خراب، بجلی کی فراہمی معطل جس کی وجہ سے بچے زندگی سے ہی ناطہ توڑ لیتے ہیں کتنے ماؤں نے اپنے جگر کے ٹکڑوں کو اپنے ہاتھوں سے دفن کیا ہوگا، کتنے باپ نے اپنے بازو ڈھلتے دیکھے ہوں گے مگر یہاں اب کوئی انسان ایسا نہیں جو دردِ دل رکھ سکے جب کسی انسان کو منا سب سہولتیں نہیں ملیں گی تو وہ بیماریوں میں ہی مبتلا ہوگا، کم سے کم عوام کو سہولتیں تو دو صرف ووٹ لینے کے وقت عوام کی یاد ستاتی تڑپاتی ہے عوام کو صحت، تعلیم اور مناسب سہولتیں ہی دے دو تاکہ وہ صحت مند سانس تو لیں سکیں، پڑھ لکھ کرخود ہی کما لیں گے، انھیں ان کی وہ معمولی ضرورتیں تو پوری کرو جو ان کا حق ہے انہیں سرکاری اسپتال چاہیں، صحت مراکز میں مفت دوائیں چاہیں، سرکاری اسپتال میں سہولتیں چاہیں، سرکاری تعلیم اداروں میں کچھ دو نہ دو کم سے کم تعلیم ہی دے دو جو ان غریبوں کا حق ہے، اخبارات اور میڈیا میں بڑے بڑے اشتہارات آجاتے ہیں کہ حکومت عوام کی فلاح و بہبود کے لیے یہ کررہی ہے، وہ کر رہی ہے نظر کچھ نہیں آتا اس کی قیمت کم کر دی، عوام مطمئن نظر نہیں آتی۔ سندھ میں صحت کی صورتحال سب سے زیادہ خراب ہے۔پاکستان میں کینسر، امراض قلب، گردے کی بیماری، یرقان،ذیابطیس، ہائی بلڈ پریشر تو ہیں ہی لیکن اب آج کل کے اس مہنگائی اور ٹینشن کے دور میں انسان بہت سی بیماریوں کاشکار ڈپریشن اورذہنی دباؤ کی وجہ سے بھی ہوتا جا رہاہے،دباؤ اب ہماری زندگی کا ایک اہم حصہ بنتا جارہا ہے ہم دن بھر میں کئی کئی بار اس کا شکار ہوتے ہیں اگرچہ دباؤ انسانی معاشرے میں ہمیشہ سے موجود ہے لیکن انسانوں کے مشینوں کا غلام بننے کے اس دور میں اور اس مہنگائی کے جھٹکوں میں دباؤ اس قدر عام ہوگیا ہے کہ اُسے باقاعدہ ایک مرض کا درجہ دیا جانے لگا ہے اگر یہ ضرورت سے زیادہ بڑھ جائے تو بعض اوقات یہ بیماری خطرناک صورت اختیار کر لیتی ہے یہاں تک کہ خودکشی کی نوبت آجاتی ہے یہاں تو ایک اسکول اور کالج کا بچہ بھی دباؤ کا شکار بنتا جا رہا ہے۔ دل کے امراض میں ہر سال تیزی سے ا ضافہ ہورہا ہے ہر سال دو لاکھ پاکستانی دل کی بیماریوں سے ہلاک ہوجاتے ہیں اس مرض سے2030ء تک دنیا بھر میں 23 ملین افرد کی ہلاکت کا خدشہ ہے، پاکستان ان20ممالک میں شامل ہے جہاں یہ خطرات ہیں، بد قسمتی سے دل کی بیماریاں اب عام ہوتی جارہی ہیں، وہ معلومات اور خطرات سے اب آگاہی عام ہونی چاہیے جن سے ہم مبتلا ہیں یا ہوسکتے ہیں۔! پاکستان میں لوگوں کی بڑی تعداد منشیات کی عادی ہے تا ہم یہ شرح بلوچستان میں سب سے زیادہ ہے جو کہ قابلِ تشویش ہے، اس کے باوجود منشیات کی سرعام فروخت مزید تشویش کا سبب ہے اس سے سب سے زیادہ نوجوان نسل تباہ ہورہی ہے۔ ہائی بلڈ پریشر..! ایک ایسی علامت ہے جسے عرصہ دراز سے ایک بیماری سمجھا جاتا ہے تحقیق کے مطابق ہائی بلڈ پریشر بیماری نہیں بلکہ دوسری کئی بیماریوں کی ایک واضح علامت ہے ہائی بلڈ پریشرکو خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے یہ مرض بہت سے عضو کو نشانہ بناکر انھیں ناکارہ کر دیتا ہے اور آہستہ آہستہ موت کے منہ میں لے جاتا ہے۔کینسر...!(سرطان) نام ان جان لیوا بیماریوں کے ایک گروپ کو دیا جاتا ہے جس میں ہر سال لاکھوں افراد مبتلا ہوجاتے ہیں۔ سرطان کی تقریباً 200 سے زائد اقسام ہیں اور یہ جسم کے کسی بھی عضو یا حصے میں شروع ہوسکتا ہے. یہ مرض پیدائش سے لیکر بڑھاپے تک عمر کے کسی بھی مرحلے میں لاحق ہوسکتا ہے۔ ۳۰ سال کی عمر کے زیادہ لوگوں میں اس کی شرح زیادہ ہوتی ہے اس طرح مختلف ملکوں اور قوموں میں کینسر کی اقسام اور تعداد مختلف ہوتی ہیں یہ مرض آج بھی نبی نوع انسان کے لئے مسائل بنا ہوا ہے یہ مرض اب ماضی کی طرح لا علاج مرض تونہیں رہا مگر اس کا علاج بہت تکلیف دہ اور طویل ثابت ہوتا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ کینسریاسرطان کی مختلف اقسام میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ان اقسام میں سر فہرست اسکن کینسر اور بریسٹ کینسر ہے جس میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے بریسٹ کینسربھی ایک تکلیف دہ بیماری ہے۔ ملیریہ..! پاکستان میں ہر سیکنڈ میں ایک بچہ ملیریا کی بیماری کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلاجاتا ہے،ملیریا جیسی معمولی بیماری بھی یہاں جان لیوا ہے۔ ذیابطیس…..! ذیابطیس ایک ایسا عالمی مسئلہ بن چکا ہے جو انسانی، سماجی اور معاشی زندگی کو متاثر کر کے انہیں تباہ کررہا ہے یہ خاموش قاتل لاکھوں انسانوں کے لیے پیغامِ اجل بن کے آتی ہے اس بیماری نے بہت سارے قابل لوگوں کا صفایا کر دیا ہے ہر دس سیکنڈ بعد ذیابطیس کے ہاتھوں ایک شخص ہاتھ دھو بیٹھتا ہے یہ انسان کواندر سے ختم کردیتی ہے،۔ تھلیسمیا......! یہ خون کی ایک مہلک بیماری ہے جو پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے ایک اندازے کے مطابق تقریباً 10ے15 افراد اس مرض میں مبتلا ہیں، یہ ایک موروثی اور مہلک مرض ہے۔ہیپاٹائٹس ……!یہ بیماری جگر کے متاثر ہونے سے ہوتی ہے ہم ہیپا ٹائٹس بی اور سی کی بات کریں تو یہ ایک ایسی بیماری ہے جو انسان کو دیمک کی طرح چپ چاپ متاثر کرتی ہے یہ بیماری متاثرہ شخص کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتی ہے۔پاکستان میں ان تمام بیماریوں کی جڑ اور اُمل امراض غربت کو ہی دیا جا سکتا ہے۔





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved