تازہ ترین  

پی ایس ایل سیزن 5، بے ربطگی و بوریت سے بھرپور اوپننگ سرمنی
    |     1 month ago     |    سپورٹس
پاکستان کرکٹ کی تاریخ میں آج بلاشبہ ایک بہت بڑا دن ہے کیونکہ چار سال کے انتظار کے بعد پاکستان سپر لیگ کی مکمل طور پروطن واپسی ہو چکی ہے تاہم جتنا بڑا یہ موقع تھا ، جتنا بڑا یہ دن تھا ، اس دن اور موقع کا استقبال بھی شایانِ شان طریقے سے ہونا چاہیئے تھا ۔ نیشنل کرکٹ سٹیڈیم کراچی میں پی ایس ایل سیزن 5کے افتتاحی میچ کی اوپننگ سرمنی کا انعقاد کیا گیا ۔ یہ پہلی بار تھا کہ جب ایونٹ کی اوپننگ پاکستان میں ہوئی ۔ افتتاحی تقریب کیلئے کافی دنوں سے تیاریاں کی جا رہی تھیں ۔ نیشنل کرکٹ سٹیڈیم میں لگاتار ریہرسلز چل رہی تھیں اور تاثر یہی غالب تھا کہ رنگارنگ تقریب کی صورت میں ایونٹ کا افتتاح دھماکے دار اور شایانِ شان ہو گا ۔ اوپننگ سرمنی کو دلکش و خوبصورت بنانے کیلئے پی سی بی نے پاکستان کے نامور شوبز ستاروں کی خدمات لینے کے علاوہ تقریباً ڈھائی گھنٹوں پہ مشتمل اس تقریب پر 21کروڑ روپے کی خطیر رقم خرچ کر ڈالی لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود تقریب کے رنگ پھیکے نظر آئے ۔
کسی شے میں دلچسپی و انہماک برقرار رکھنے کیلئے تسلسل کا ہونا ضروری ہوتا ہے ۔ تسلسل کی بے شمار خوبیاں ہیں ، تسلسل ہمیں بور نہیں ہونے دیتا، اکتاہٹ سے دور رکھتا ہے ، تسلسل بہت سی گزری باتوں کو یاد رکھنے کا مفید ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ بھی تسلسل کے بہت سارے فوائد ہیں تاہم جہاں مقصد ہو لطف اندوز ہونے کا یا پھر زمانے کو تفریح فراہم کرنے کا تو وہاں تسلسل کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے ۔ تفریح اسی وقت تک دلچسپ و دلفریب رہتی ہے جبکہ اس میں تحریک اور ربط قائم ہو ۔ جونہی تحریک و ربط ٹوٹنے لگتا ہے ، تفریح کے رنگ بھی ماند پڑ جاتے ہیں۔ چنانچہ پی ایس ایل 5کی اوپننگ سرمنی میں تسلسل کا فقدان نظر آیا ۔ پرفارمنسز بہت ساری تھیں لیکن ترتیب ناپید تھی ۔ ایک پرفارمنس کے بعد طویل وقفہ دیا جاتا ۔ اس کے علاوہ مینجمنٹ کی کمزوریاں بھی صاف عیاں تھیں۔ میزبان کو معلوم ہی نہیں تھا کہ اس نے کب ، کہاں اور کیا بات کرنی ہے؟ گمان یہی ہے کہ میزبان کو کھلی آزادی دی گئی تھی کہ وہ جیسے چاہے اس تقریب کو نمٹا دے ۔ نیز ایک ٹیکنیکل ایشو یہ بھی سامنے آیا کہ جس ٹیم کے مالک یا کپتان کا نام لیا جاتا تھا ، اس کی بجائے دوسری ٹیم کے کپتان یا مالک پہ کیمرہ فوکس کر دیا جاتا یعنی کیمرہ مینوں کو شاید یہ بھی ازبر نہیں کروایا گیا کہ کون سی ٹیم کون سی وردی میں ملبوس ہے اور کون سے کھلاڑی کا کیا نام ہے۔
پرفارمرز کافی سارے بلوا لیے گئے لیکن وقت تھوڑا دیا گیا ۔ سجاد علی کی پرفامنس اچھی اور پرجوش تھی لیکن انہیں غالباً تین منٹس بعد ہی اشارہ کر کے روک دیا گیا، جو شاید انہیں بھی برا لگا ۔ ابرار الحق نے بھی جوشیلے گانوں کے ذریعے تماشائیوں کا لہو گرمایا تاہم آئما بیگ اور دیگر کی برفارمنس نے بوریت کے رنگ ہی بھرے ہاں مگر پی ایس ایل 5کا ٹائٹل سانگ جس میں عارف لوہار ، علی عظمت اور دیگر شامل تھے ، نے جوش پیدا کیا ، اس کے بعد فائر ورکس کا نظارہ بھی آنکھوں کو بھلا محسوس ہوا ۔ بہرحال افتتاحی تقریب عدم تسلسل اور بے ربطگی کی بنیاد پہ بوریت سے بھر پور تھی ۔ نیشنل کرکٹ سٹیڈیم کراچی کھچا کھچ تماشائیوں سے بھرا ہوا تھا البتہ تقریب تماشائیوں کو وہ تفریح فراہم نہ کر سکی جو کرنی چاہیئے تھی۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ تھے ، انہوں نے شائقین سے خطاب بھی کیا ۔ اس کے علاوہ پی سی بی چیئر مین احسان مانی اور ایچ بی ایل کے سی ای او نے بھی گفتگو کی ۔ تمام ٹیموں کے مالکان اوربیشتر کے کپتان نیشنل کرکٹ سٹیڈیم کراچی میں موجود تھے ۔ساری اوپننگ سرمنی کے دوران غالباً تماشائی اس لمحے خوش ہوئے جب پشاور زلمی کے کپتان ڈیرن سیمی کا نام لیا گیا اور ان پہ فوکس کیا گیا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں ڈیرن سیمی کے چاہنے والے ہزاروں ہیں اور جب بھی پی ایس ایل کو پروان چڑھانے والوں کا نام لیا جائے گا ۔ ان میں کیربین جزیروں کے کامیاب کپتان ڈیرن سیمی کا نام بھی سرِ فہرست آئے گا کیونکہ سیمی نے پی ایس ایل کو پرموٹ کرنے اور اس کیلئے کام کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ سو ہم بھی یہی درخواست کرتے ہیں کہ ڈیرن سیمی کیلئے اعزازی پاکستانی شہریت کی درخواست جو صدرِ پاکستان کی میز پر پڑی ہے ، اس پہ جلد سے جلد دستخط کیے جائیں تاکہ محبتوں کے سفیر اور سراپا مسکراہٹ ڈیرن سیمی جلد پاکستان کے شہری بن سکیں۔
اوپننگ سرمنی کہ جس کے کافی چرچے تھے کوئی رنگ نہ جما سکی تاہم چلتے چلتے گزشتہ روز ہونے والی پی ایس ایل سیزن 5کی ٹرافی کی تقریبِ رونمائی بارے میں بھی کچھ بات کر لی جائے تو کوئی مضائقہ نہ ہو گا ۔ پی سی بی کی جانب سے پاکستان کے سب سے بڑے کھلاڑی سکواش کے بادشاہ جہانگیر خان کو یہ عزت بخشی گئی کہ وہ پی ایس ایل سیزن 5کی ٹرافی کی رونمائی کریں ۔ ہاں پی سی بی کو سابق لیجنڈری کرکٹرز کو بھی اس میں شامل کرنا چاہیئے تھا تاہم جہانگیر خان پہ تنقید سمجھ سے بالاتر اور نا قابلِ قبول ہے ۔ جہانگیر خان سکواش کے وہ فاتح کھلاڑی ہیں کہ جن کے بنائے ریکارڈز آج تک دنیا کا کوئی دوسرا سکواش پلیئر نہیں توڑ پایا ۔ جس قدر جہانگیر خان کی وجہ سے ملک و قوم کا نام روشن ہوا ، اس کے بدلے میں یہ قوم اور اس ملک سے وابستہ حکومتیں اپنے اس لیونگ لیجنڈ کو وہ خراج نہ دے سکیں ، جو دینا چاہیئے تھا ۔ چنانچہ ٹرافی کی تقریب رونمائی کو لے کر جہانگیر خان اور پی سی بی پہ تنقید کرنا عبث ہے۔ ہاں مگر پی سی بی کو چاہیئے کہ اگر اوپننگ سرمنی کا ”تکلف“ پورا نہیں کیا جا سکتا تو بہتر ہے کہ سیدھا میچ سے آغاز کر دیا جائے کیونکہ دو ڈھائی گھنٹے شائقین کے صبر کا امتحان لینا اور بے ربط پرفارمنسز دکھانا فقط شائقین کے صبر کا امتحان لینے کے مترادف ہے ۔ امید ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اس پہ توجہ دیتے ہوئے ، اس میں بہتری لانے کی کوشش کرے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
EMail: amwaheed1987@yahoo.com





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved