تازہ ترین  

ڈویلپمنٹ گولز 2030۔۔۔۔!
    |     1 month ago     |    کالم / مضامین
ابتدائے آفرینش سے لے کر عہدِ حاضر تک زندگی ہر لمحہ تبدیلی کا نام ہے،زمانہ حجر سے دورِ جدید تک کا سفر اگرچہ سہل نہیں،بنی نوعِ انسان کی شب وروز کی محنت شاقہ کا نتیجہ ہے اور انسان قدم قدم کامرانیوں کے پہاڑ سر کرنے پر دادوتحسین کا مستحق ضرور ہے کہ اللہ کی احسن تخلیق نے کس طرح قدرتی آفات سے لے کر طبی مسائل کو وسائل کارآمد میں اس طرح تبدیل کیا کہ اگر محض ایک صدی قبل کا انسان خفتگانِ کج تنہائی سے بیدار ہو کردنیا کے کسی بھی مدینہ جدید میں آنکلے تو مجھے یقین ِ واثق ہے کہ وہ دنیا کی ترقی کو دیکھ کر ورطہ حیرت سے پھر سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔نت نئی ایجادات،اختراعات،روزافزوں ٹیکنالوجی کی بدلتی صورت حال نے پوری دنیا کو بدل کر رکھ دیا ہے۔لیکن ان سب سے باوجود ہم کلی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ دنیا نے مسائل کے عفریت پر قابو پا لیا ہے،ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔کیونکہ جب سے یہ کائنات بنی ہے میرا ذاتی خیال اور تاریخ کی کتب کے علاوہ تاریخی کھنڈرات سے بھی پتی چلتا ہے کہ دنیا ہمیشہ سے ہی دوحصوں میں منقسم رہی ہے یعنی ایک طبقہ اشرافیہ کا اور دوسرا غربا کا،ایک پرتعیش زندگی گزارنے والے اور دوسرے ان امرا کی خدمت گزاری کے لئے،اگر یہ سلسلہ ازمنہ قدیم سے ہی چلتا آرہا ہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ عصرِ حاضر میں دنیا ان مسائل سے دوچار نہ ہو۔
اس سلسلہ میں اقوام متحدہ نے 2015میں سترہ ایسے مسائل کی نشاندہی کی ہے کہ کم از کم دنیا کے ہر ملک کو ان بنیادی قسم کے مسائل پر زیادہ سے زیادہ قابو پاخوش حال معاشرہ اور فلاحہ مملکت کے قیام میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔اس منصوبہ کا نام اقوام متحدہ نے Sustainable Development Goal,s 2030 کانام دیا ہے۔ان مسائل کی نشاندہی کا مقصد ہرگز یہ نہیں ہے کہ ایسے ممالک جن میں یہ سترہ مسائل جنم پزیر ہیں یا جن ممالک کا ان مسائل سے واسطہ ہے ان کے اندر کسی قسم کی احساسِ محرومی کا پیدا کرنا ہے بلکہ اقوام متحدہ سے مل کر ایسے ممالک کو ان مسائل سے نکلنے کی ترغیب اور مدد دینا ہے۔کیونکہ دنیا جیسے جیسے ترقی کرتی جا رہی ہے مسائل کی اسی شدت سے بڑھتے جا رہے ہیں اگر ہم ایک سیل فون کی اہمیت وافادیت کی بات کرتے ہوئے اس کے مسائل کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کروانا چاہیں تو اس مین شائد کسی کو بھی رتی برابر شک نہیں ہوگا کہ اس چند انچ کے آلہ نے رشتوں کو ایک دوسرے سے دور کردیا ہے اور نوجوان نسل میں ایسی ایسی اخلاقی برائیوں کو جنم دیا ہے کہ شائد آنے والی چند دہائیوں میں معاشرہ سے اخلاقیات کا جنازہ نکل جائے۔
اقوام متحدہ نے جن سترہ مسائل کی نشاندہی کی ہے ان میں سرفہرت جو مسئلہ ہے وہ غربت وافلاس کا ہے جس کا شکار ہر ترقی پزیر ملک کے ساتھ ساتھ تیسری دنیا کے اکثر ممالک ہیں۔اقوام متحدہ کے ایک سروے کے مطابق سات سو ملین افراد خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ دنیا کی دس فیصد آبادی غربت وافلاس کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں،اس کی بہت سی وجوہات ہیں جس پر کسی اور کالم میں قلم اٹھاؤں گا۔ان شا اللہ،
SGD,s کا دوسرا بڑا مقصد دنیا میں بھوک کو کم سے کم سطح پر لے کر آنے کی کوشش کرنا ہے اور اس کے لئے غذا کی بہتر پیداوار اور اس کا مناسب استعمال شامل ہے کیونکہ جب تک کسی بچہ کو متوازن غذا نہیں میسر ہوگی اس میں بہت سی طبی کمزوریاں رہ جائیں گی جس کا مقصد یہ ہے کہ آنے والا کل اس ریاست کا محفوظ نہیں ہے۔ایک اندازے کے مطابق 821 ملین افرادنامناسب غذا کی وجہ سے غیرمناسب صحت اور بالیدگی کا شکار ہیں یعنی ہر 9 میں سے ایک فرد مناسب بالیدگی کے حصول سے بہت دور زندگی گزار رہا ہے،اس کی سب سے بڑی وجہ ماحول کو درپیش خطرات ہیں کیونکہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے گلیشئرز پگھل کر سیلابوں اور زمینوں کی زرخیزی میں کمی کا باعث بن رہے ہیں۔اس طرح زرخیز زمین اور قابل کاشت اراضی کے علاوہ فی ایکڑ پیداوار میں بھی کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔جب ملک میں فی ایکڑ پیداوار میں کمی آئے گی تو یقینا افراد کو مناسب خوراک کی دستیابی ممکن نہیں ہو پائے گی۔اچھی صحت کا براہ راست تعلق معیاری خوارک سے ہوتا ہے۔اقوام متحدہ کی کوشش ہے کہ ہر ملک اپنے قدرتی وسائل کو استعمال میں لاتے ہوئے ملکی زرعی پیداوار میں اضافہ کو ممکن بنائے تاکہ افراد معیاری خوارک کے حصول سے صحت مند زندگی بسر کر سکیں.صحت اور خوارک کے تعلق میں اگر توازن نہ رکھا جائے تو کسی بھی ملک میں شرح اموات،شرح امراض اور دورانِ زچگی زچہ وبچہ کی اموات میں اضافہ باعث تشویش تک پہنچ جاتا ہے جو کسی طور بھی فلاحی ممالک کے لئے قابل برداشت نہیں ہوتا۔
اقوام متحدہ کا یہ بھی پروگرام ہے کہ اگر کسی ملک کو ترقی کی منازل طے کرنا ہے تو اسے معیار تعلیم کی طرف خاص توجہ دینا ہوگی۔کیونکہ تعلیم جینے کے سلیقے سے لے کر تہذیبی ترقی میں بھی ممدومعاون ثابت ہوتی ہے۔جو ممالک تعلیمی ترقی میں پست رہ جاتے ہیں وہ معاشی اور معاشرتی ترقی میں بھی اپنے آپ کو آخری سطروں میں کہیں پاتے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق 226 ملین بچے ابھی بھی سکولز سے باہر ہیں اور بائیس فیصد پرائمری سکولز سے ہی رفو چکر ہو جاتے ہیں۔Sustainable Development Goal,s مقصد تعلیمی سہولیات ہر بچہ تک بہم پہنچائی جائے تاکہ مستقبل میں وہ ایک مفید شہری کے طور پر ملک وقوم کی خدمت ادا کر سکے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تیسری دنیا کے ممالک خاص کر تعلیمی میدان میں بہت سے ممالک سے اس قدر پست کیوں رہ گئے ہیں۔میرے خیال میں تعلیمی پستی کی کئی وجوہات ہیں جن میں قابل ذکر پیشہ ورانہ اساتذہ کی کمی،غربت،معیاری سہولیات کا نہ ہونا،معیاری خوراک اور صحت کا فقدان،سکولز کی کمیابی،معیاری عمارت کا نہ ہونا،خاندانی قدامت پسندی وغیرہ چنداں چیدہ چیدہ مسائل ہیں جن کی وجہ سے غریب ممالک تعلیم میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں،ان تمام مسائل کے پس پردہ ایک ہی حقیقت ہے کہ تھالی میں کچھ نہیں ہے،جب پلیٹ بھری ہوگی تو پھر چھوٹے چھوٹے مسائل خود ہی حل بھی ہوجاتے ہیں،کیونکہ کہا جاتا ہے کہ افلاس تمام برائیوں کی جڑ ہے،اسلئے اقوام متحدہ کی یہ بہت بڑی کوشش ہے کہ جڑ کو سوکھنے سے بچایا جائے اگر تعلیمی جڑ شاداب ہوگئی تو درخت بھی ہرا بھرا ہوگا۔
ایک اور اہ مسئلہ کی طرف بھی اس پراجیکٹ میں بطور خاص توجہ دی گئی ہے جس کے بارے میں غریب ممالک بہت کم توجہ دیتے ہیں وہ ہے صاف پانی،سیوریج سسٹم اور گندہ ماحول۔یہ سب ایسے مسائل ہیں جو انسانی صحت پر مضر اثرات براہ راست ڈالتے ہیں لیکن ان مسائل کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی۔اقوام متحدہ ماحول کو بچانے اور صاف پانی کی دستیابی کے لئے بہت سے ممالک میں کام کررہا ہے۔کیونکہ خیال یہ ہے کہ پانی کو بچا کر زندگیوں کو بچایا جا سکتا ہے۔اور ماحول کو صاف ستھرا کر کے نہ صرف بنی نوع انسان بلکہ زمینی وبحری حیات کو بھی زندگی بخشی جا سکتی ہے۔اگرچہ ان مسائل کے حل اور کامیابی کا سوفیصد نتیجہ حاصل تو نہیں کیا جا سکتا لیکن ہرممکن کوشش سے اسے کم سے کم تو کیا جا سکتا ہے۔مذکور مسائل کے حل اور ان میں کمی کی غرض سے ہی پاکستان بھی اس پروگرام کا حصہ ہے اور اس سلسلہ میں پاکستانی کی کاوشیں بھی قابل تحسین ہیں۔کیونکہ پاکستان ایسا ملک ہے جس میں حکومت کے ساتھ ساتھ ایسے کارِ خیر کے لئے عوام بھی ہمہ وقت مستعد وتیار ملے گی۔اگرچہ ہنوز دلی دور است ہے تاہم 2030 تک پہنچنے کے لئے ابھی دس سال پڑے ہوئے ہیں اور اگر قومیں چاہیں تو معاشی انقلاب کے لئے دس سال بہت ہوتے ہیں۔پاکستان صاف پانی،روزگار کی فراہمی،سیوریج سسٹم،غربت کے خاتمہ کے لئے بہت سے پروگرامز،انفراسٹکچر اور تعلمی ترقی پر کام کررہا ہے پھر بھی ہمیں نئی نسل کو خوش حال پاکستان دینے کے لئے مزید دن رات ایک کر کے ہی دم لینا ہوگا۔ان شااللہ۔





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved