تازہ ترین  

چائے،کافی اور لسّی ۔۔۔۔۔!
    |     1 month ago     |    کالم / مضامین
قطرمیں مقیم اپنے ایک گورے دوست سے پوچھا کہ آپ کافی اور چائے ہی پیتے ہو مشروب پنجاب لسی کیوں نہیں پیتے تو اس نے بڑا ہی ُمسکت جواب دیا کہ لسی اس لئے نہیں پیتا کہ اسے پی کر ”پی ہوئی“لگتی ہے۔اور چائے،کافی اس لئے کہ اس سے ”چڑھی ہوئی“اتر جاتی ہے۔کہتے ہیں کہ جب برصغیر پاک وہند سے گورے رخصت ہو رہے تھے تو ایک سادہ لوح دیہاتی نے انہیں چائے کا کپ دیتے ہوئے کہا کہ صاحب اسے بھی ساتھ لے جاؤ،its not my cup of tea کہہ کر گورا چائے تو یہیں چھوڑ گیا لیکن ہماری”چاہ“اپنے ساتھ لے گیا۔اسی لئے ہمارے ہاں اب چائے تو وافر ملتی ہے مگر”چاہ“خال خال ہی دستیاب ہے۔پنجاب میں تو مہمان کی آمد کا فون بھی آجائے تو گھر میں پہلی باندازِ شہنشاہی گونجنے والی آواز یہی ہوتی ہے،چائے کی کیتلی چولہے پرچڑھا دو ملتان سے پھوپھو کا خاندان آرہا ہے،چائے اور پان،مدینۃ الاولیا ملتان کی ایسے ہی پہچان ہے جیسے گرد وگرما،گداگر وگورستان۔ملتان میں کھاتے پیتے گھرانہ کا اسے سمجھا جاتا ہے جو پان سگریٹ اور چائے ایک ساتھ کھا تا اور پیتا ہو۔
چائے پینے کی تہذیب یہ ہے کہ اگر پہلے کپ کے بعد اگر دوسرا چائے کا کپ بھی آجائے تو سمجھ جائیں مہمان خاص ہے لیکن یہ خیال رہے کہ اگر تیسرے کپ کا بھی پوچھ لیا جائے تو خود ہی شرم محسوس کرتے ہوئے سمجھ جائیں کہ یہ جگہ اب آپ کے رہنے کے قابل نہیں رہی۔
چائے اور لسی پاکستان میں سب سے زیادہ پئے جانے والے مشروب ہیں،لسی کی خوبصورتی اس کے رنگِ ابیض میں ہے،لسی کا رنگ اگر سویدائی ہوتاتو چائے کی ”لیلیٰ“کہلاتی۔رنگ معکوس کی بنا پر اب چائے اور لسی میں اینٹ کتے کا بیر ہے اور لسی اپنے شمائل ومحاسن کی بنا پر اینٹ ہے۔لسی واحد مشروبِ مشرق ہے جسے پیا اور کھایا جا سکتا ہے،پتلی ہو تو لسی،گاڑھی ہو تو ”ادھ رڑکا“۔میرا دوست ایوب لسی کے دو گلاس اس دن پیتا ہے جب لمبی تان کر سونے کو دل کرتا ہو۔ویسے بھی پاکستان میں ”سونا“سب سے مہنگا اور”سوجانا“سب سے سستا ہے۔جسے پوچھو کہاں جا رہے ہو جواب ملے گا سونے جا رہا ہوں اور کیا کرنے جا رہے،ابھی تو سو کر اٹھا ہوں۔لسی اتنا طاقتور مشروب ہے کہ پینے کے بعد گاہک کا دل کرتا ہے اسی دکاندار سے اتنی دیر تک لڑتا رہوں جب تک وہ لسی کے پیسے نہ معاف کردے۔یہ لسی کی طاقت کا نتیجہ ہے کہ میرے گاؤں کی مٹیاریں انگلی سے خاوند اور ”مُکے“سے بھینس کو بٹھا دیتی ہیں۔کبھی کبھار تو عالم طاقت میں ایک ”گھسُن“بندے کو بھی لگ جاتا ہے۔
پنجاب میں تو یہ بات اکھان ہے کہ ”گاہل کڈ کے لڑائی تے پانی پا کے لسی“جتنا چاہیں بڑھالو۔کچھ کم ظرف تو گاڑھی لسی پی کر بھی ایسے ہی جھول رہے ہوتے ہیں جیسے”ام الخبائث“پی رکھی ہو۔کہتے ہیں زیادہ لسی پینے سے دماغ ماؤف ہوجاتا ہے،گوجرانوالیے اور لاہوریے اپنے پاؤں پہ چل کے آرہے ہوں تو سمجھ جائیں لسی پی رکھی ہے اور اگر کسی سے جھگڑا کر رہے ہوں تو جان لیجئے ”پی“ رکھی ہے۔گوجرانوالہ کے لوگ تو جس صبح لسی نہ پئے گھر سے نہیں نکلتے اسی لئے اکثر گھر سے باہر ہی رہتے ہیں۔اور لاہوریوں کی صبح کا آغاز اگر چائے سے نہ ہو توسمجھ جائیں آج کام سے چھٹی۔اس لئے اکثر چھٹی پر ہی رہتے ہیں۔پنجاب میں بزرگوں کے بعد سب سے زیادہ احترام چائے اور لسی کا کیا جاتا ہے اس لئے بزرگوں کے بعد سب سے زیادہ لسی،چائے کا ہی پوچھا جاتا ہے۔شہروں میں چائے اور دیہاتوں میں لسی ہردم تیار ملتی ہے۔شہروں میں تو اب بزرگ حضرات دلہن دیکھنے جائیں تو جہیز کا سوال بعد میں کرتے ہیں پہلے پوچھتے ہیں بچی کو چائے بنانا آتی ہے۔پنجاب کی مٹیاریں اب دوکاموں میں مہارت حاصل کرتی جا رہی ہیں چائے بنانا اور الوبنانا،مردوں نے بھی دوشیزاؤں کے ہاتھوں الوبننے کو ایک فیشن سا بنا لیا ہے،اس لئے ہر گھر میں کوئی درخت ملے نہ ملے دو تین الو ضرورملیں گے۔ان کی خاص پہچان یہ ہے کہ وہ اپنی یا کسی اور کی بیوی کے سامنے آنکھیں یوں بند کئے رکھتے ہیں جیسے کبوتر بلی کو دیکھ کر۔اگر کبھی گھر کا پرانا بزرگ غیرت جگانے کو کہہ دے کہ”بڈھی دے تھلے لگیا اے“تو جوان ذرا نہیں گھبراتا بلکہ الٹا مذاق اڑاتا ہے کہ بابا جی،جیسی سردی باہر پڑ رہی ہے ناتھلے لگن وچ ای نگھ(گرمی)اے۔
لسی کی تاثیر چونکہ ٹھنڈی ہوتی ہے اس لئے شاعر حضرات اور”باریک لوگ“اس سے پرہیز ہی کرتے ہیں،کہیں ایسا نہ ہو کہ لسی پی کر ٹھنڈ پڑ جائے اور مذکور حضرات ٹھنڈ سے ہی ہمیں داغِ مفارقت دے جائیں۔لسی پی کر باریک لوگوں کو نہ جگت آتی ہے اور نہ ہی شاعر”بحر“میں آتے ہیں۔شاعر تولسی پی کر ایسے جھول رہے ہوتے ہیں جیسے بے وزن غزل۔لسی سے بچنے کے لئے شاعروں نے ہر بڑے شہر میں ایک ٹی ہاؤس کھول رکھا ہے تاکہ لسی کی پہنچ سے دور رہا جا سکے۔کہتے ہیں ٹی ہاؤس میں جو ”پی“کر لکھنے کا مزہ ہے وہ لسی میں کہاں۔ایک دوست شاعر سے میں نے لسی نہ پینے کی وجہ پوچھی تو کہنے لگے کیونکہ اس میں سوڈا نہیں ملایا جاتا۔ہمارے شاعر چائے بھی اکیلی نہیں پیتے،سگریٹ ضرور ساتھ میں پیتے ہیں۔ویسے بھی کوئی ساتھ نہ ہو تو پینے کا مزہ ہی نہیں ہوتا۔اسی دوست شاعر کا یہ بھی کہنا ہے کہ چائے کے ساتھ سگریٹ نوشی اور مزید”نوشی“شاعری میں وجدان اور شاعر میں ہیجان لاتی ہے۔مشاعرہ سے قبل اگر ایسے ہی پوچھ لیا جائے کہ جناب پئیں گے تو فورا جواب آئے گا کہ حضور بن پئے غزل میں وزن اور بندہ ناچیز بحر اور لہر میں کب آتا ہے۔اس لئے جن شعرا کی غزل میں وزن اور بحر نامکمل ہو سمجھ جائیں ”بن پئے“ہی لکھی ہے۔کہتے ہیں شاعر کچا پکا ہو تو ئے،پختہ ہوجائے تو چاہ اور کہنہ مشق تب تک نہیں بنتا جب تک کہ ”پینے کی مشق“نہ ہو۔
چائے کی ساتھ ساتھ بہت سے لوگ کافی کے بھی شوقین ہوتے ہیں وہ کافی تب تک نہیں پیتے جب تک کافی(بہت زیادہ) نہ ہو۔جو بلیک کافی پینے والے حضرات کافی پی رہے ہوں تو لگتا ہے کافی پی نہیں بلکہ سن رہے ہیں۔چائے اور بچہ کے لئے مشکل امتحان تب ہوتا ہے جب پورے کا پورا بسکٹ یا مکمل رس چائے کے کپ میں گر جائے۔لہذا کسی بھی تقریب میں عزت بچانی ہو تو چائے میں بسکٹ ڈبو کر نہ بی جائے۔محفل میں اگر آپ چاہتے ہیں کہ دوسروں کی نظروں میں نہ گریں تو بسکٹ کو چائے کے کپ میں گرنے سے بچایا جائے۔کیونکہ کشش ثقل کی طرح چائے کی کشش بھی ہر بیکری پراڈکٹ کو ”آئیٹم سانگ“کی طرح اپنی طرف کھینچتی ہے۔ہم پاکستانی تو یہ چاہتے ہیں کہ لسی ہو کہ چائے،بس ”چاہ“سے خالی نہ ہو۔میٹھے کے بنا لسی اور چاہ کے بغیر چائے ہمیں ”چاہِ یوسف“ہی لگتی ہے۔





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved