تازہ ترین  

شغار۔۔۔(نظم)۔
    |     1 month ago     |    شعر و شاعری
رات کا جنگل بات کے الاو سے بھر گیا
سائے ہی سائے۔۔۔۔۔،
ذات کی ویرانیاں آباد کرتے کونوں کھدروں سے نکل آئے
جنگل کے درمیان ٹیلا
ٹِھیکروں، کنکروں، چِیتھڑوں، سروں کے شکستہ کاسوں،
مَست سرکنڈوں اور
چپ کی درزوں سے جھانکتے جھینگروں کی بستی
جہاں دن بھر ہوا آوارہ لڑکوں کی طرح سیٹاں بجاتی
اور رات کوشغاروں کی دہکتی آنکھوں سے ڈر کر بھاگ جاتی ہے
سورج کسی ہوا باز کی فکرمند آنکھ سے اونچے گھنے پیڑوں
کے شملوں کا لمس عقیدت کی آنکھوں سے چومتا
شرقا غربا جھومتا آسمان کا بر ماپتا
آگ تاپتا بھول جاتا ہے کہ
کھڑے ہونے والا کس کے بوتے پر کھڑا ہوگا
پیڑ اور پیر زمین کے باجگزار ہی رہیں تو
کہانی قائم رہتی ہے
ہوا میں اڑنے والے گر اس لذت سے آشنا ہو جائیں تو
زمین پر مٹی کی ایک اور ڈھیری بن جاتی ہے
ڈھیریاں ٹیلے اور ٹیلے جنگل بنتے بنتے کہانی کا الاو
روشن کر دیتے ہیں
سایہ سانس لینےاور سانس آنچ دینے لگ جائے تو
حافظہ ساتھ چھوڑنے لگتا ہے
یہاں سے آگے کہانی اکیلی جاگتی ہے
شغار کی آنکھوں میں دہکتی آگ کے اندر





Comments


There is no Comments to display at the moment.



فیس بک پیج


اہم خبریں

تازہ ترین کالم / مضامین


نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

     
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved