اشتہارات
ویڈیوز
حقیقت خرافات میں کھو گئی
 
پانی کا فطری تقاضا ہے کہ وہ آگ بجھاتا ہے لیکن اسی پانی کے اجزائے ترکیبی کو الگ الگ کر دیا جائے اور اس طرح پانی کا ہر قطرہ ہائڈروجن اور آکسیجن میں تبدیل ہو جائے تو ان اجزائے ترکیبی کی کیفیت یہہوتی ہے کہ آگ بجھانا تو دور کی بات، ہائڈروجن خود جلتی ہے اور آکسیجن دوسری اشیاءکو جلنے میں مدد دیتی ہے۔ کوئی شے آکسیجن کی غیر موجودگی میں جل نہیں سکتی۔اسی طرح جب دین اسلام الگ الگ ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا تو اس کے دونوں ٹکڑوں یعنی حکومت اور مذہب میں سے کسی میں دین اسلام کی خصوصیات باقی نہ رہیں بلکہ ان ٹکڑوں کی خصوصیات دین اسلام کی ضد بن گئیں۔دین اسلام وحدت پیدا کرنے والا تھا، ملوکیت، بادشاہت جمہوریت اور مذہب نے ملت کو فرقوں گروہوں یا مختلف سیاسی پارٹیوں کے حمایتیوں میں بدل دیا اور یہ قانون خداوندی سے اعتراض برتنے کا فطری نتیجہ ہے جسے عذاب الہٰی کہا جاتاہے۔سورة 6 آیت 65 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان سے کہہ دیجئے خدا کا قانون اس بات پر قا


قطری پورٹ کو کراچی پورٹ سے منسلک کیا جارہا ہے، وزیراعظم عمران خان
 
وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ قطری پورٹ کو کراچی پورٹ سے فیری کے ساتھ منسلک کیا جارہا ہے، بندرگاہوں کے رابطوں سے یقینا پاکستان کی قطر کو برآمدات میں 73 فیصد اضافہ متوقع ہے چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل غنیم بن شاہین نے وزیر اعظم ہاؤس میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں وزیر دفاع پرویز خٹک اور سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ بھی تھیں اور دو طرفہ فوجی تعاون بڑھانے سے متعلق معاملات، خطہ میں امن و امان کے استحکام پر تبادلہ خیال اور پاک قطر باہمی مفادات پر مبنی تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ کراچی پورٹ کے متعلق خصوصی گفتگو ہوئی- عمران خان کا کہنا تھا کہ مسلم ممالک کو درپیش چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے یکجہتی کی ضرورت ہے۔ عمران خان نے کہا کہ قطرکی جانب سے ایک لاکھ پاکستانیوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور مزدور و محنت کشوں کے لیے کراچی اور اسلام آباد میں دفاتر کھولنے پر قطر کے شکرگزار ہیں۔خان صاحب کا


پانی بیچنے والی کمپنیوں سے ایک روپیہ فی لیٹر وصولی کا حکم
 
سپریم کورٹ نے پانی بیچنے والی تمام کمپنیوں سے لیویز کی مد میں ایک روپیہ فی لیٹر وصول کرنے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بینچ نے زیرزمین پانی نکالنے کے حوالے سے کیس کی سماعت ہوئی جس میں سپریم کورٹ نے صاف پانی بیچنے والی کمپنیوں کے پانی کا معیار چیک کرنے کے لیے کمیٹی بنا دی اور تمام صوبوں کو صاف پانی بیچنے والی کمپنیوں سے ایک روپیہ فی لیٹر وصولی کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ اگر یہ ایک روپیہ فی لیٹر نہیں دے سکتے تو کمپنیاں بند کرکے گھر چلے جائیں۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ پانی بیچنے والی کمنیاں زیر زمین پانی کو خشک کررہی ہیں ہم آنے والی نسلوں کو پانی سے محروم نہیں کرسکتے۔ آنے والی نسلیں پانی مانگیں گی تو ہم کیا جواب دیں گے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا مزید کہنا تھا کہ پانی بیچنے والی کمپنیاں اربوں کما رہی ہیں ، کسی کے منافع کے لیے قوم کو پیاسا نہیں مرنے دوں گا۔ چیف جسٹس میاں ثا


حقیقت خرافات میں کھو گئی
 
پانی کا فطری تقاضا ہے کہ وہ آگ بجھاتا ہے لیکن اسی پانی کے اجزائے ترکیبی کو الگ الگ کر دیا جائے اور اس طرح پانی کا ہر قطرہ ہائڈروجن اور آکسیجن میں تبدیل ہو جائے تو ان اجزائے ترکیبی کی کیفیت یہہوتی ہے کہ آگ بجھانا تو دور کی بات، ہائڈروجن خود جلتی ہے اور آکسیجن دوسری اشیاءکو جلنے میں مدد دیتی ہے۔ کوئی شے آکسیجن کی غیر موجودگی میں جل نہیں سکتی۔اسی طرح جب دین اسلام الگ الگ ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا تو اس کے دونوں ٹکڑوں یعنی حکومت اور مذہب میں سے کسی میں دین اسلام کی خصوصیات باقی نہ رہیں بلکہ ان ٹکڑوں کی خصوصیات دین اسلام کی ضد بن گئیں۔دین اسلام وحدت پیدا کرنے والا تھا، ملوکیت، بادشاہت جمہوریت اور مذہب نے ملت کو فرقوں گروہوں یا مختلف سیاسی پارٹیوں کے حمایتیوں میں بدل دیا اور یہ قانون خداوندی سے اعتراض برتنے کا فطری نتیجہ ہے جسے عذاب الہٰی کہا جاتاہے۔سورة 6 آیت 65 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان سے کہہ دیجئے خدا کا قانون اس بات پر قا


اپنا شمار تھوڑی ہے
 
  اپنا شمار تھوڑی ہے معجزے ہوا کرتے ہیں اسی دنیا میں پر ایسوں میں اپنا شمار تھوڑی ہے جن کے لوٹنے کی مانگتے تھے دعا وہ چلے تو آئے ہیں اب یہ آہ کس لیے زخم دنیا بھی رکھتی ہے ہرے سارا دارومدار انہی پر تھوڑی ہے سینچ کر رکھتے ہیں ہم غم بھی اپنے مجال جو بانٹیں،اتنے سخی تھوڑی ہیں سوچتا ہوں وہ آ کر سب ٹھیک کر دیں پر وہ اللہ دین کا چراغ تھوڑی ہیں ہاں کہیں تو صحیح گر نہ کر دیں تو خفا آپ بھی کمال ہو ،ہم مشین تھوڑی ہیں دوسروں پر اٹھاتی ہے انگلی دنیا ایسے جیسے بھول گئی ہو ،خود انسان تھوڑی ہے اکثر غلطی کر ہی جاتے ہیں، معاف کیجئے گا انسان ہیں ،خطاکار ہیں،فرشتہ تھوڑی ہیں اہل زبان تو ہمیشہ سے ہی راج کرتے ہیں دلوں پر پر ان میں آس ہم سے زبان دراز تھوڑی ہیں ۔


فیس بک جنریشن (طنز و مزاح)
 
۔اپنی کلاس کے(بطور ٹیچر ایک ادارے میں کام کرتا ہوں)ایک ممی ڈیڈی بچے سے پوچھا کہ"آپ کے پاپا کیا کرتے ہیں"تو شرماتے،لجاتے،لچکاتے ہوئے گویاہوا کہ "سر پاپا وہی کرتے ہیں جو مما کرواتی ہیں"۔۔۔۔۔اور پاپا؟۔۔۔"جی پاپا وہی کرتے ہیں جو مما چاہتی ہیں۔"۔۔۔اور مما کیا چاہتی ہیں۔۔۔۔وہ کیا چاہیں گی سر "مما تو خود پاپا کی چاہت ہیں".ایسے بچوں کو,F B generation yuppy بچے بھی کہتے ہیںیعنی جو بات سمجھ نہ آئے اس پہ yup,yup اور سمجھ آ جائے تو waooo ۔انہیں she بچے بھی کہا جا سکتا ہے۔کیونکہ یہ ہر بات پہ "she,she" یا "سی،سی " کہہ رہے ہوتے ہیں۔کبھی کبھار تو یہ" سی "کہتے نہیں بلکہ نکل جاتی ہے۔ایسے بچوں کا کوئی اور فا ئدہ ہو نہ ہو خرچہ بہت کم کرواتے ہیں۔بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ ایک بہن کے ساتھ ایک ممی ڈیڈی بچہ مفت میں پرورش پا جاتا ہے۔کہ ماسوا "انڈرگارمنٹس" کے ہر شے باجی کی استعمال شدہ اپنے استعمال میں لے آتے ہیں۔اور تو اور باجی کے جھمکے تک پہن کر جھمک جھمک اور ٹھمک ٹھمک کے سے اند


عشق میرارفیق ہے شاہد
 
پاکستان ایسوسی ایشن قطر کا میں دو حوالوں سے تا زیست ممنون رہونگا ۔ایک مجھ ایسے گمنام شخص کو نطقِ اظہار کے لئے پلیٹ فارم مہیا کیا اور دوسرا بہت سے مخلص دوستوں سے متعار ف کروایا۔ان احباب کی فہرست میں شاہد رفیق ناز میرے دل کے بہت قریب اس لئے ہے کہ عہدحاضر کے منافقت سے بھر پور رویوں کے بحیروں میں، سچ کی ناﺅ کو خلوص کے پتواروں سے ،دوہرے معیار سے دورایسے ماجھی کی طرح روانی سے چلائے جا رہا ہے جس کے پیش نظر نہ صرف خود کو پار لگانا ہے بلکہ ہمسفروں کو بھی ان جزیروں تک پہنچانا ہے جہاں انس و انسانیت کے عنبر و ریحان کے کوہِ عظیم ان کے منتظر ہوں۔شاہد رفیق ناز پاکستان سے دور بسنے والی ادبی بستیوں میں سے ایک ادبی بستی جسے ارد و ادب کی سب سے بڑی بستی خیال کیا جاتا ہے یعنی دوحہ قطر کا مقیم ہے۔قطر کی مردم خیز زمین پر رونما ہونے والے ادبی معرکوں کا عینی شاہد اور یارِ طرح دار کا رفیق بھی ہے۔جس پہ بلا شبہ جتنا بھی ناز کیا جائے کم ہے۔میں نے نجماًنجماً ج


ماما ماما مجھ کو بچا لو
 
ON KASUR INCIDENT August 2017ننھا سا پیارا سا بچہ رات کے پچھلے پہر میں ڈر کراٹھ کر بیٹھ گیا ہےماما ماما .....مجھ کو بچا لومجھ کو کنویں میں لٹکا دیں گےکاٹن کا جو کرتا ماما پیار سے آپ نے سی کے دیا ہے اس کو داغ لگا دیں گے پھر مجھ کو جھنجھوڑیں گے پھر مجھ کو تڑپا دیں گے ماما ماما ........مجھ کو چھپا لو جلادوں سے مجھ کو بچا لو ماما ماما بات سنو نا میں اسکول نہیں جاؤں گا دوست میرے طعنے دیں گے کیسے پڑھوں گا کیسے بڑھوں گا روشن نام میں کیسے کروں گا ماما میرا جرم بتاؤ جس کی سزا میں نے پائی ہے اب تو ہر اک سانس میں جیسے رسوائی ہی رسوائی ہے  ماما یہ حاکم سے پوچھو کب حالات اچھے ھوں گے کچھ تو وہ اقدام کریں گے ان کے بھی تو بچے ھوں گے؟؟؟عابد عمر


سب سے بڑا سچ
 
آنکھ بند ہو اور آدمی افسانہ ہو جاۓ ۔۔۔۔۔!"نہیں! یہ نہیں ہو سکتا۔ ابھی کل ہی تو میری فرح سے بات ہوئی تھی۔ وہ بالکل ٹھیک ٹھاک تھی۔ اب اچانک یہ۔۔۔۔تم پاگل ہو گئی ہو کیا۔۔۔۔ مومنہ تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ خبر دینے سے پہلے تصدیق تو کر لیا کرو" وہ فرح کی موت کی خبر سُن کر ابھی تک بے یقینی کی کیفیت میں تھی کہ مومنہ کی اگلی بات سن کر اسے نہ چاہتے ہوے بھی یقین کرنا ہی پڑا ۔۔۔۔۔ "میں اس کی میت کے پاس بیٹھی ہوں اور کیا تمہیں تصدیق چاہییے "۔۔۔۔۔ الفاظ تھے کہ ایٹم بم جو کہ اس کی سماعتوں سے ٹکرا رہے تھے اور ریسیور اس کے ہاتھ سے گرتا چلا گیا۔۔نٹ کھٹ سی فرح کی عمر ہی کیا تھی ابھی صرف اکیس برس۔۔۔ ابھی تو اس کے کھیلنے کودنے کے دن تھے۔ اس کی بہن کی بابت معلوم ہوا کہ کل اس کی طبیعت خراب ہوئی تو ہسپتال لے جایا گیا۔ چیک اپ کرنے پر پتا چلا کہ کہ اس کو تو پرانی شوگر ہے جس کی پہلے کبھی تشخیص نہیں ہوئی تھی اور اس وقت شوگر لیول کافی ہائی تھا وہ زندگی اور موت کی


پاکستان شوبز انڈسٹری کا معیار پہلے سے بہت بہتر ہو ا ہے؛ماہ نور
 
پاکستان شوبز انڈسٹری کا معیار پہلے سے بہت بہتر ہو ا ہے؛ماہ نور ہمارے صوبے اپنی رسم ورواج اور ملبوسات کی وجہ سے اپنی ایک الگ پہچان رکھتے ہیں لاہور(باؤ جی)پاکستان شوبز انڈسٹری کا معیار پہلے سے بہت بہتر ہو ا ہے اس میں نئے پڑے لکھے نوجوان کا بھی اہم کرادار ہے ان خیالات کا اظہار فلم،ٹی وی اور سٹیج کی نامور اداکارہ ماہ نور نے یونی ویژن نیوز سے کیا ،انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستانی سینما کا معیار بھی دن بدن بہترہورہا ہے جو فلم انڈسٹری کیلئے بہت اچھا ہے ہمارے چاروں صوبے اپنی رسم ورواج، میوزک ، بولیوں اور ملبوسات کی وجہ سے اپنی ایک الگ پہچان رکھتے ہیں اس لئے جب ہم اپنے ملک یا دنیا کے کسی بھی خطے کی کہانی کواپنی فلم یا ڈرامے میں پیش کرتے ہیں توضروری ہوجاتا ہے کہ ہم وہاں کا کلچر بھی دکھائیں، فلموں ،ڈراموں میں حقیقت کے رنگ بھرنے کے لئے جس طرح کہانی اورکردارکا مضبوط ہونا ضروری ہوتا ہے ، اسی طرح ان کرداروں کے مطابق اگران کے ملبوسات بھی تیارک


پروگرام نمبر 176 بعنوان ادبی تنقید کے اہداف
 
رپورٹ شمس الحق لکھنوی ہندوستانThe international organization ادارہ، عالمی بیسٹ اردو پوئٹری عالمی منفرد پروگرام نمبر 176 بعنوان *ادبی تنقید کے اہداف* بروز ہفتہ شام سات بجے منعقد ہوا یہ پروگرام کئی وجہ سے یادگار پروگرام رہا ایک تو ابھی تک ادارے کے سارے پروگرام برائے تنقید ہوا کرتے تھے اور یہ پروگرام خود تنقید کے عنوان پر منعقد جسکو خاکسار *شمس الحق لکھنوی* نے آرگنائز کیا اور نظامت کے فرائض *ضیا شادانی* بھارت نے انجام دیے پروگرام کا آغاز صابر جاذب لیہ پاکستان کی خوبصورت نعت پاک سے ہوا*بلکتے اشک نہیں ہیں فضول آنکھوں میں* *مہک رہے ہیں عقیدت کے پھول آنکھوں میں* اسکے بعد پروگرام اپنے مقصد اصلی کی جانب گامزن ہوا جہاں پر تنقید سے متعلق علمی سوال اور جواب دیے گئے سوال نامہ جناب *ارشاد خان ممبرا* نے تیار کیا جسکے جواب ادارے کے معتبر شاعر ادیب جنکی شاعری میں اقبالی استدلال اور الفاظ میں غالبیت کوٹ کوٹ کر بھری ہے جو فن پر زبردست قدرت کے ساتھ لغت کے بھی ما


ناممکن سے ممکن تک کا سفر۔۔۔!
 
مانیہ سکوڈوسکا ایک شرملی لڑکی جسے دنیا مادام کیوری کے نام سے جانتی ہے کی کہانی جو حالات کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ عطا کرتی ہے اور جینے کا ہنر سکھاتی ہے ۔دنیا کی نامور ترین خاتون سائنس دان جس کو کسی زمانے میں سردی سے بچنے کیلئے رات کو اپنے اوپر کتابوں کا ڈھیر رکھنا پڑتا۔میں کتاب پڑھ رہی تھی کہ اچانک میرے دھیان کاغذ پر لکھے ایک نام پر گیا جس نے میرے ذہن کو اپنے حصار میں لے لیا اور مجھے تخیل کی دنیا میں کئی سال پیچھے لے گیا ۔جہاں مادام کیوری جس کا شمار دنیا کی ان چند خواتین میں ہوتا ہے جو تاریخ میں زندہ جاوید ہوگئیں ، پہلی مرتبہ جسے سائنس میں خدمات کے عوض دو مرتبہ نوبل پرائز دیا گیا ایک مرتبہ 1903 میں فزکس میں نمایاں کام سرانجام دینے پر اور پھر 1911 میں کیمسٹری میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر۔حقیقتا اگر جوانی میں پولینڈ کا خوشحال گھرانا اس کی بےعزتی نہ کرتا تو وہ نہ سائنس دان بنتی اور نہ ہی ریڈیم دریافت کر سکتی . واقعہ دراص


محمد علی ، برطانوی تاریخ میں پہلا ڈائیبیٹک باکسر
 
آج میں ایک ایسے عظیم انسان کی بات کرنے جا رہا ہوں جس نے انتھک محنت سے نہ صرف ذیابیطس کو ہرایا بلکہ مسلسل جدوجہد سے برٹش باکسنگ بورڈ کو بھی مجبور کردیا کہ وہ انہیں پروفیشنلی فائٹ کرنے کے لیے لائسنس دیں۔ محمد علی پاکستانی نژاد برطانوی باکسر ہے اور ان کے والدین کا تعلق ضِلع لیہ کی تحصیل کروڑ لعل عیسن سے ہے۔ ‬‎علی نے 2015 میں باکسنگ لائسنس کے لیے اپلائی کیا تھا لیکن برٹش باکسنگ بورڈ نے ذیابیطس کی وجہ سے انہیں لائسنس دینے سے انکار کر دیا کیونکہ اس وقت بورڈ کے قوانین کے مطابق کوئی بھی ڈائیبیٹک باکسر ، پروفیشنل لائسنس حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ محمد علی نے تجربہ کار ٹیم کی مدد سے باکسنگ بورڈ کو چیلنج کیا اور اچھے دوستوں کے ساتھ مل کر فیصلے کے خلاف پرامن احتجاج کیے اور بالآخر بورڈ کو انہیں لائسنس دینا پڑا۔ محمد علی نے دوسرے ڈائیبیٹک باکسرز کے لیے بھی دروازے کھول دیئے ہیں۔محمد علی پانچ سال کی عمر میں ٹائپ ون ڈائیبیٹیز کا شکار ہوے اور انہ


فیس بک پیج

ہیلتھ آرٹیکلز

مقبول ترین

تعارف / انٹرویو

دلچسپ و عجیب

اسلامی و سبق آموز

نیوز چینلز
قومی اخبارات
اردو ویب سائٹیں

ویڈیوز
اشتہارات

آپکی بات ڈاٹ کام آپ کی اپنی ویب سائٹ ہے ، ہمارے ساتھ رہنے کا شکریہ
تمام اشاعت کے جملہ حقوق بحق ادارہ آپکی بات محفوظ ہیں۔
Copyright © 2018 apkibat. All Rights Reserved